خان صاحب!پرانے نعرے کی ناکامی کے بعد نیا نعرہ لے آیا،بلاول بھٹو

عمران اورالطاف ایک دوسرےکاعکس ہیں،ایک تقریرکرکےمعافی مانگتا ہےدوسرایوٹرن پریوٹرن لیتا ہے،پہلےلندن سےاب بنی گالہ سےکراچی پرراج کرنے کےخواب دیکھےجارہےہیں،میاں صاحب آپ عوام کی عزت کرتے توآپ کوعزت ملتی۔کراچی میں عوامی جلسہ سے خطاب

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ اتوار اپریل 21:06

خان صاحب!پرانے نعرے کی ناکامی کے بعد نیا نعرہ لے آیا،بلاول بھٹو
کراچی(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔29 اپریل 2018ء) : چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ خان صاحب!پرانے نعرے کی ناکامی کے بعد نیا نعرہ لے آیا، عمران اور الطاف ایک دوسرے کاعکس ہیں، ایک ہڑتال تودوسرا دھرنا دیتا ہے،ایک تقریر کرکے معافی مانگتا ہے دوسرا یوٹرن پریوٹرن لیتا ہے، پہلے لندن سے اب بنی گالہ سے کراچی پرراج کرنے کے خواب دیکھے جارہے ہیں،ہم بانی ایم کیوایم کی سیاست کے پہلے دن سے مخالف تھے۔

انہوں نے آج لیاقت آباد ٹنکی گراؤنڈ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اہل کراچی کومیرا سلام! میں شہیدوں کوسلام پیش کرتاہوں۔یہ وہی علاقہ ہے جہاں پہلے گولی بعد میں بات کی جاتی تھی۔یہ وہی علاقہ ہے جہاں میں پیدا ہوا اور سانس لیا۔لالوکھیت صابری برادران کا کراچی ہے۔

(جاری ہے)

صابری برادران نے میرے نانا کیلئے سدا رہے آباد، بھٹو زندہ باد قوالی بنائی۔انہوں نے کہا کہ شہر قائد میں نسل پرستی کے بیج بوئے گئے،طاقت کے زور پرکراچی میں پیپلزپارٹی کی حمایت کوختم کرنے کی کوشش کی گئی، اور نفرت کے بیج بوئے گئے۔

پیپلزپارٹی کوختم کرنے کیلئے ہزاروں جیالوں کوشہید کردیا گیا۔ جیالوں کوگھروں میں گھس کرگولیاں ماری گئیں۔ مگر دیکھ لوہم فنا نہیں ہوئے۔کیونکہ بھٹو تقدیر کاوہ پرند ہ ہے جوباربار اپنی ہی راکھ سے پیدا ہوتا ہے۔بلاول نے کہا کہ 30سالوں میں کراچی میں جو ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔لیکن وہ وقت گزر گیا اب کیا کرنا ہے یہ پیغام لیکر میں آپ کے پاس آیا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کامسئلہ کراچی میں پیدا ہونے والا اور محبت کرنے والا ہی حل کرسکتا ہے۔ اور ہاں ! میں بھی کراچی والا ہوں۔ جائیں اپنے بڑے سے پوچھو کہ انہوں نے بھٹو سے کیسے وفا کی ؟ انہوں نے کہا کہ کراچی میں اگر آپریشن قائم ہوا تواس آپریشن کے کپتان وزیراعلیٰ سندھ تھے۔یہ الگ بات ہے کہ اب ہرکوئی امن کاجھنڈا لیکر پھر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب دہشتگردوں کے سامنے سب کے سرجھکے ہوئے تھے تب پیپلزپارٹی ان کے سامنے ڈٹی ہوئی تھی۔

اب امن توقائم ہوگیا ہے لیکن اب سوچا کہ پولیس کوفعال کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ پولیس میں سیاسی بھرتیوں کوختم کرنا ہوگا۔ایسی پولیس ہوگی جس پرعوام کواعتماد ہو۔ہم پرفیکٹ نہیں مگر ہم ٹارگٹ کلر والی پارٹی نہیں ہے۔لاء اینڈ آرڈر کے نام پرانسانی حقوق کی دھجیاں اڑانا بند کرو۔انہوں نے کہا کہ ہم الطاف حسین کی سیاست کے پہلے دن سے ہی خلاف تھے۔

آج وہ بھی ہیں۔جنہوں نے الطاف کوچھوڑ دیا مگر سیاست آج بھی الطاف والی کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جوجماعت مینڈیٹ لیتی ہے اس کاکام ہے کہ عوامی مسائل حل کرے۔ کراچی میں پانی اور صفائی بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔جبکہ کراچی کے دواضلاع میں بڑی سڑکیں روز دھوئی جاتی ہیں۔بلاول نے کہا کہ ہمیں ووٹ دوایم کیوایم کی طرح گٹروں میں بوریاں ڈال کربند نہیں کریں گے۔

ایم کیوایم والے کہتے ہیں ووٹ ہمیں دولیکن بدانتظامی پرگالیاں پیپلزپارٹی کودو۔انہوں نے کہاکہ ہم نے پورے سندھ میں سب سے زیادہ کراچی میں ترقیاتی اسکیمیں بنائیں۔۔کراچی میں کالجز، سکولز،ہسپتال بنائیں لیکن ان لوگوں نے کیا کام کیا ہے؟ایشیاء کا سب سے بڑا دل کا ہسپتال بھی کراچی میں ہے۔انہوں نے کہا کہ آج ایک لیڈر کراچی میں نفرت کے بیج بونے کی کوشش کررہا ہے۔

طالبان کے بچھڑے بھائی کوپرامن کراچی پسند نہیں ہے۔عمران اور الطاف ایک دوسرے کاعکس ہیں۔۔عمران خان نے کراچی والوں کوزندہ لاشیں کہا۔ایک ہڑتال کرتا ہے تودوسرا دھرنا دیتا ہے۔ایک تقریر کرکے معافی مانگتا ہے تودوسرا یوٹرن لیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پہلے لندن سے اب بنی گالہ سے کراچی پرراج کرنے کے خواب دیکھے جارہے ہیں۔ پرانے نعرے کی ناکامی کے بعد نیا نعرہ لے آیا۔

دونہیں ایک پاکستان ۔ انہوں نے کہاکہ خان صاحب کیا آپ عوام کوبے وقوف سمجھتے ہو؟ آپ خیبرپختونخواہ میں توکاکردگی نہ دکھا سکے؟ بلاول نے کہا کہ نوازشریف وعدہ کراچی والوں سے اور تکمیل کہیں اور کرتے ہیں۔۔نوازشریف نے رہی سہی بجلی بھی چھین لی۔۔کراچی کے لوگوں کومہینوں گیس کی فراہمی روک کرمحروم رکھا۔ نوازشریف آپ ووٹ کی عزت کی بات کرتے ہو؟ آپ کوعزت تب ملتی جب آپ پارلیمان ،عوام کی عزت کرتے۔