جوہری پروگرام،امریکہ کا ایران پر مزید پابندیاں عائد کرنے پر زور

اتوار اپریل 19:20

واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 اپریل2018ء) امریکہ نے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر اس کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرنے پر زور دیا ہے۔ امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپے او کے ہمراہ مشرق وسطیٰ کا دورہ کرنے والے امریکی حکام کے مطابق امریکہ سعودی عرب کے خلاف حوثی باغیوں کے حالیہ حملے ایرانی خارجہ پالیسی کے خطرے کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا کہ یمن میں حوثیوں کی جانب سے گرائے جانے والے میزائل ایران نے فراہم کیے تھے اور علاقائی طاقتوں کو اس خطرے سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔ سیکریٹری خارجہ پوم پے او سنیچر کو ریاض پہنچے تھے جہاں انھوں نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے عشائیے میں شرکت کی تھی اور اتوار کو ان کے والد شاہ سلمان سے ملاقات کر رہے ہیں۔

(جاری ہے)

اس کے بعد وہ اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو سے ملاقات کے لیے اسرائیل اور اردن کے حکام کے ساتھ ملاقات کے لیے عمان بھی جائیں گے۔ اس دورے کا مقصد علاقائی اتحادیوں کو ایران کے خلاف مزید پابندیوں کے لیے قائل کرنا اور صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے مجوزہ خاتمے کی تفصیلات کے بارے میں آگاہ کرنا ہے۔ خیال رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ 12 مئی کو تہران پر دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کے بارے میں فیصلہ کریں گے جس سے سنہ 2015 میں ایران کے ساتھ عالمی طاقتوں کا طے پانے والا جوہری معاہدہ ختم ہوسکتا ہے۔

بیشتر عالمی طاقتیں سمجھتی ہیں کہ اس معاہدے کے ذریعے ایران کے جوہری پروگرام کو روکا جا سکتا ہے۔ سنہ 2015 میں ایران اور مغربی ممالک کے مابین جوہری معاہدہ ہوا تھا، جس کے بعد ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں میں نرمی کی گئی تھی تاہم صدر ٹرمپ اور امریکہ کے مشرق وسطیٰ میں اتحادیوں کا موقف ہے کہ یہ معاہدہ ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے بہت کمزور ہے اور اس حوالے سے مستقل اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے خاتمے کا عندیہ دیا تھا اور اس پر دوبارہ مذاکرات کا مطالبہ کیا تھا تاہم انھوں نے واضح نہیں کیا تھا کہ ایسا کیسے ہوگا۔ یاد رہے کہ سنہ 2015 میں ایران اور مغربی ممالک کے مابین جوہری معاہدہ ہوا تھا، جس کے بعد ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں میں نرمی کی گئی تھی۔ صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ چھ عالمی طاقتوں کے جوہری معاہدے کو 'دیوانگی' قرار دیا تھا جبکہ وہ دھمکی دے چکے ہیں کہ وہ 12 مئی کو اس جوہری معاہدے کی توسیع نہیں کریں گے۔