وزیراعظم کی آٹومیٹک اسلحہ کو سیمی آٹو میٹک میں تبدیل کروانے کی پالیسی پر 6ماہ بعد بھی عمل درآمد نہ ہوسکا

ڈیڈ لائن گزر جانے کے باوجود بھی لوگوں نے اپنے ہتھیاروں کو تبدیل کروایا نہ ہی نئی اسلحہ پالیسی کے مطابق ہتھیار جمع کروائے‘ وزارت داخلہ بھی متعلقہ عدالتوں میں حکم امتناعی کو خارج کروانے کے لئے فعال انداز میں پیروی نہیں کررہی

اتوار اپریل 20:10

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 اپریل2018ء) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی طرف سے آٹومیٹک اسلحہ کو سیمی آٹو میٹک میں تبدیل کروانے کی پالیسی پر 6ماہ گزرنے کے باوجود بھی عمل درآمد نہ ہوسکا‘ وزارت داخلہ کی طرف سے ممنوعہ بور کے آٹو میٹک اسلحہ کو سیمی آٹومیٹک میں تبدیل کروانے کے لئے دی گئی ڈیڈ لائن گزر جانے کے باوجود بھی لوگوں نے اپنے ہتھیاروں کو تبدیل کروایا نہ ہی نئی اسلحہ پالیسی کے مطابق ہتھیار جمع کروائے‘ زیادہ تر اسلحہ لائسنس ہولڈر مختلف عدالتوں کی طرف سے چند افراد کی طرف سے حاصل کردہ حکم امتناعی کا سہارا لئے بیٹھے ہیں اور وزارت داخلہ بھی متعلقہ عدالتوں میں حکم امتناعی کو خارج کروانے کے لئے فعال انداز میں پیروی نہیں کررہی۔

وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق ملک میں ممنوعہ بور کے آٹو میٹک اسلحہ پر پابندی کے حکم نامے کا اطلاق نہیں ہوسکا۔

(جاری ہے)

اسلحہ لائسنس ہولڈرز کو ہتھیاروں کے بور تبدیل کروانے اور آٹو میٹک اسلحہ سرنڈر کرنے کی واضح پالیسی دیئے جانے کے باوجود ابھی تک لوگوں نے آٹومیٹک اسلحہ کو سیمی آٹو میٹک میں تبدیل کروانا نہ حکومت کی طرف سے دی گئی سکیم کے مطابق اسلحہ واپس جمع کروایا ہے۔

چند لائسنس ہولڈرز نے ممنوعہ بور اسلحہ کی نئی پالیسی پر اسلام آباد ہائی کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ سے حکم امتناعی حاصل کررکھا ہے اور مذکورہ عدالتوں کے حکم امتناعی کو جواز بنا کر دیگر اسلحہ لائسنس ہولڈرز بھی خاموش ہوچکے ہیں اور انہوں نے وزارت داخلہ یا متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز آفس میں اسلحہ لائسنس تجدید کے لئے پیش نہیں کئے۔ ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ بھی حکم امتاعی کے اخراج کے لئے کوئی فعال انداز میں کیس کی پیروی نہیں کررہی جس سے یہ لگ رہا ہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی آٹو میٹک اسلحہ کو سیمی آٹو میٹک میں تبدیل کرنے کی پالیسی پر عمل درآمد نہیں ہوگا۔