بین الاقوامی کانفرنس میں مقبوضہ کشمیر کو ایجنڈے میں شامل نہ کرنے پر وزیر مملکت نے سیکرٹری اور ڈی جی سے وضاحت مانگ لی

کانفرنس پر خرچ ہونے والے تین کروڑ کے اخراجات اور سال بھر میں کیے جانے والے دیگر اخراجات کی تفصیلات طلب، تحقیقات کرانے کا مطالبہ

اتوار اپریل 19:20

اسلام آبا د (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 اپریل2018ء) وزیر مملکت بیرسٹر عثمان ابراہیم نے وزارت انسانی حقوق کی جانب منعقد کی جانے والی بین الاقوامی کانفرنس برائے انسانی حقوق میں مقبوضہ کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کو ایجنڈا میں شامل نہ کرنے کی وجہ سے سیکرٹری رابعہ جویری آغا اور ڈائیریکٹر جنرل کامران اعظم خان سے وضاحت طلب کرلی گئی، متعلقہ افسران کی طرف سے کانفرنس پر خرچ ہونے والے تین کروڑ کے اخراجات اور سال بھر میں کیے جانے والے دیگر اخراجات کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے تحقیقات کرانے کا مطالبہ ۔

وزارت میں موجود افسران کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کیلئے کیس نیب کو بھیجے جانے کا امکان۔وزارت انسانی حقوق کی جانب سے رواںسال ، فروری 19-21 کو انسانی حقوق کے متعلق بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس پرتقریباّ تین کروڑ خرچ کیے گئے مگر اس کانفرنس میں کشمیر میں قابض بھارتی افواج کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو ایجنڈے میں شامل نہیں کیاگیا ۔

(جاری ہے)

آن لائن کو موصول ہونے والے دستاویزات کے مطابق وزیر مملکت بیرسٹر عثمان ابراہیم نے اسکی وضاحت طلب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ رواں سال فروری میں منعقد کی جانے والی بین الاقوامی کانفرنس مکمل طور ناکام رہی اورقوم کے تین کروڑ روپے ضائع کیے گئے۔ انہوںنے متعلقہ افسران سے اس بات کی وضاحت طلب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس کانفرنس میں کشمیریوں کے بنیادی حقو ق کی خلاف ورزیوں اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی جانب سے کیے جانے والے مظالم کو دانستہ طور پر شامل نہ کرکے مغربی ممالک کے ایجنڈے کو پور اکیا گیا ہے۔

خط میں مزید لکھا گیا ہے کہ مسئلہ کشمیر اور کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو کانفرنس میں شامل نہ کرنا وزارت کی نااہلی ہے یا پھر دانستہ طور پر اس مسئلے کو کانفرنس کے ایجنڈے میں شامل نہیں کیا گیا۔ آن لائن کو موصول دستاویزات میں اس خدشے کا بھی اظہا رکیا گیا ہے کہ بین الاقوامی انسانی حقوق کی کانفرنس میں کشمیریوں کے حقوق کے متعلق خاموشی اختیار کرکے مغربی ایجنڈے کو پورا کیا گیا ہے، جو مظلوم کشمیریوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔

انہوںنے اس کانفرنس کے منتظمین سیکرٹری رابعہ جویری آغااور ڈائریکٹر جنرل (ڈولپمنٹ ) کامران اعظم خان سے اسکی وضاحت طلب کرتے ہوئے کانفرنس پر ہونے والے اخراجات کی تفصیلات بھی طلب کرلی ہیں۔ وزیر مملکت نے متعلقہ افسران کو ہدایت جاری کی ہے کہ کشمیر میں انسانی حقو ق کی خلاف ورزیوں کو بین الاقوامی سطح پر آواز بلند کی جائے۔ اس سلسلے میں جلد پروگرام ترتیب دیے جائیں۔ وزارت انسانی حقوق سے انتہائی اہم ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکرٹری انسانی حقوق نے وزارت میںتعیناتی کے دوران کا زیادہ عرصہ چھٹیوں پر گزارا ہے ، اور مخصوص ایجنڈے پر کام کیا گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔ شمیم محمود، نامہ نگار