جماعت اسلامی پنجاب کے زیر اہتمام صوبہ بھر سے ضلعی امراء اور اراکین شوریٰ کا تنظیمی کنونشن کا انعقاد

جماعت اسلامی پنجاب کا میڈیکل ٹیکنیشنز،ڈسپنسرز اور لیپ اسسٹنٹ کے خلاف لئے جانے والے ایکشن پر تشویش کا اظہار

اتوار اپریل 20:00

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 اپریل2018ء) جماعت اسلامی پنجاب کے زیر اہتمام صوبہ بھر سے ضلعی امراء اور اراکین شوریٰ کا تنظیمی کنونشن متحدہ مجلس عمل پنجاب کے صدر اور امیر جماعت اسلامی پنجاب میاں مقصوداحمد کی زیر صدارت منصورہ میں منعقد ہوا۔کنونشن میں متفقہ طور پر قراردادیں منظور کی گئیں جن میں کہا گیا ہے کہ ذمہ داران جماعت اسلامی پنجاب کا یہ اجتماع حکومت پنجاب کی طرف سے میڈیکل ٹیکنیشنز،ڈسپنسرز اور لیپ اسسٹنٹ کے خلاف لیے جانے والے ایکشن پر تشویش کا اظہار کرتاہے۔

برس ہابرس سے گورنمنٹ کے بنیادی مراکز صحت میں جہاں پر اکثرجگہوں پرڈاکٹرتعینات نہیں ہیں اور اگر ہوں بھی تو صرف صبح کے چند گھنٹوں کے لیے وہاں غریب عوام کو علاج معالجہ کی سہولت ہے جوکہ پیرامیڈیکل ملازمین کررہے ہیں۔

(جاری ہے)

اسی طرح جو ڈلیوری سنٹرزبنائے ہیں وہاں کوئی لیڈی ڈاکٹرزاور گائناکالوجسٹ ہی نہیں ہیں۔وہاںبھی پیرامیڈیکل سٹاف گورنمنٹ کی ناک کے نیچے کام کررہے ہیں۔

معاشرہ میں ڈاکٹرز کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔یہ ڈسپنسرز وغیرہ چھوٹے چھوٹے کلینک پر لوگوں کو دوا،دارو اور ایمرجنسی میں دفع درد ٹیکہ وغیرہ لگا دیتے ہیں اور مناسب طریقہ پر عام بخار وغیرہ کی دوائی دیتے ہیں۔آج غریب آدمی کے اندر ڈاکٹرز کی فیس دینے کی استعداد نہیں ہے جبکہ پیرامیڈیکل سٹاف کم رقم میں مسئلہ حل کردیتے ہیں۔ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس ایکشن کو فوری طور پر روکا جائے تاکہ عام غریب آدمی علاج کی سہولت سے محروم نہ رہے۔

شرکائے کنونشن کئی روز سے میڈیکل سٹورزمالکان کی طرف سے ہڑتال کے نتیجہ میں عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ پرشدیدتشویش کااظہارکرتے ہیں۔حکومت کی پالیسی کے نتیجہ میں عام آدمی بے حد پریشان اور مشکلات کا شکار ہے۔بیمار افراد' دواسے محروم ہیں۔ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مذکورہ بالامسائل پر فوری طور پر غور کرے اور ایسے اقدامات اٹھائے جس کے نتیجہ میں پیرامیڈیکل سٹاف اور میڈیکل سٹورز مالکان اور عام فرد کی پریشانی کا خاتمہ ممکن ہو۔

دریں اثنا جماعت اسلامی پنجاب کے تنظیمی کنونشن میں منظور کی گئی دوسری قرارداد میں کہاگیا ہے کہ احسن سعید ڈھلوں نائب امیر جماعت اسلامی سٹی ڈسٹرکٹ سرگودھا کے خاندان کے ساتھ بہت بڑاحادثہ پیش آیا۔30مارچ کی شام تقریباً9بجے ان کے اپنے گائوں44جنوبی سرگودھاکے بالکل قریب اٴْن کی فیملی کار پر ڈاکوئوں نے حملہ کیا۔سیدھی فائرنگ کرکے ان کے گیارہ سالہ بچے عبدالرحمان جو قرآن حفظ کررہاتھا اور جب اٴْسے فائر لگا تو اٴْس وقت بھی اٴْس کے گلے میں قرآن کا نسخہ تھا،اٴْسے اور اٴْس کے ماموں اصغرعلی جو گاڑی چلارہے تھے شہید کردیا گیا۔

یہ ایک بہت ہی دل خراش واقعہ ہے۔۔جماعت اسلامی پنجاب کا تنظیمی کنونشن اس افسوسناک واقعے کی پٴْرزور مذمت کرتاہے اور حکومت سے مطالبہ کرتاہے کہ قاتلوں کو جلد گرفتار کرکے عبرت ناک سزادی جائے۔