وفاقی پولیس اور سیاسی رہنماؤں کا مبینہ گٹھ جوڑ ، اسلام آباد میں قیمتی جائیدادیں ہتھیانے اور کروڑوں کمانے کا انکشاف

وفاقی پولیس قانون کا ہیلمٹ پہن کر شہریوں کو مروانے اور جھوٹے مقدمات کے اندراج پر سبقت لے گئے متاثرہ شہری نے سابق ایم پی اے نعیم اللہ شہانی،سابق وفاقی وزیر داخلہ کے منظور نظر ایس پی ذیشان حیدر،ڈی ایس پی گولڑہ اور ایس ایچ او آبپارہ سمیت دیگر دو افراد کے خلاف قتل و اقدام قتل،قبضہ اور کروڑوں روپے ہتھیانے کا استغاثہ عدالت میں دائر کردیا

اتوار اپریل 19:21

وفاقی پولیس اور سیاسی رہنماؤں کا مبینہ گٹھ جوڑ ، اسلام آباد میں قیمتی ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 اپریل2018ء) وفاقی پولیس اور سیاسی رہنماؤں کے مبینہ گٹھ جوڑ کے پیش نظر اسلام آباد میں قیمتی جائیدادیں ہتھیانے اور کروڑوں روپے کمانے کا انکشاف ہوا ہے،وفاقی پولیس قانون کا ہیلمٹ پہن کر شہریوں کو مروانے اور جھوٹے مقدمات کے اندراج پر سبقت لے گئے،متاثرہ شہری نے سابق ایم پی اے نعیم اللہ شہانی،سابق وفاقی وزیر داخلہ کے منظور نظر ایس پی ذیشان حیدر،ڈی ایس پی گولڑہ اور ایس ایچ او آبپارہ سمیت دیگر دو افراد کے خلاف قتل و اقدام قتل،،قبضہ اور کروڑوں روپے ہتھیانے کا استغاثہ عدالت میں دائر کردیا ۔

اس طرح چیف جسٹس آف پاکستان کے سامنے لیڈیز پولیس سکینڈل کے بعد نام نہاد سیاسی رہنماؤں اور وفاقی پولیس کے مبینہ گٹھ جوڑ سے عام شہریوں کی ہلاکت اور قبضہ کے حوالے سے ایک نیا سکینڈل سامنے آگیا ہے۔

(جاری ہے)

تفصیلات کے مطابق اللہ یار ولد محمد نواز چیمہ نے استغاثہ زیر دفعہ 302/34،149،148،109،409،406اور420تعزیرات پاکستان کے مطابق دائر کرتے ہوئے استدعا کی ہے کہ نعیم اللہ خان شہانی نے پولیس کے ساتھ مبینہ گٹھ جوڑ کرکے مکان نمبر556سیکٹر F-10/2، گلی نمبر10جعلی فروخت کیا اور بعد ازاں میرے بھائی کلیم نواز کو لاہور سے بلوا کر ایس پی ذیشان حیدر کے پاس بھجوا دیا،جہاں انہوں نے ایس پی ذیشان کو 66000روپے کا موبائل فون ،5لاکھ روپے نقد ادا کئے۔

رقم وصول کرنے کے بعد ایس پی ذیشان نے انہیں ڈی ایس پی کے پاس بھیجا جہاں ایس پی ذیشان کی ایماء پر ڈی ایس پی گولڑہ کو مبلغ 9لاکھ روپے ادا کئے گئے،جس پر مذکورہ ڈی ایس پی نے ایک ایس آئی رشید احمد گجر کی وساطت سے مکان کا قبضہ دلوانے کی یقین دہانی کروائی اور نعیم اللہ شہانی نے ابتدائی طور پر 20 لاکھ روپے وصول کئے جبکہ باقی ماندہ رقم قبضہ دلوانے کے بعد طے پاگئی،تاہم نعیم اللہ خان شہانی نے پلان کے تحت مذکورہ پولیس افسران کی ایماء پر گاہے بگاہے رقم وصول کرتے رہے اور مکان نمبر556کا قابض ملک محمد ثمین خان نے 50لاکھ روپے لینے کے بعد قبضہ خالی کرنا تھا تاہم ایس پی ذیشان کے کہنے پر مذکورہ ڈی ایس پی نے میرے بھائی کلیم نواز کو فوری طور پر مکان کا قبضہ لینے کے لئے مذکورہ مکان پر بھیج دیا اور وہاں جاکر پولیس وعدہ کے مطابق نہ پہنچ سکی اور اس موقع پر ملک عمر نے اپنے غنڈوں کے ہمراہ میرے بھائی سے بقیہ ماندہ رقم 25لاکھ روپے وصول کرکے گھر سے نکالنے کی کوشش کی،توں تکرار پر ملک عمر نے اپنے والد محمد ثمین خان کے کہنے پر اپنے گن مین سے ریفل لے کر فائرنگ شروع کر دی جس سے سائل کے بھائی سر پر گولی لگی جو موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا اور پولیس نے اس کی مدعیت میں مقدمہ درج کرنے کی بجائے مقدمہ کا مدعی میرے بھائی کے دوست کو بنایا گیا تاکہ بعد ازاں صلح کروا دی جائے۔

درخواست گزار نے کہا کہ انہوں نے مذکورہ ڈی ایس پی سے درخواست کی کہ وہ مقتول کے بھائی ہیں مدعی مقدمہ ان کا قانونی و آئینی حق ہے،تاہم پولیس نے سختی سے منع کرتے ہوئے کہا کہ جو چشم دید گواہ ہوگا وہی مدعی ہوگا۔بعد ازاں میرے بھائی کے دوست کو پولیس نے پریشر میں لاکر مقدمہ اخراج کیلئے قائل کرلیا اور یوں ایس پی ذیشان نے 39لاکھ66ہزار روپے جبکہ مذکورہ ڈی ایس پی نے 20لاکھ روپے اور ایس آئی رشید احمد نے 8لاکھ کے قریب مکان کا قبضہ دلوانے کے بابت وصول کئے اور سابق ایم پی اے نعیم اللہ خان شہانی لاہور میں بیٹھ کر 20لاکھ روپے انجوائے کرتے رہے۔

ملزمان ملک ثمین کے خلاف پولیس کارروائی اس ایماء پر بھی ٹھنڈی پڑ گئی کیونکہ وہ ایم پی اے فاروق اور ایکس چیئرمین چوہدری قمرزمان اور سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے بھی قریبی رشتہ دار تھے اور ذرائع کا کہنا ہے کہ دوسری جانب ایس پی ذیشان چوہدری نثار علی خان کے منظور نظر اور لاڈلے آفیسر تصور کئے جاتے رہے ہیں۔درخواست گزار نے چیف جسٹس آف پاکستان سے التماس کی ہے کہ سابق ایم پی اے نعیم اللہ خان شہانی سمیت تمام مذکورہ پولیس افسران اسلام آباد میں قبضہ مافیا کے ساتھ مبینہ گٹھ جوڑ کرکے ان کے بھائی کو دانستہ قتل کروانے کے ذمہ دار ہیں تاکہ بعد ازاں صلح کروا کر پیسے ہڑپ کرلئے جائیں اور اسی طرح پولیس نے مقدمہ اخراج کی ایک ضمنی تیار کرکے عدالت میں بھیج رکھی ہے۔

درخواست گزار نے التجا کی ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان وفاقی پولیس اور قبضہ مافیا سمیت سیاسی رہنماؤں کے مبینہ گٹھ جوڑ کے خلاف نہ صرف کارروائی کریں بلکہ ایک دہائی سے غریب شہریوں سے قبضہ اور خریدوفروخت کی ایماء پر لوٹے گئے اربوں روپے بھی واپس دلوائے جائیں۔واضح رہے کہ آئی جی اسلام آباد ڈاکٹر اعظم تیموری نے لیڈیز پولیس اہلکاروں کے جنسی ہراساں سکینڈل کو جس پھرتی کے ساتھ دباتے ہوئے عمل پیرا تھے تو دوسری جانب ان کے بااثر پولیس افسران کا ایک اور میگاسکینڈل سامنے آگیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نگران حکومت میں ہزاروں کی تعداد میں پنجاب بھر سے وفاقی پولیس کے ستائے افراد ایک مظاہرہ بھی کریں گے،جس میں مطالبہ کیا جائے گا کہ ملک بھر کی طرح وفاقی پولیس کے افسران و اہلکاروں کے ہر دوسال بعد شہر سے باہر تبادلے ناگزیر کئے جائیں۔۔اسلام آباد کی پولیس اسلام آباد میں رہتے ہوئے نہ صرف مافیا کا روپ دھار چکی ہے بلکہ 40ہزار روپے کا ملازم کروڑوں روپے کی کوٹھیوں کا مالک بن بیٹھا ہے۔یہ فکر المیہ ہے کہ قانون کی رکھوالی پولیس قانونی ہیلمٹ پہن کر اپنی ہی عوام کو دن رات لوٹنے کا بازار گر کئے ہوئے ہے۔