کوئٹہ ،پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن کی نو منتخب کابینہ کی حلف برداری اور گولڈن جوبلی کی تقریب انعقاد

ہر دور میں پشتونوں کو تعصب کا نشانہ بنا یا گیاجوقابل مذمت ہے ، حقوق کیلئے ہم آواز ہو کر مشکلات آسان بنا سکتے ہیں،رہنما پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن

اتوار اپریل 20:30

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 اپریل2018ء) پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن کی نو منتخب کابینہ کی حلف برداری اور گولڈن جوبلی کے حوالے سے ایک تقریب آج بروز اتوار 13 مئی کو سائنس کالج میں منعقد کی گئی جس میں اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین کے ہمرہ مرکزی و صوبائی قائدین سمیت تنظیم کے سابق عہدیدار بھی شرکت کی ، تقریب میں پشتون ایس ایف کی خدمات ،تاریخ اور مستقبل کے لائحہ عمل پر روشنی ڈالی گی۔

ملک انعام کاکڑ نے اپنے اخباری بیان میں کہا کہ پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن پارٹی کا ہراول دستہ اور اے این پی کی نرسری کاکرداراداکیا ہے، باچا خان کا فلسفہ ہے کہ نوجوانوں پر محنت کرکے کارآمد شہری بنایاجائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ پی ایس ایف نے پہلے بھی طلبا کے مسائل حل کرنے کو ترجیح دی اور آئندہ بھی طلباکے حقوق کیلئے بھرپور آواز اٹھائیں گے ، انہوں نے کہا کہ اگر پشتون اپنے حقوق کیلئے ہم آواز ہو جائیں تو مشکلات آسان ہو سکتی ہیںں باچا خان نے اپنی سوچ اور فکر کے ذریعے پشتونوں کی ایسی رہنمائی کی جو تا آخر مشعل راہ ثابت ہو سکتی ہے انہوں نے قوم کو غلامی سے آزاد کرانے کیلئے جدوجہد کی اور آزادی کیلئے ضرورتِ علم کو محسوس کرتے ہوئے بے شمار سکول قائم کئے ،اور قلم کے فلسفے کے ذریعے انگریز کو نکال کر قوم کو آزادی دلائی ، باچا خان بابا وہ شخصیت تھے جن کی وفات پر تین ملکوں نے اپنے پرچم سرنگوں کئے ،،باچا خان بابا نے پشتونوں کو ایک ایسی جِلا بخشی کہ وہ اتحاد و اتفاق کی مثال بنے اور یہی وجہ تھی کہ انتہائی کم عرصہ میں ان کے پیروکاروں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا، انہوں نے کہا کہ باچا خان نے عدم تشدد کا فلسفہ اسی لئے دیا کہ ماضی میں پشتونوں کی تاریخ میں لڑائی جھگڑوں اور بزور طاقت حکمرانی کی جاتی رہی لہذا باچا خان نے قوم میں شعور اجاگر کرنے کیلئے قلم کا سہارا لیا ، اسی طرح جو اقتصادی نظام انہوں نے دیا اس میں سماجی انصاف بنیادی نکتہ تھا تاکہ سب کو برابری کی بنیاد پر حق ملنا چاہئے ،انہوں نے کہا کہ پشتونوں کو ہر دور میں تعصب کا نشانہ بنایا گیا جو قابل مذمت ہے۔