اسلام آباد کے خواہشمند اقتدار کی ایکسپائری ڈیٹ قریب آتے ہی میدان میں نکل آئے،امیر حیدر خان ہوتی

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دیر ، ملاکنڈ اور سوات کے عوام نے دی ہیں،خیبر پختونخوا کو پنجاب کے برابر لانے والوں نی15سال تک اس صوبے کو یکسر نظر اندازکئے رکھا ، تبدیلی کا پول کھل گیا ہے، خزانہ خالی ہو چکا ہے اور صوبہ مالی بد انتظامی کا شکار ہے،،حکومت میں آ کر نوجوانوں کو 10لاکھ تک بلاسود قرضے فراہم کریں گے، دیر بالا میں جلسہ عام سے خطاب

اتوار اپریل 20:00

دیر،پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 اپریل2018ء) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ اسلام آباد کے خواہشمند اقتدار کی ایکسپائری ڈیٹ قریب آتے ہی اسلام کے نام پر پھر میدان میں نکلنے والے ہیں،خطرہ اسلام کو نہیں اسلام آباد کو ہے ، پانچ سال تک ایک فریق مرکز میں دوسرا صوبے میں حکومت کے مزے لوٹتا رہا اب آخری ایام میں پھر سے حکومت کیلئے اسلام کا نام لینے والے میدان میں آ گئے ہیں،دیر کے عوام باشعور ہیں اور اب وہ مزید کسی کے دھوکے میں نہیں آئیں گے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپر دیر میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا، امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دیر ، ملاکنڈ اور سوات کے عوام نے دی ہیں اور جو لوگ آج امن کا دعوی کر رہے ہیں ان میں سے کسی نے بھی سخت حالات میں دیر کا دورہ نہیں صرف اے این پی واحد جماعت تھی جو اس وقت بھی یہاں دہشت گردی کے خلاف ڈٹی رہی،انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے دور حکومت میں دیر کیلئے منصوبوں کا اعلان کیا تاہم موجودہ حکومت نے ان منصوبوں کو روک کر عوام دشمنی کا ثبوت دیا ، امیر حیدر ہوتی نے کہا کہ آئندہ انتخابات میں اگر دیر کے عوام نے اے این پی پر اعتماد کا اظہار کیا تو حقیقی معنوں میں ان کے حقوق کا تحفظ کریں گے، انہوں نے کہا کہ پنجاب سے لوگ خیبر پختونخوا آ کر ترقی دینے کے دعوے کر رہے ہیں جبکہ انہی لوگوں نے تین بار وزارت عظمی اور وزارت اعلیٰ کے باوجود ہمارے صوبے کو نظر انداز کئے رکھا ،،سی پیک کے نام پر لاہور سے ملتان موٹر وے بنائی گئی لیکن ہمارے صوبے کو جان بوجھ کر اس حوالے سے پیچھے رکھا ، اسی طرح سی پیک میں ملنے والی39ارب ڈالر پنجاب میں مہنگی بجلی پیدا کرنے پر صرف کر دیئے گئے جبکہ ہمارے صوبے میں سستی بجلی پیدا کرنے کے بیشتر مواقع موجود تھے جنہیں تعصب کی بنیاد پر مسترد کیا گیا،انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے بھی صوبے کے ساتھ امتیازی سلوک کیا لاہور سے ملتان اور کراچی تک موٹر ویز بن سکتی ہیں تو ہمارے صوبے میں پشاور سے ڈی آئی خان تک موٹر وے کیوں تعمیر نہیں ہو سکتی ،، صوبے کی مجموعی صورتحال کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ تبدیلی کا پول کھل گیا ہے خزانہ خالی ہو چکا ہے اور صوبہ مالی بد انتظامی کا شکار ہے ،انہوں نے کہا کہ صوبے کی تاریخ میں کسی حکومت نے اتنا بڑا کچکول نہیں گھمایا جتنا موجودہ حکومت نے گھمایا ہے اور صوبے کو مالیاتی اداروں کے پاس گروی رکھ کر اتنا قرضہ لیا ہے جو آنے والی کو حکومت کو چکانے کیلئے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا،،امیر حیدر ہوتی نے کہا کہ سینیٹ میں پی ٹی آئی کے ممبران نے تین تین بار اپنے ضمیروں کا سودا کیا اور کپتان نے خود قوم کے سامنے اس کا اعتراف کیا لیکن دولت کی چمک کیلئے جسے بیماری کا نام دیتے رہے اسی زرداری کی گود میں جا بیٹھے ، انہوں نے کہا کہ دوسری جماعتوں پر کرپشن کے الزامات لگانے سے پہلے عمران خان اپنی جماعت میں موجود کرپشن ختم کریں ، عوام کے ہوش کے ناخن لیں اور اپنے ساتھ دھوکہ کرنے والوں کو پہچانیں ، انہوں نے کہا کہ پختونوں سے ووٹ لے کر صوبے کے تمام وسائل پنجاب کے ووٹ بنک کیلئے لٹائے جا رہے ہیں پختون آپس میں اتحاد کا مظاہرہ کریں تو ان کے اور صوبے کے حقوق کا تحفظ اے این پی یقینی بنا سکتی ہے ،صوبائی صدر نے کہا کہ آئندہ عام انتخابات میں کامیابی کے بعد اے این پی ترقی کی سفر عوام کے تعاون سے شروع کرے گی اور نوجوانوں کو سود سے پاک دس لاکھ کے قرضے فراہم کریں گے تاکہ وہ اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں ، انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو ٹیکنیکل تعلیم کیلئے مواقع بھی فراہم کریں گے ، انہوں نے کہا کہ اے این پی کے پانچ سالہ دور کی تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے صوبے میں تمام شعبوں میں انقلابی اقدامات کئے اور تعلیم و صحت کو اولیں ترجیح دی۔