ملکی سیاسی صورتحال اور بجٹ کے حوالے سے اندیشوں اور توقعات کے باعث پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں گزشتہ ہفتہ اتار چڑھاؤ کے بعد تیزی رہی

سرمایہ کاری مالیت میں60ارب53کروڑ36لاکھ روپے روپے سے زائد کا اضافہ جبکہ حصص کی لین دین کے لحاظ سے کاروباری سرگرمیاں محدود رہیں

اتوار اپریل 17:00

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 اپریل2018ء) ملکی سیاسی صورتحال اور بجٹ کے حوالے سے اندیشوں اور توقعات کے باعث پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں گزشتہ ہفتہ اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہا لیکن مجموعی طور پر تیزی کے اثرات غالب رہے اور کے ایس ای100انڈیکس میں 283.44پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیاجب کہ مارکیٹ کی سرمایہ کاری مالیت 60ارب53کروڑ36لاکھ روپے کے اضافے سی93کھرب91ارب51 کروڑ24لاکھ61ہزار517روپے ہو گئی البتہ حصص کی لین دین کے لحاظ سے کاروباری سرگرمیاں محدود رہیں۔

پاکستان اسٹاک ایکس چینج کی ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق 23تا27اپریل پر مشتمل کاروباری ہفتے کے پہلے روز پیرکو سرمایہ کاروں کی جانب سے محتاط طرز عمل اپنایا گیا جس کے نتیجے میںاتارچڑھائو دیکھنے میں آیا لیکن مجموعی طور پر تیزی غالب آگئی اورکے ایس ای 100 انڈیکس112.62 پوائنٹس اضافے سی45371.96پوائنٹس کی سطح پر آگیاجب کہ حصص کی خریداری کا رجحان بڑھنے کے سبب51.94فیصد حصص کی قیمتوں میںاضافہ ریکارڈ کیا گیا جس سے مارکیٹ کی سرمایہ کاری مالیت میں35ارب2 کروڑ روپے سے زائدکااضافہ ہوا البتہ حصص کی لین دین کے لحاظ سے کاروباری حجم جمعہ کی نسبت21.80 فیصدکم رہااسی طرح منگل کو بھی تیزی کا رجحان برقرار رہا اورکے ایس ای 100 انڈیکس 504.74 پوائنٹس اضافے سی45876.70پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا جب کہ حصص کی خریداری میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑھنے کے باعث 63.10فیصد حصص کی قیمتوں میںاضافہ ریکارڈ کیا گیا جس سے مارکیٹ کی سرمایہ کاری مالیت میں83ارب15 کروڑ روپے سے زائدکااضافہ ہوااور حصص کی لین دین کے لحاظ سے کاروباری حجم بھی پیر کی نسبت36.99 فیصدزائدرہا۔

(جاری ہے)

تاہم دوروزہ تیزی کے بعد بدھ کومندی چھاگئی اورکے ایس ای 100 انڈیکس کی45800کی نفسیاتی حد سے گرتے ہوئے 158.36پوائنٹس کمی سی45718.34پوائنٹس کی سطح پر آگیاجب کہ حصص کی فروخت کا دباؤ بڑھنے کے باعث60.30فیصد حصص کی قیمتوں میںکمی ریکارڈ کی گئی جس سے مارکیٹ کی سرمایہ کاری مالیت میں23ارب97 کروڑ روپے سے زائدکی کمی ہوئی البتہ حصص کی لین دین کے لحاظ سے کاروباری حجم منگل کی نسبت17.12 فیصدزائدرہا اسی طرح خواجہ آصف کی نااہلی اور وفاقی بجٹ کے حوالے سے غیر واضح صورتحال کے باعث سرمایہ کار تذبذب کا شکار ہوئے اور انہوں نے حصص کی خریداری کے بجائے فروخت کو ترجیع دی جس کے نتیجے میںکے ایس ای 100 انڈیکس کی45700،45600اور45500کی نفسیاتی حدیں گر گئیں اور انڈیکس 257.47پوائنٹس کمی سی45460.87پوائنٹس کی سطح پر آگیا جب کہ58.01فیصد حصص کی قیمتوں میںکمی ریکارڈ کی گئی جس سے مارکیٹ کی سرمایہ کاری مالیت میں49ارب2 کروڑ روپے سے زائدکی کمی ہوئی اور حصص کی لین دین کے لحاظ سے کاروباری حجم بھی بدھ کی نسبت5.75 فیصدکم رہا ۔

کاروباری ہفتے کے آخری روز جمعہ کو بھی غیر معمولی اتار چڑھائو دیکھنے میں آیا لیکن دور روزہ مندی کے نتیجے میں منافع بخش حصص کی قیمتیں نچلی سطح پر آنے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خریداری کی گئی جس سے ریکوری آئی اور تیزی کے اثرات غالب رہنے سے کے ایس ای 100 انڈیکس81.91پوائنٹس اضافے سی45542.78پوائنٹس کی سطح پر آگئی جب کہ50.26فیصد حصص کی قیمتوں میںاضافہ ریکارڈ کیا گیا جس سے مارکیٹ کی سرمایہ کاری مالیت میں15ارب35 کروڑ روپے سے زائدکااضافہ ہوا جب کہ حصص کی لین دین کے لحاظ سے کاروباری حجم بھی جمعرات کی نسبت31.97 فیصدزائدرہا ۔

اسٹاک تجزیہ نگاروں کے مطابق بجٹ پیش ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کے خاتمے اور قدرے مثبت اقدامات کے پیش نظر آئندہ ہفتے کے آغاز پر سرمایہ کاروں کی جانب سے مثبت ریسپانس کا امکان ہے ۔

متعلقہ عنوان :