مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باوجود جذبہ حریت کم نہیں ہو سکا ، سید صلاح الدین

اقوام متحدہ ،میں عالمی طاقتوں کی بے حسی اور پاکستانی حکمرانوں کی معذرت خواہانہ پالیسی کے باوجود جدوجہد آزادی جاری رہے گی ،خطاب

اتوار اپریل 20:00

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 اپریل2018ء) متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ اور حزب الماہدین کے سپریم کمانڈر سید صلاح الدین نے کہا ہے کہ کشمیر کے عوام پاکستان سے گہری عقیدت اور والہانہ محبت رکھتے ہیں ، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی غاصب افواج کے بدترین مظالم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے باوجود جذبہ حریت وشوق شہادت کم نہیں ہو سکا ہے ، اقوام متحدہ اور عالمی طاقوں کی بے رحمانہ ، مجرمانہ اور بے حسی کی پالیسیوں اور پاکستان کے حکمرانوں کی بزدلانہ اور معذرت خواہانہ رویے کے باوجود جدوجہد آزادی جاری رہے گی اور جنت نظیر کشمیر بھارت کی غلامی سے ضرور نجات حاصل کرے گا ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز ادارہ نور حق میں جماعت اسلامی کراچی کے اجتماع ارکان سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

(جاری ہے)

اجتماع سے امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے بھی خطاب کیا ، جبکہ سیکرٹری کراچی عبدالواب نے جماعت اسلامی کراچی کی کارکردگی اور سرگرمیوں پر مشتمل رپورٹ پیش کی ،پبلک ایڈ کمیٹی کے سربراہ سیف الدین یڈوکیٹ اور الیکشن سیل کے انچارج راجا عارف سلطان نے بھی کارکردگی رپورٹ پیش کی ، اجتماع صبح 10 بجے سے شام 5 بجے تک جاری رہا ۔

سید صلاح الدین نے کہا کہ پاکستان کے عوام نے ہمیشہ تحریک آزادی کشمیر کی حمایت اور پشت پناہی کی ہے اور امید اور توقع رکھتے ہیں کہ پاکستان کی حکومتیں اور حکمران طبقہ خواہ کوئی بھی موقف اختیار کریں ، لیکن پاکستانی عوام ہمارا ساتھ دیتی رہے گی ۔ سید صلاح الدین نے کہا کہ بد قسمتی سے تحریک آزادی کشمیر کی حمائت میں حکومت پاکستان کی طرف سے سرکاری سطح پر وہ سرگرمی اور پیش قدمی نہیں دکھائی دیتی ہے جو کہ ہونی چاہیئے ،آج بھی پرویز مشرف دور کی بزدلانہ اور معذرت خوانہ پالیسی جاری ہے ۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری نوجوان ، بزرگوں اور بیٹوں کی لازاول قربانیوں نے بھارت کے حکمرانوں کو زمینی حقائق پر غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے ، بھارت کے صحافی ، دانشور اور خود فوج کے اندر سے یہ آوازیں آٹھ رہی ہیں کہ کشمیریوں کو طاقت اور قوت کے ذریعہ زیادہ عرصے تک دبا کے نہیں رکھا جاسکتا اور طاقت کے ذریعہ وہ جو حاصل کرنا چاہتے تھے ، وہ حاصل نہیں کرسکتے ہیں ، کشمیریوں کے دلوں سے بھارت کی افواج اور طاقت کا خوف سو فیصد نکل چکا ہے ، جذبہ جہاد ، شوق شہادت اور بھارت کی غلامی سے نجات اور اس سے نفرت کا جذبہ اور جوش جو آج موجود ہے ، وہ گزشتہ 70 سالوں میں دیکھنے میں نہیں آیا ۔

ڈیڑھ سال قبل برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد تحریک آزادی میں نیا جوش اور جذبہ پیدا ہوا ہے ، بھارتی فوج کی جانب سے پیلٹ گنوں کے استعمال اور بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے گنوں کے استعمال کی اجازت کے باوجود کشمیری عوام چین سے بیٹھنے والے نہیں ، پیلٹ گنوں کے باعث 15 ہزار کشمیری بصارت سے محروم ہوچکے ہیں ، مقبوضہ وادی میں حالیہ دنوں کے دوران 6 ہزار بے نام قبریں موجود ہیں ، ہزاروں کشمیری جام شہادت نوش کرچکے ہیں ، سفارتی ، سیاسی اور عسکری جدوجہد جاری ہے ،۔

اقوام متحدہ اور بڑی طاقتوں نے بھارت کی پشت پناہی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے ، جنوبی سوڈان اور مشرفی تیمور میں تو اقوام متحدہ نے مداخلت کرکے مسائل حل کروا دیئے مگر مسئلہ کشمیر جس پر اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں یہ حل کرنے اور کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دلوانے کے لئے کوئی سرگرمی نہیں دکھائی جا رہی ، بلکہ سرد مہری اور مجرمانہ رویہ اختیار کیا ہوا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ رواں سال بھارتی غاصب افواج سے مقابلوں میں 46 مجاہدین شہید اور 350 زخمی ہوچکے ہیں ، جبکہ 51 بھارتی فوجی ہلاک اور 45 زخمی ہوئے ، مقابلوں اور معرکوں کا سلسلہ جاری تھا اور جاری رہے گا ، کشمیری بھارت سے تسلط اور غلامی کو کسی صورت تسلیم نہیں کریں گے ۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی کراچی نے عوا م کے دیرینہ مسائل اور اہم ایشوز پر آواز اٹھائی ہے ، ہماری تحریک جاری ہے اور اس میں عوام کی پذیرائی شامل ہے اور عوام کی جانب سے خیر مقدم کیا جارہا ہے ، عوامی جدوجہد اور دباؤ کے باعث کے الیکٹرک اور نادرا کے حوالے سے عوام کو کچھ ریلیف ملا ہے ۔

لیکن پانی و بجلی کے حوالے سے مکمل مسائل کے حل تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی ۔شہر کے اندر جماعت اسلامی کی قوت اور وزن محسوس کیا گیا ہے ۔ جماعت اسلامی نے ماضی میں بھی عوام کی خدمت اور مسائل کے حل کی جدوجہد کی ہے اور آئندہ بھی کرتی رہے گی ، ہم عوام کو دین کی طرف دعوت دیتے ہیں ، ہماری تحریک اقامت دین اور مسائل کے حل کی تحریک اور جدوجہد ہے ، دعوت دین اور عوامی خدمت مسائل اور فلاح و بہبود کے کام دو الگ الگ کام نہیں ہیں ، ہمیں اپنی دعوت اور تحریک کووسعت دینے کے لیے وقت اور حالات کے مطابق آگے بڑھنا ہے اور میدان عمل میں موجود رہنا ہے ، ہماری ان کوششوں اور جدوجہد کا مرکز و محور رضائے الہیٰ کا حصول ہے ۔