چیف جسٹس سپریم کورٹ کا نام استعمال کرنے والوں کے خلاف فوری انکوائری کا مطالبہ

سی سی پی او فوری نشاندہی کریں،لیڈی افسران سمیت متعدد افسران رجسٹری برانچ پہنچ گئے، خود ساختہ واقعہ کاپراسرار انداز میں مقدمہ درج کرنے پراحتجاج اعلیٰ حکام کی مداخلت پر سی سی پی او انکوائری کیلئے آج خود ڈی جی پی آر دفتر جائیں گے،جنہیںجیل میں ہونا چاہئے ، انہیں پروٹوکول دیا جارہا ہے ڈی جی پی آر افسران نے یونین غنڈہ گردی کے خلاف دادرسی کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا

اتوار اپریل 20:10

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 اپریل2018ء) ڈی جی پی آرمیں یونین کے غنڈہ عناصر کی افسران خصوصاً لیڈی افسران سے بدتمیزی کے واقعہ پر داد رسی کیلئے ادارے کے افسران نے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیاہے۔ افسران کی ایک بڑ ی تعداد جن میںلیڈی افسران بھی شامل تھیں، ادارے میں غنڈہ عنا صر کی زیادتیوں کے بارے چیف جسٹس آف پاکستان کو آگاہ کرنے کیلئے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری برانچ پہنچی۔

ڈی جی پی آرافسران نے ڈائریکٹر الیکٹرانک میڈیا کے خلاف خود ساختہ حملے کاپراسرار انداز میں مقدمہ درج کرنے پرشدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ افسران پر حملوں، گالی گلوچ ، سٹاف کو ہراساں کرنے ، توڑپھوڑ کرنے اور مزار بابا غیب شاہ کے کروڑوں کے نذرانے خورد برد کرنے والے والے غنڈہ عناصر کو پولیس کی طرف سے ملنے والی درپردہ حمایت انتہائی قابل مذمت اور افسوس ناک ہے ۔

(جاری ہے)

ترجمان نے بتایا کہ سپریم کورٹ جانے والے افسران میں ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن نبیلہ غضنفر، ڈائریکٹر نیوز چوہدری محمد عارف ، ڈائریکٹر الیکٹرانک میڈیا عابد نوربھٹی ، پی آر وٹو گورنر جاوید یونس، ڈپٹی ڈائریکٹر اشتہارات شاہدہ ترین، ڈپٹی ڈائریکٹر الیکٹرانک میڈیا لالہ رخ، پی آر او ٹو وزیراعلیٰ پنجاب عمران اسلم، ٹرانسلیشن افسر سحر اقبال، ڈپٹی ڈائریکٹر گوہر عزیز، انفارمیشن افسر عظمی رباب، انفارمیشن افسر حفصہ جاوید، پی آر او پنجاب فوڈ اتھارٹی حافظ قیصر عباس، پی آر او وزیر صنعت عبدالروف، ڈپٹی ڈائریکٹر اسامہ محمود، انفارمیشن افسر شیخ فرحا ن علی اورپی آر او ترجمان حکومت پنجاب وسیم بٹ شامل تھے۔

ترجمان ڈی جی پی آر کے مطابق سینئر افسر کے خلاف ناجائز طور پر مقدمے کے اندراج کے معاملے میں اعلیٰ حکام کی مداخلت پر سی سی پی او انکوائری کیلئے خود ڈی جی پی آر دفتر جائیں گے۔ ڈی جی پی آر افسران نے ادارے کے اعلی افسر کے خلاف مقدمے کے اندراج میں چیف جسٹس آف پاکستان کا نام استعمال کرنے والوں کے خلاف فوری انکوائری پر زور دیتے ہوئے سی سی پی او لاہور سے مطالبہ کیا کہ وہ چیف جسٹس کا نام غلط طورپراستعمال کر کے مقدمہ کا اندارج کرانے والے پولیس افسران کی فوری نشان دہی کرکے ان کے خلاف قانونی کارروائی کریں۔

ڈی جی پی آر افسران نے کہا کہ جن کرپٹ عناصر کو جیلوں میں ہونا چاہئے ، انہیں پروٹوکول دیا جارہا ہے ۔افسران نے اس عزم کا اظہار کیا کہ غنڈہ عناصر کو ان کے منطقی انجام تک پہنچائے بغیر دفتر میں نظم اور پرامن ماحول قائم نہیں کیا جاسکتا۔ افسران نے کہا کہ ڈی جی پی آر آفس میں غنڈہ گردی ، افسران بالخصوص لیڈی افسران پر خوف وہراس کے سائے مستقل طور پرختم کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات نہ اٹھائے گئے تو پنجاب بھر میں ڈی جی پی آر کے دفاتر میں عملے کی طرف سے سرکاری امور کی انجام دہی مشکل ہو جائے گی۔