ملک میں تعلیمی معیار کی بہتری اور تعلیمی اداروں سے اخراج روکے جانے کے لئے بنیادی سہولیات کی فراہمی سمیت مختلف اقدامات کی سفارشات

اتوار اپریل 18:30

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 اپریل2018ء) ملک میں تعلیمی معیار کی بہتری اور تعلیمی اداروں سے اخراج روکے جانے کے لئے بنیادی سہولیات کی فراہمی، ایجوکیشن منیجر اور پرنسپلز کے لئے علیحدہ کیڈر، خواتین اساتذہ کی تعداد بڑھانے، تعلیمی بجٹ میں اضافے، دیہی علاقوں میں خواتین اساتذہ کی تعیناتی بڑھانے، موجودہ پرائمری سکولوں کو لوئر سیکنڈری سکول میں اپ گریڈ کرنے کی سفارشات دی گئی ہیں۔

(جاری ہے)

سالانہ منصوبہ 2018-19ء میں تعلیم کی بہتری، سکولوں میں بچوں کے داخلے بڑھانے اور بچوں کے سکول چھوڑنے کی روک تھام کے لئے سفارش کی گئی ہے کہ والدین کیلئے آگاہی مہم شروع کی جائے تاکہ وہ اپنے بچوں بالخصوص بچیوں کو تعلیم کے لئے سکولوں میں بھیجیں، سیکورٹی کے اقدامات کو مزید بڑھایا جانا چاہیے۔ انفراسٹرکچر کی ترقی کے ذریعے سکولوں کے درمیان فاصلہ کم کیا جائے، سکول میں حاضری سے سوشل پروٹیکشن پروگرامز کو مربوط کیا جائے۔ ورکنگ چلڈرن کے لئے فلیکسیبل سکول آورز متعارف کرائے جائیں۔ رسمی تعلیم کے ساتھ ہنرمندی کی تربیت دی جائے جن علاقوں میں شرح خواندگی کم ہے ان میں بجٹ بڑھایا جائے، ارلی چائلڈ ہڈ ایجوکیشن کو ریگولر کیا جائے۔

متعلقہ عنوان :