سانگھڑ، دو ماہ میں خسرہ سے سینکڑوں بچے متاثر، کنٹرول کر نے کیلئے تاحال اقدامات نہ ہو سکے

اتوار اپریل 19:40

سانگھڑ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 اپریل2018ء) سانگھڑگزشتہ دو ماہ سے سانگھڑ اور اس کے مظافاتی علاقوں میں خسرے کی وباء پھیلی ہو ئی جسے تاحال کنٹرول کر نے کے اقدامات نہ ہو سکے رابطہ کر نے پر مقا می ایم بی بی ایس ڈاکٹر عطاء المصطفٰی کا کہنا تھا کہ دو ہفتے قبل کوندو اور بھنڈ بلوچ کے گا ئوں میں چھ بچے جانبحق ہو ئے جن میں چار سالہ نور جہاںایک سالہ رحمت اور اللہ ڈنو اڈھا ئی سالہ سجن اور الطاف جب کہ ایک سالہ دل شیر اور علی شیر شامل ہیں ڈاکٹر عطاء المصطفٰی کا مذید کہنا تھا کہ روتیانی کے قریبی گا ئوں میں محکمہ ہیلتھ کی جا نب سے خسرہ سے بچا ئو کی ویکسین بھی کرائی گئی مگر اس کے باوجود درجنوں بچے خسرہ کی وباء میں مبتلا ہیں جب کہ اموات کا سلسلہ تھم نہ سکا انھوں نے کہا کہ اگر چہ متا ثرہ علاقے میں محکمہ ہیلتھ کی جانب سے ویزٹ بھی کیا گیا ہے مگر اس علاقے پر مزید خصوصی توجہ کی ضرورت ہے ڈاکٹر عطاء المصفٰی جو کہ پرائیویٹ طور پر کلینک چلاتے ہیں مگر انسانیت کی خاطر مسلسل ان علاقوں میں جا کر فری آف کاسٹ بچوں کو چیک کر نے کے ساتھ ساتھ مقامی افراد کے تعاون سے مفت ادویات بھی فراہم کر رہے ہیں انھوں نے کہا کہ ویکسین کے عمل کے باوجود بچوں میں خسرہ کی بیماری پا ئے جانا اچھا عمل نہیں ہے جب کہ اس علاقے میں کی جانے والی ویکسین کی انکوائری کرا ئی جا ئے تا کہ ویکسین اور خسرے کی بیماری کی صحیح تشخیص ہونے کے ساتھ ساتھ ویکسین کی تصدیق ہو سکے انھوں بچوں کے والدین کو خسرہ سے بچا ئو اور اس بیما ری کی روک تھام کے لئے آگا ئی بھی دی انھوں نے کہا ہے اس علاقے میں محکمہ ہیلتھ کی جانب سے خصوسی ٹیمیں بھنجے کے فوری اقدامات کئے جائیں تا کہ بچوں کی اموات اور متا ثرہ بچوں کو ریلیف مل سکے ۔

#

متعلقہ عنوان :