تعلیم اور صنعتی شعبے میں ہونے والی ترقی ہی صوبہ کی اصل ترقی ہے، گورنرسندھ

ان سے ملک کی مجموعی معاشی ترقی میں مدد ملتی ہے اس ضمن میں نجی شعبے کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا،محمدزبیر حکومت صنعتی ترقی کے لیے کام کررہی ہے جس کی بہترین مثال تھر ہے،گورنرہائوس میںگرین کریسنٹ کے چیئرٹی ڈنر سے خطاب

اتوار اپریل 17:20

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 اپریل2018ء) گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا ہے کہ تعلیم اور صنعتی شعبے میں ہونے والی ترقی ہی صوبہ کی اصل ترقی ہے، کیونکہ ان سے ملک کی مجموعی معاشی ترقی میں مدد ملتی ہے،ملک میں ترقی کی رفتار کو تیز کرنے کے لیے حکومت صوبہ میں صنعتی ترقی کے فروغ کے اقدامات کررہی ہے اس ضمن میں نجی شعبے کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا، اس کا سہرانجی شعبے میں کام کرنے والے مزدوروں کو جاتا ہے جن کی کاوشوں سے ہی صنعتوں کا پہیہ ترقی کی راہ پر تیزی سے گامزن ہے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہاوس میں گرین کریسنٹ ٹرسٹ کے سالانہ چیئرٹی ڈنر کے موقع پر خطاب میں کیا جس کا مقصد ٹرسٹ کے تحت دوردراز علاقوں میں چلنے والے 800سے زائد فلاحی منصوبوں کے لیے عطیات جمع کرنا تھا۔

(جاری ہے)

گورنرسندھ نے مزید کہا کہ کچھ دنوں میں صوبائی حکومت نیا بجٹ پیش کرنے جارہی ہے، میں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ اس آنے والے بجٹ میں جتنا ممکن ہوسکے تعلیم اور صنعتوں کے فروغ کے لیے رقوم مختص کریں۔

محمد زبیر کا کہنا تھاکہ حکومت صنعتی ترقی کے لیے بڑھ چڑھ کر کام کررہی ہے، جس کی بہترین مثال تھر ہے جہاں پہلی بار ملک کی بہترین کمپنیاں کوئلہ سے توانائی کی پیدوار کے لئے کام کررہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ آج تھر کی صورتحال پہلے سے یکسر مختلف اور بہتر ہے اور اس کا سہرا وہاں کام کرنے والی نجی اور غیر سرکاری اداروں کو جاتا ہے جو وہاں تعلیم کے ساتھ صحت کی بہترین خدمات فراہم کرنے کے لیے سہولیات مہیا کررہے ہیں۔

اس مو قع پر انھوں نے گرین کریسنٹ ٹرسٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گرین کریسنٹ ٹرسٹ تھر میں تعلیم کے ساتھ صاف پانی کی فراہمی جیسے منصوبے کامیابی سے چلا رہاہے، ان کی مدد کے بغیر وہاں کے لوگوں کو پانی جیسی زندگی کی اہم ضرورت تک کی دستیابی میں مشکلات کا سامنا تھا۔ اس موقع پر گرین کریسنٹ ٹرسٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر زاہدسعید نے بتایا کہ ٹرسٹ نے اپنے کام کا آغاز 1995میں فلاحی کاموں سے کیا،زاہد سعید نے بتایا کہ گرین کریسنٹ ٹرسٹ کے زیر اہتمام کراچی سمیت سندھ کے دیگر شہروں میں چلنے والے 153سے زائد اسکولوں میں 29ہزار سے زائد بچے زیور تعلیم سے آراستہ کیے جارہے ہیں، یہ اسکول ان علاقوں میں بنائے گئے ہیں جہاں لوگوں کو حصول تعلیم کے لیے کوئی سہولت میسر نہیں تھی، انھوں نے شرکاء کو بتایا کہ گرین کریسنٹ ٹرسٹ کے اسکولوں میں زیرتعلیم بچوں کے والدین میں زیادہ تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو ناخواندہ ہیں۔

زاہد سعید نے کہا کہ اس ڈنر کا مقصد ٹرسٹ کے تحت اسکولوں میں زیرتعلیم 29ہزار سے زائد طلبہ و طالبات کوتعلیم فراہم کرنااور تھر کے 600سے زائد دیہاتوں میں صاف پانی کی فراہمی کو جاری رکھنا ہے،جبکہ ہمارا عزم ہے کہ 2020کے اختتام تک ہمارے اسکولوں میں زیرتعلیم طلبہ کی تعداد ایک لاکھ ہوجائے گی اور ہم تھر کے 2300دیہاتوں میں صاف پانی کی فراہمی کو ممکن بنادیں گے جس کے لیے کم و بیش 80کروڑ روپے سے زائد سالانہ کی لازمی ضرورت ہے،اس حوالے سے سیکڑوں کی تعداد میں دیگر کاروباری اور صنعتی اداروں کا تعاون حاصل ہے۔

اس موقع پر انھوں نے بھرپور مالی تعاون فراہم کرنے پر سندھ ایجوکیشن فاونڈیشن کو بھی سراہا۔اس موقع پر معروف صنعتکار سردار محمد یاسین نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ تھر میں شروع کئے گئے صاف پانی اور زراعت کے لیے موجود کھارے پانی جیسے اقدامات پر بھرپور توجہ مرکوز رکھے ورنہ علاقے میں موجود بنجر زمینوں کی تعداد میں اضافہ ہوجائے گا۔اس موقع پر گرین کریسنٹ ٹرسٹ کے مٹھی کے اسکول کے بچوں کی جانب سے ٹیبلو بھی پیش کیا گیا، جسے وہاں بیٹھے شرکاء خصوصا گورنر سندھ محمد زبیر نے سراہا۔اس مو قع پر صوبائی وزیرپلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ سعید غنی، ایف پی سی سی آئی کے صدر غضنفر بلور اور دیگر نمایاں شخصیات سمیت کاروباری اور شعبے سے وابستہ شخصیات موجود تھے۔