فلپائنی صدر کی کویت میں مقیم اپنے ہم وطن تمام ورکروں کو انخلا کی ہدایت

جو کچھ رونما ہو رہا ہے، میں ا س کو زیادہ دیر تک برداشت نہیں کر سکتا،کویتی حکومت سے یہ کہنا چاہوں گا کہ وہ بظاہر ہم سے انتقام لے رہی ہے ،میں مزید فلپائنی شہریوں کو کویت نہیں بھیجنا چاہتا ہوں کیونکہ وہ انھیں پسند نہیں کرتے ہیں اور میں انھیں وہاں بھیجنے پر مکمل پابندی عائد کردوں گا،صدر روڈریگو ڈیوٹرٹ

اتوار اپریل 20:10

فلپائنی صدر کی کویت میں مقیم اپنے ہم وطن تمام ورکروں کو انخلا کی ہدایت
منیلا(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 اپریل2018ء) فلپائن کے صدر روڈریگو ڈیوٹرٹ نے کویت میں مقیم اپنے تمام تارکین وطن ورکروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ جلد سے جلد وہاں سے واپس آ جائیں ۔غیرملکی میڈیا کے مطابق فلپائنی صدر نے ایک نشری تقریر میں فلپائنی تارکین وطن سے یہ اپیل کی ہے اور ان سے کہا ہے کہ وہ حب الوطنی کا احساس کرتے ہوئے وطن واپس آجائیں ۔

انھوں نے کہا کہ جو کچھ رونما ہو رہا ہے، میں ا س کو زیادہ دیر تک برداشت نہیں کر سکتا۔میں کویتی حکومت سے یہ کہنا چاہوں گا کہ وہ بظاہر ہم سے انتقام لے رہی ہے ۔میں مزید فلپائنی شہریوں کو کویت نہیں بھیجنا چاہتا ہوں کیونکہ وہ انھیں پسند نہیں کرتے ہیں اور میں انھیں وہاں بھیجنے پر مکمل پابندی عاید کردوں گا۔انھوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ وہ اپنے تمام ہم وطنوں کی واپسی تک کویت سے مذاکرات میں بھی تاخیر کردیں گے۔

(جاری ہے)

وہ 30 اپریل کو کویت کے دورے پر روانہ ہونے والے تھے اور کویتی حکومت کے ساتھ فلپائنی تارکینِ وطن کے حقوق کی پاسداری سے متعلق ایک سمجھوتے پر دست خط کرنے والے تھے۔کویت نے گذشتہ بدھ کو فلپائنی سفیر کو ایک ہفتے میں ملک چھوڑنے کی ہدایت کی تھی اور منیلا میں متعین اپنے سفیر کو واپس بلا لیا تھا۔اس کے بعد کویت اور فلپائن کے درمیان جاری سفارتی بحران مزید شدت اختیار کر گیا ہے ۔

اس سے ایک روز بعد فلپائن نے کویت سے اپنے سفیر ریناٹو پیڈرو ویلا کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر ملک سے بے دخل کرنے کی وضاحت طلب کی تھی ۔تبصرہ نگاروں کے مطابق فلپائنی صدر اور ان کی انتظامیہ نے کویت سے جاری بحران کے حل پر سنجیدہ انداز میں توجہ مرکوز کرنے کے بجائے بعض جارحانہ اقدامات کیے ہیں جس سے صورت حال بہتر ہونے کے بجائے مزید خراب ہوگئی ہے۔

منیلا بلیٹن کے کالم نگار اور بلاگر ٹونیو کروز نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فلپائن کے مزید ذمے دار لیڈر اس مسئلے کے حل کے لیے مداخلت کر سکتے ہیں ۔مجھے یقین ہے کہ کویت اور دوسرے خلیجی ممالک فلپائنی تارکینِ وطن کے اپنے اپنے ملک میں کردار کو تسلیم کریں گے اور وہ ان سے ناروا سلوک کے خاتمے اور ان کی حا لت بہتر بنانے کے لیے اقدامات کریں گے۔

فلپائنی تارکین وطن کے ایڈووکیسی گروپوں نے کویت اور دوسرے ممالک میں فلپائنی ورکروں کے حالات کار بہتر بنانے پر زوردیا ہے ۔تاہم ان کا کہنا ہے کہ کویت کا فلپائنی سفارت خانے کے عملہ کی حالیہ کارروائیوں کے ردعمل میں اقدام درست ہے اور وہ کویت سے فلپائنی سفیر کو بے دخل کرنے کے اقدام میں بھی حق بہ جانب ہے۔ایک ایڈووکیسی گروپ کے چیئر مین بانگ کونے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے صدر ایک پختہ سیاسی عزم کے حامل ہیں ۔

میں فلپائنی ہم وطن ورکروں کے دفاع میں ان کے کردار کا مداح ہوں لیکن کویت فلپائنی سفارت خانے کی جانب سے اپنے ملک کے قانون کی خلاف ورزیوں پر فلپائنی سفیر کو بے دخل کرنے میں حق بہ جانب تھا۔واضح رہے کہ فلپائنی صدر روڈریگو ڈیوٹرٹ نے جنوری میں اپنے شہریوں کو کویت میں بھیجنے پر پابندی عاید کردی تھی اور انھوں نے یہ فیصلہ کویت میں فلپائنی تارکین وطن سے مبینہ ناروا سلوک کی اطلاعات اور ایک گھریلو ملازمہ کے ایک گھر کے فریزر میں مردہ پائے جانے کے واقعے کے بعد کیا تھا۔

ڈیوٹرٹ نے یہ سنگین الزام عاید کیا تھا کہ عرب آجر فلپائنی ملازماں کی عصمت ریزی کرتے ہیں ۔ان سے اکیس کیس گھنٹے کام لیا جاتا ہے اور انھیں بچا کھچا کھانا دیا جاتا ہے۔ کویت میں اس وقت دو لاکھ 65 ہزار سے زیادہ فلپائنی تارکینِ وطن کام کررہے ہیں۔ان میں 65 فی صد گھریلو ملازمین کے طور پر کام کرتے ہیں ۔

متعلقہ عنوان :