چیف جسٹس پاکستان کی پولیس افسر کی سفارش کرنے پر اپنے داماد کی سرزنش

کس نے آپ کو مشورہ دیا میرے فیملی ممبر سے سفارش کرائی جاسکتی ہے، میں جہاد کر رہا ہوں اور آپ مجھے سفارش کرا رہے ہیں‘ جسٹس ثاقب نثار عدالت سے غیر مشروط معافی مانگتا ہوں ‘ ڈی آئی جی غلام محمود ڈوگر /طلب کرنے پر چیف جسٹس کے داماد خالد رحمان پیش ہوئے بتائیں آپ کو کس نے سفارش کا کہا، آپ میرے بیٹے گھر پر ہونگے یہاں چیف جسٹس پاکستان کے سامنے موجود ہیں‘ جسٹس ثاقب نثار بدمعاشی ہے بچیوں کے ساتھ فراڈ کیا جائے ‘خاتون کیساتھ ڈیڑھ کروڑ روپے کا فراڈ کرنے والے منگیتر کو کمرہ عدالت سے گرفتار کرنے کا حکم

اتوار اپریل 19:40

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 اپریل2018ء) چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے پولیس افسر کی سفارش کرنے پر اپنے داماد کو عدالت طلب کر کے سرزنش کی ،خاتون کے ساتھ ڈیڑھ کروڑ روپے کا فراڈ کرنے والے منگیتر کو کمرہ عدالت سے گرفتار کرا دیا گیا ۔۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان نے ڈی آئی جی غلام محمود ڈوگر کے بچوں کے حوالگی کیس کی سماعت کی۔

اس موقع پر جسٹس میاں ثاقب نثار نے ڈی آئی جی غلام محمود ڈوگر کی جانب سے اپنے داماد کے ذریعے سفارش کرانے پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔۔چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ کس نے آپ کو مشورہ دیا کہ میرے فیملی ممبر سے سفارش کرائی جاسکتی ہے، آپ کی جرات کیسے ہوئی میرے داماد سے مجھے سفارش کرانے کی۔جسٹس میاں ثاقب نثار نے ڈی آئی جی غلام محمود ڈوگر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے کیسے سوچ لیا کہ چیف جسٹس پاکستان کو کوئی سفارش کرے گا، میں جہاد کر رہا ہوں اور آپ مجھے سفارش کرا رہے ہیں۔

(جاری ہے)

اس موقع پر ڈی آئی جی غلام محمود ڈوگر نے کہا کہ میں عدالت سے غیر مشروط معافی مانگتا ہوں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ وہ ذرائع بتائیں جس نے آپ کو مجھے سفارش کرانے کا مشورہ دیا۔عدالت کے طلب کرنے پر چیف جسٹس پاکستان کے داماد خالد رحمان پیش ہوئے ۔ چیف جسٹس نے اپنے داماد سے استفسار کیا کہ بتائیں آپ کو کس نے سفارش کا کہا، آپ میرے داماد اور بیٹے گھر پر ہوں گے یہاں چیف جسٹس پاکستان کے سامنے موجود ہیں۔

داماد خالد رحمان نے بتایا کہ مجھے ڈی آئی جی غلام محمود ڈوگر نے سفارش کی تھی جن کا کہنا تھا کہ ان کے بیٹوں اور سابق اہلیہ کا نام ای سی ایل میں رہنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ میں چیف جسٹس سے غیر مشروط معافی مانگتا ہوں جس پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ اس کیس کی مزیدسماعت چیمبرمیں ہوگی۔یاد رہے کہ ڈی آئی جی غلام محمود ڈوگر کی سابق اہلیہ نے اپنا اور بچوں کا نام ای سی ایل میں ڈلوانے پر عدالت سے رجوع کیا تھا۔

ایک دوسری درخواست کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے خاتون کے ساتھ ڈیڑھ کروڑ روپے کا فراڈ کرنے والے منگیتر کو کمرہ عدالت سے گرفتار کرنے کاحکم دیدیا۔ایک سائل خاتون ظل ہما نے چیف جسٹس کو منگیتر کی جانب سے ڈیڑھ کروڑ فراڈ کیس کی شکایت کی تھی جس پر چیف جسٹس نے فراڈ کے ملزم کوکمرہ عدالت سے گرفتار کرنے کاحکم دیا۔

چیف جسٹس کا سی آئی اے اورایف آئی اے کودو ہفتوں میں رپورٹ پیش کرنے کاحکم دیا۔خاتون ظل ہما نے عدالت کو بتایاتھا کہ سابق منگیتر نے فراڈ سی50 لاکھ اوراس کی جائیدادہتھیالی تھی جبکہ سابق منگیتر رقم واپس کرنے کی بجائے دھمکیاں دے رہا ہے۔اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ بدمعاشی ہے کہ بچیوں کے ساتھ فراڈ کیا جائے ۔ملز م کو گرفتار کرواتے ہیں،آدھے گھنٹے میں سچ بتا دے گا۔۔چیف جسٹس کا یہ بھی کہناتھا کہ فراڈ کرنے والوں نے مذاق بنا رکھا ہے،فراڈ کرکے کبھی ہائیکورٹ آگئے کبھی سپریم کورٹ۔۔