میانمار: شمالی ریاست میں کشیدگی خطرناک حد تک شدت اختیار کر گئی،ہزاروں افراد ہجرت کرنے پر مجبور ہیں،اقوام متحدہ

اتوار اپریل 19:20

ینگون(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 اپریل2018ء) میانمار کے شمالی علاقے میں فوج اور باغیوں کے درمیان ہونیوالی جھڑپوں کے نتیجے میں ہزاروں افراد اپنے گھروں کو چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں منتقل ہوگئے ہیں۔عالمی نشریاتی ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے حوالے سے قائم ادارے (او سی ایچ ای) کے سربراہ مارک کٹس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ چین کی سرحد سے متصل شمالی ریاست کوچین سے گزشتہ تین ہفتوں کے دوران 4 ہزار سے زائد افراد علاقہ چھوڑ گئے ہیں‘ہمیں مقامی افراد سے اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ کشیدگی سے متاثرہ علاقے میں تاحال کئی افراد پھنسے ہوئے ہیں’۔

مارک کٹس کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں اس وقت سب سے گہری تشویش وہاں پر موجود حاملہ خواتین، کم سن بچوں اور معذروں سمیت تمام شہریوں کے تحفظ کے حوالے سے ہے اور ہمیں ان کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے’۔

(جاری ہے)

او سی ایچ اے کی جانب سے تاحال ہلاکتوں کے حوالے سے کوئی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔واضح رہے کہ میانمار کی ریاست رخائن میں گزشتہ برس نسلی فسادات پھوٹ پڑے تھے اور ہزاروں مسلمانوں کے قتل عام کے بعد روہنگیا تنازع سامنے آگیا تھا اور اب ملک کے شمالی علاقوں میں ایک اور نئے تنازع نے جنم لیا ہے۔

یاد رہے کہ میانمار میں مقامی بدھسٹ کی جانب سے فوج کے تعاون سے روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا تھا اور مسلمانوں وہاں بنگلہ دیش ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے تھے جبکہ عالمی سطح پر روہنگیا تنازع پر شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا تھا۔۔میانمار کی فوج نے رواں سال اعتراف کیا تھا کہ فوجی روہنگیا مسلمانوں کے قتل میں ملوث تھے۔۔میانمار کے آرمی چیف من آنگ ہلانگ کے دفتر سے جاری بیان میں لاکھوں مسلمانوں کے قتل عام کے بعد پہلی مرتبہ فوج کے ملوث ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ میانمار کی سیکیورٹی فورسز گزشتہ سال ستمبر میں 10 روہنگیا مسلمانوں کے قتل میں ملوث تھیں۔

بیان میں روہنگیا مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ 'انڈن گاؤں سے تعلق رکھنے والے چند افراد اور سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے 10 بنگالی دہشتگردوں کو ہلاک کرنے کا اعتراف کیا ہی'۔