اقوام متحدہ کی ٹیم کی روہنگیا پناہ گزینوں سے ملاقات

یہ انتہائی ضروری ہے کہ بنگلہ دیش اور میانمار کا دورہ کر کے صورتحال کو دیکھا جائے، ان معاملات کو حل کرنے کا کوئی آسان راستہ نہیں ہے، وہ روہنگیا مسلمان جو میانمار میں فوجی تشدد سے پناہ لینے کے لیے ملک چھوڑ کر آئے ہیں کے بحران کا مسئلہ حل کرنے کے لیے بھرپور کوشش کریں گے اقوام متحدہ کے سیکیورٹی کونسل کی ٹیم کو روہنگیا پناہ گزینوں کے کیمپوں کے وورے کے بعد پریس کانفرنس

اتوار اپریل 20:10

نیویارک(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 اپریل2018ء) اقوام متحدہ کے سیکیورٹی کونسل کی بنگلہ دیش کا دورہ کرنے والی ٹیم نے وعدہ کیا ہے کہ وہ روہنگیا مسلمان جو میانمار میں فوجی تشدد سے پناہ لینے کے لیے ملک چھوڑ کر آئے ہیں کے بحران کا مسئلہ حل کرنے کے لیے بھرپور کوشش کریں گے،7 لاکھ روہنگیا مسلمانوں کی پناہ گاہ اور سرحدی حصے کا دورہ کرنے کے بعد ان کا کہنا تھا کہ ان کا دورہ حالات کا سامنا کرنے کا ایک موقع تھا۔

روسی سفیر برائے اقوام متحدہ دمیتری پولیانسکی کا کہنا تھا کہ وہ اور ان کے دوست ٹیم اراکین اپنے دورے کے بعد بھی بحران سے نظر نہیں ہٹائیں گے تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اس معاملے کا کوئی آسان حل نہیں ہے۔پناہ گزین کیمپوں کا دورہ کرنے کے بعد انہوں نے نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی ضروری ہے کہ بنگلہ دیش اور میانمار کا دورہ کر کے صورتحال کو دیکھا جائے، ان معاملات کو حل کرنے کا کوئی آسان راستہ نہیں ہے۔

(جاری ہے)

اقوام متحدہ کی ٹیم بنگلہ دیش کے اپنے 3 روزہ دورے کو مکمل کرکے میانمار کو روانہ ہوں گے۔یاد رہے کہ میانمار کی ریاست رخائن میں گزشتہ برس فوجی بیس پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کردیا تھا۔۔میانمار کی فورسز کی کارروائیوں کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں اکثریت روہنگیا مسلمانوں کی تھی جبکہ لاکھوں کی تعداد میں روہنگیا مسلمانوں نے جان بچا کر بنگلہ دیش کی طرف ہجرت کی تھی جہاں ان کی حالات غذائی قلت کے باعث ابتر ہوگئی تھی تاہم ترکی اور اقوام متحدہ کی جانب سے اقدامات کئے گئے تھے اور مزید مدد کی اپیل کی تھی۔

اقوام متحدہ کے حکام کے مطابق میانمار کی فوج اور باغیوں کے درمیان ملک کے شمالی علاقوں میں تازہ جھڑپوں کی وجہ سے ہزارون افراد ملک چھوڑ کر روانہ ہوگئے۔ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے دفتر برائے تعاون انسانی امور کے سربراہ مارک کٹس کا کہنا تھا کہ میانمار کے چینی سرحد کے قریب شمالی علاقے کچھن میں گزشتہ 3 ہفتوں میں 4 ہزار کے قریب افراد ہجرت کرگئے ہیں۔

اس تعداد میں ان 15 ہزار افراد کو شامل نہیں کیا گیا جو رواں سال کے آغاز سے اب تک کچھن اور شان سے ہجرت کرچکے ہیں۔واضح رہے کہ حکومت اور طاقتور کچھن علیحدگی پسند آرمی کے درمیان 2011 میں جنگ بندی معاہدہ ہوا تھا تاہم ان تازہ جھڑپوں کے باعث یہ معاہدہ موثر ثابت نہیں ہورہا۔۔اقوام متحدہ کے حکام کا کہنا تھا کہ ہمیں مقامی ادارے کی جانب سے رپورٹس ملی ہیں کہ تنازع زدہ علاقے میں اب بھی کئی شہری پھنسے ہوئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری ترجیح شہریوں کی حفاظت ہے تاہم ہمارے ادارہ جھڑپوں میں شہریوں کی ہلاکت کی رپورٹس کی تصدیق نہیں کرا سکا ہے۔واضح رہے کہ اس حوالے سے میانمار کے سرکاری ترجمان کی رائے کے لیے رسائی حاصل نہیں ہوسکی۔