کوئٹہ ، بلوچستان میں کوئی دہشت گرد نہیں یہ دہشت گرد کہیں اور سے آتے ہیں،دائود آغا

امن ہوگا تو ہمارے بچے اپنے کاروبار اور ملازمتوں پر جا سکتے ہیں،حکومت میں کالیں بھیڑیں ہیں جو امن نہیں ہونے دیتی بلوچستان کی عوام روٹی کپڑا، مکان نہیں مانگ رہی صرف جینے کا حق مانگ رہی ہے، سید ناصر شاہ جب پالیسیاں غلط ہوں گی تو یہ صورت حال ہو گی غلط پالیسیوں کی وجہ سے عوام، پولیس اور سیکیورٹی فورسز بھی محفوظ نہیں،بلوچستان کی مختلف سیاسی ومذہبی جماعتوں کے رہنمائوں کا جلسہ عام سے خطاب

اتوار اپریل 20:30

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 اپریل2018ء) بلوچستان کی مختلف سیاسی ومذہبی جماعتوں کے رہنمائوں نے کہا ہے کہ بلوچستان میں کوئی دہشت گرد نہیں یہ دہشت گرد کہیں اور سے آتے ہیںامن ہوگا تو ہمارے بچے اپنے کاروبار اور ملازمتوں پر جا سکتے ہیںحکومت میں کالیں بھیڑیں ہیں جو امن نہیں ہونے دیتی بلوچستان کی عوام روٹی کپڑا، مکان نہیں مانگ رہی صرف جینے کا حق مانگ رہی ہے جب پالیسیاں غلط ہوں گی تو یہ صورت حال ہو گی غلط پالیسیوں کی وجہ سے عوام، پولیس اور سیکیورٹی فورسز بھی محفوظ نہیںان خیالات کا اظہاربلوچستان شیعہ کانفرنس کے زیر اہتمام شہدا چوک پر جلسہ عام سے صوبائی وزیر سید آغا رضا ، بلوچستان شیعہ کانفرنس کے صدر دائود آغا، سابق رکن قومی اسمبلی سید ناصر شاہ، طاہر خان ہزارہ، علامہ جمعہ اسدی، حاجی عبدالقیوم سمیت دیگر مقررین نے خطاب کیا اس موقع پر جلسہ میں ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی،مجلس وحدت مسلمین،،بلوچستان نیشنل پارٹی،جمہوری وطن پارٹی انجمن تاجران کے رہنما شریک ہوئے جلسے سے خطاب کر تے ہوئے مقررین نے کہا ہے کہ بلوچستان کے عوام محب وطن ہے اور ہمیشہ ملک کی ترقی وخوشحالی کے لئے کردار ادا کیا ہے بد قسمتی سے سازش کے تحت برادر اقوام کو لڑایا جا رہا ہے انہوں نے کہا ہے کہ ہمارے 2 ہزار افراد کو ٹارگٹ کلنگ کرکے شہید کیا گیا 3 ہزار افراد زخمی کیے گئے ہمارے لوگوں کا روزگار بند کیا جاتا رہا ہے سازش کی جارہی ہے کہ اگر ہم گولیوں سے ختم نہیں ہو رہے تو بھوکا مارا جائے گابلوچستان میں کوئی دہشت گرد نہیں یہ دہشت گرد کہیں اور سے آتے ہیںامن ہوگا تو ہمارے بچے اپنے کاروبار اور ملازمتوں پر جا سکتے ہیںحکومت میں کالیں بھیڑیں ہیں جو امن نہیں ہونے دیتی بلوچستان کی عوام روٹی کپڑا، مکان نہیں مانگ رہی صرف جینے کا حق مانگ رہی ہے جب ریاست کمزور ہوجاتی تو بد امنی ہوتی ہے جب پالیسیاں غلط ہوں گی تو یہ صورت حال ہو گی غلط پالیسیوں کی وجہ سے عوام، پولیس اور سیکیورٹی فورسز بھی محفوظ نہیںآج ہماری آبادیاں یتیم خانوں میں تبدیل ہوگئی ہیںہمارا خون پانی سے بھی سستا ہوگیا ہے ہم جینے کا حق ریاست سے مانگتے ہیںہم نے باہمی اختلافات کو پیروں تلے روند دیا ہے تمام شیعہ ہزارہ برادری کے بھائی ہیںہم یزیدی سوچ کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بننے کی کوشش کریں گے ہمارا عقیدہ ہے کہ ہم کسی کے مسلک کو نہیں چھیڑتے آج کوئٹہ شہر میں کوئی شیعہ سنی جنگ نہیں ہم پر جنگ مسلط کی جارہی ہے چیف جسٹس ہر معاملے پر از جلد نوٹس لیتے ہیں، ہماری مظلومیت پر بھی اداروں سے پوچھیں انہوں نے کہا ہے کہ محض 60 گلیوں پر مشتمل شہر قتل گاہ بن چکا ہے جب پالیسیاں غلط ہونگے تو یہی صورتحال پیدا ہو گی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک اور خاص کر بلوچستان بالخصوص کوئٹہ دہشت گردی کی وجہ سے پسماندگی کا شکار ہو گئی ڈیڑھ سو ارب روپے سیکورٹی کے نام پر ہر سال خرچ کئے جا تے ہیں مگر سیکورٹی نہ ہونے کی وجہ سے آئے روز بے گناہ اور نہتے لوگ قتل ہو رہے ہیں جنگی پالیسیوں کی وجہ سے ملک قتل گاہ بنا ہوا ہے دیگر ممالک میں رہنے والے پاکستانی قتل وغارت کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں عوام حکمرانوں اور اداروں کو ٹکرانے کی سازش کا میاب نہ ہونے دیں کیونکہ ہم نے ہمیشہ یہاں پر کوشش کی ہے کہ ہم کسی کو نقصان نہ پہنچائے کیونکہ سب کا دشمن معلوم ہے یہاں صرف ہزاری برادری نہیں بلکہ پشتون بلوچ اور مسیحی برادری سمیت ہر طبقہ کونشانہ بنایا جا رہا ہے اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ اب خدارا امن وامان کی صورتحال کو بہتر بنایا جائے ۔