این ایف سی ایوارڈ سے پنجاب کی طرف سندھ اور کے پی کے کو بھی تناسب کے لحاظ سے برابر بھاری فنڈز ملتے ہیں، رانا مشہور

فرق یہ ہے کہ پنجاب میں کرپشن اور کمیشن کا خاتمہ کرکے ان فنڈز کو تعلیم صحت انفرااسٹرکچر اور عوامی بہبود کے کاموں کے لئے استعمال کیا گیا ہے دوسرے صوبوں میں ان فنڈز کا بظاہر استعمال کہیں نظر نہیں آتا تعلیم صحت سمیت بنیادی مسائل سنگین صورت اختیار کئے ہوئے ہیں، پریس کانفرنس جام ساقی اور یوسف تالپور اور دیگر رہنمائوں کے ساتھ ہم نے ون یونٹ کے خاتمے کے لئے طویل جدوجہد کی تھی اور سختیاں برداشت کی تھیں، شاہ محمد شاہ جب تک سندھ کو آصف زرداری کے اومنی گروپ اور ون یونٹ بنانے والوں کی اولاد سے نجات نہیں ملتی کوئی بہتری نہیں آ سکتی، صدر مسلم لیگ (ن)

اتوار اپریل 20:20

یدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 اپریل2018ء) صوبائی وزیر حکومت پنجاب مسلم لیگ (ن) کے رہنماء رانا مشہود نے کہا ہے کہ این ایف سی ایوارڈ سے پنجاب کی طرف سندھ اور کے پی کے کو بھی تناسب کے لحاظ سے برابر بھاری فنڈز ملتے ہیں لیکن فرق یہ ہے کہ پنجاب میں کرپشن اور کمیشن کا خاتمہ کرکے ان فنڈز کو تعلیم صحت انفرااسٹرکچر اور عوامی بہبود کے کاموں کے لئے استعمال کیا گیا ہے جبکہ دوسرے صوبوں میں ان فنڈز کا بظاہر استعمال کہیں نظر نہیں آتا تعلیم صحت سمیت بنیادی مسائل سنگین صورت اختیار کئے ہوئے ہیں، مسلم لیگ (ن) کی وفاقی حکومت نے سب صوبوں میں میگاپروجیکٹس شروع کئے ہیں جبکہ سی پیک سے سب سے زیادہ فائدہ سندھ اور بلوچستان کو ہوا ہے، زرداری اور عمران حکومتوں کی ایسی کوئی کارکردگی نہیں جو وہ آئندہ انتخابات میں عوام کے سامنے پیش کر سکیں، چوہدری نثار قدآور شخصیت ہیں وہ مسلم لیگ میں ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے۔

(جاری ہے)

وہ حیدرآباد پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے جس میں مسلم لیگ (ن) کے نومنتخب صوبائی صدر شاہ محمد شاہ، جنرل سیکریٹری سینیٹر سلیم ضیاء، ایم پی اے شفیع محمد جاموٹ، مولانا تنویرالحق تھانوی اور دیگر رہنماء بھی موجود تھے۔۔پنجاب کے صوبائی وزیر اور سندھ مسلم لیگ کی انتخابی کمیٹی کے سربراہ رانا مشہود نے کہا کہ جب میاں نوازشریف نے اقتدار سنبھالا تو 18 سے 22 گھنٹے تک بجلی کی لوڈشیڈنگ ہو رہی تھی پرویز مشرف اور زرداری دور میں بجلی پیدا کرنے کا کوئی نیا منصوبہ شروع نہیں کیا گیا جبکہ بم دھماکے اور دہشت گردی پر قابو کے لئے بھی کوئی موثر قدم نہیں اٹھایا گیا، انہوں نے کہا کہ اللہ کے فضل سے ہمیں فخر ہے کہ میاں نوازشریف کی حکومت نے بجلی کے 14ہزار میگاواٹ کے نئے منصوبے مکمل کئے جبکہ پاکستان کی گذشتہ پوری تاریخ میں صرف 16ہزار میگاواٹ بجلی پیداواری گنجائش کے پروجیکٹ لگائے گئے تھے، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چوہدری نثار سیاسی میدان کی بہت قدآور شخصیت ہیں جنہوں نے ہمیشہ اصولی سیاست کی ہے اور آج بھی مسلم لیگ (ن) میں ہیں اور ان کا مستقبل بھی مسلم لیگ (ن) سے وابستہ ہے، انہوں نے کہا کہ میاں نوازشریف نے گڈ اور بیڈ طالبان کی تفریق ختم کرکے دہشت گردی اور بدامنی سے سختی سے نمٹنے کا جو اعلان کیا تھا اس پر سیکورٹی اداروں کی مدد سے کامیابی سے عمل کیا اور کراچی جہاں ہر روز خون بہتا تھا اور امن و امان کا کوئی وجود نہیں تھا وہاں امن قائم کیا اور آج یہاں تجارت کاروباری سرگرمیاں امن و امان کے ماحول میں جاری ہیں، پورے ملک میں قانون کی حکمرانی کی صورتحال بہتر ہوئی ہے، انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے سندھ حکومت سے میگا پروجیکٹس کے سلسلے میں مکمل تعاون کا ہاتھ بڑھایا لیکن پیپلزپارٹی نے سیاسی مصلحتوں کی وجہ سے اس سے فائدہ نہیں اٹھایا، اس کے باوجود وفاقی حکومت میگا پروجیکٹس میں تعاون کر رہی ہے، انہوں نے کہا کہ اس وقت سندھ میں شہروں اور دیہات میں یکساں طور پر صحت و صفائی نکاسی آب کا نظام درہم برہم ہے انفرااسٹرکچر تباہ حال ہے گنے کے کاشتکاروں کو پہلے تباہ کیا گیا اور اب گندم کے کاشتکار بھی سڑکوں پر ہیں کیوں انہیں باردانہ نہیں مل رہا، انہوں نے کہا کہ پنجاب سمیت تمام صوبوں کو این ایف سی ایوارڈ تناسب کے لحاظ سے برابر ملتا ہے لیکن سندھ اور کے پی کے میں اس کا استعمال عوام پر کم ہوا ہے اور ذاتی جیبیں زیادہ بھری گئی ہیں، کمیشن اور کرپشن مافیا نے عوام کے حقوق سلب کئے ہیں مگر اس کے برعکس پنجاب میں لاہور ملتان فیصل آباد راولپنڈی سمیت درجنوں شہروں اور دیہات میں میگاپروجیکٹس کے ساتھ انفرااسٹرکچر کی بہتری کے سینکڑوں منصوبوں پر کام ہوا ہے اس لئے تعلیم صحت اور دیگر مسائل حل کرنے میں مدد ملی ہے، انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی آئندہ وفاقی حکومت کراچی حیدرآباد اور سندھ کے دیگر شہروں کو پیرس تو نہیں بنا سکتی لیکن لاہور اور پنجاب کے دیگر شہروں کے برابر ترقی دے گی، سندھ کے پیرس لاڑکانہ کی تباہ حالی پورا ملک دیکھ رہا ہے، انہوں نے وفاقی حکومت کی طرف سے سندھ میں شروع کئے گئے منصوبوں کی تفصیلات بتائیں اور کہا کہ مسلم لیگ نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اب سندھ میں عوامی حقوق کے لئے برسرمیدان بھرپور جدوجہد کرے گی اور ایک ایک شہر قصبے اور گائوں تک پہنچا جائے گا، انہوں نے شاہ محمد شاہ اور سلیم ضیاء کو بلامقابلہ مسلم لیگ (ن) سندھ کا صدر اور جنرل سیکریٹری منتخب ہونے پر مبارکباد دی اور کہا کہ ان کی قیادت میں سندھ میں بھرپور عوامی جدوجہد کی جائے گی، انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) سندھ میں بھی تمام نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کرے گی اور پھر فیصلہ ہو گا کہ کس سے بات چیت کرنی ہے، آئندہ تمام لوٹوں اور لٹیروں کا سختی سے احتساب ہو گا، میاں شہباز شریف نے سندھ میں "مرسوں کم نہ کرسوں" کا جو نعرہ دیا ہے وہ حقیقت کے خلاف نہیں ہے، اب مسلم لیگ (ن) سندھ کے حقوق کے لئے عملی کام کرکے دکھائے گی جس کے لئے باقاعدہ چارٹ تیار کر لیا گیا ہے اور ہر طبقہ فکر کے عوام کو ساتھ چلا جائے گا، رانا مشہود نے ایک سوال پر کہا کہ ججوں کو فیصلوں میں انصاف کرنا چاہیے تقریروں میں نہیں سیاستدانوں میں ضرور کالی بھیڑیں ہیں ان کا احتساب کیا جانا چاہیے۔

نومنتخب صدر شاہ محمد شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جام ساقی اور یوسف تالپور اور دیگر رہنمائوں کے ساتھ ہم نے ون یونٹ کے خاتمے کے لئے طویل جدوجہد کی تھی اور سختیاں برداشت کی تھیں لیکن ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ سندھ پر اس کے بعد ون یونٹ قائم کرنے والوں کی اولاد مسلط ہو جائے گی، انہوں نے کہا کہ جب تک سندھ کو آصف زرداری کے اومنی گروپ اور ون یونٹ بنانے والوں کی اولاد سے نجات نہیں ملتی کوئی بہتری نہیں آ سکتی، انہوں نے کہا کہ میں آصف زرداری کا کچہ چٹھہ بہت بہتر طور پر جانتا ہوں اس کے والد حاکم علی زرداری ایم آر ڈی کی تحریک میں ضیاء الحق کی طرف کھڑے تھے وہ قربانیاں دینے والے بھٹو خاندان کے مخالف تھے اور آج بھی وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کھڑے ہیں، میں آج صرف اتنا ہی بٹن دبا رہا ہوں کیونکہ میاں نوازشریف نے بینظیر کو اپنی بہن کہا تھا اور ان سے چارٹر آف ڈیموکریسی کیا تھا جس پر بہت سے پانی پلوں کے نیچے سے گزرنے کے باوجود اس پر قائم ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم مسلم لیگ میاں نوازشریف یا اپنے کے لئے نہیں بلکہ جمہوریت اور ملک کے مستقبل کی بہتری کے لئے یہ سوچ رکھتے ہیں کہ گرینڈ چارٹر آف ڈیموکریسی کی آج اشد ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ نے میثاق جمہوریت کو ختم نہیں کیا ہے بلکہ پیپلزپارٹی میں زرداری نے پنجاب میں گورنرراج لگا کر اس پر وار کیا تھا، انہوں نے کہا کہ آصف زرداری کی تو یہ اوقات ہے کہ جب ہم ایم آر ڈی کی تحریک میں لاشیں اٹھا رہے تو وہ ضیاء حمایت تحریک میں تھے، جب 1985ء کے غیرجماعتی انتخابات کا تمام جمہوریت پسند جماعتوں نے بائیکاٹ کیا تھا تو آصف زرداری نے اس میں حصہ لیا تھا اور 2500 ووٹ لئے تھے، مسلم لیگ کارکنوں کے احتجاج کے حوالے سے سوال پر شاہ محمد شاہ نے کہا کہ سندھ کونسل کے کسی ممبر کو آج کے اجلاس میں آنے سے نہیں روکا گیا کونسل کے 644 رجسٹرڈ ممبران تھے لیکن ہری رام کشوری اسٹیبلشمنٹ اور پولیس کے جتھوں کے ساتھ آنے والوں کو قبول نہیں کیا جا سکتا، ہم نے جمہوری تحریکوں میں بہت لاٹھیاں کھائی ہیں اور تکلیفیں براشت کی ہیں اور جانتے ہیں کہ کس طرح باہر سے جمہوریت میں نقب لگائی جاتی ہے، انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اب پیپلزپارٹی ق لیگ اور دیگر جماعتوں کے کرپٹ ترین لوگوں کے شریک ہونے کی وجہ سے لوٹ مار گروپ بن گیا ہے اور عمران خان ان فراڈیوں کے سربراہ ہیں اب ان کی قسمت میں پیرنی اور اس کے بعد جادوگرنی ہی ہے۔

مسلم لیگ (ن) سندھ کے جنرل سیکریٹری سلیم ضیاء ایڈوکیٹ نے کہا کہ اگر دیگر پارٹیوں کے لوگ پی ٹی آئی میں شامل ہو رہے ہیں تو اس سے نیب کا کام آسان ہو رہا ہے کیوں انہیں کرپٹ لوگوں کو تلاش کرنے میں آسانی ہو گی، انہوں نے کہا کہ تین بین الاقوامی سروے سامنے آ چکے ہیں جن میں یہ واضع اشارہ ملتا ہے کہ ملک بھر میں نوازشریف سے عوام محبت کرتے ہیں اور شہباز شریف کا کام سب کو نظر آ رہا ہے،ان شاء اللہ اسی بنیاد پر ہم آئندہ انتخابات میں واضح کامیابی حاصل کریںگے، ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ عدالتوں میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب دیکھ رہے ہیں نوازشریف کے پورے خاندان کا روزانہ کی بنیاد پر ٹرائل ہو رہا ہے بیگم کلثوم نواز نازک حالت میں ہیں ان کی عیادت کے لئے جانے کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی لیکن دوسری طرف آصف زرداری یوسف رضا گیلانی راجہ پرویز اشرف جہانگیر ترین اور بہت سے سیاستدانوں کے خلاف احتساب عدالتوں میں کیس چل رہے ہیں اور ان کے ساتھ غیرمعمولی رعایت کی جا رہی ہے، انہوں نے کہا کہ پس پردہ قوتیں کیسے ہی گھٹیا ہتھکنڈے کیوں نہ استعمال کر لیں مسلم لیگ میں دراڑیں ڈالنے میں ناکام رہیںگے، ایسی سازشوں میں ملوث عناصر سے خود عوام نمٹیں گے۔