ایک بھی بے گناہ کا خون بہائے بغیر کراچی میں امن قائم کیا، مراد علی شاہ

کراچی کے لیے 25 ارب کا بجٹ نہیں بلکہ 5 ارب روپے کا پیکیج دیا گیا، وزیر اعلی سندھ شریف برادران نے کراچی کا خون چوسا ہے، نوازشریف چار سال وزیراعظم رہے کیا ایک رات بھی کراچی میں گزاری جلسہ عام سے خطاب

اتوار اپریل 21:20

. کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 اپریل2018ء) وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ایک بھی بے گناہ شخص کا خون بہائے بغیر کراچی میں امن قائم کیا، پیپلز پارٹی نے ہمیشہ کراچی اور سندھ کی خدمت کی اور آگے بھی کرتی رہے گی، ن لیگ کی حکومت نے نام نہاد بجٹ پیش کیا، کراچی کے لیے 25 ارب کا بجٹ نہیں دیا گیا بلکہ 5 ارب روپے کا پیکیج دیا گیا۔اتوارکو کراچی کے علاقے ایف بی ایریا میںجلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ شریف برادران ہمیشہ کراچی کا خون چوستے رہے، جو شہر پورا ملک چلاتا ہے اس کے لیے وفاقی بجٹ میں 25 ارب روپے مختص کیے گئے، مجھے بتادیں یہ رقم کس بجٹ کی کتاب میں ہی وفاقی بجٹ میں صرف 5 ارب روپے کا پیکیج دیا گیا یہ رقم تو دو ماہ میں ختم ہوجاتی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہر الیکشن سے پہلے کراچی میں نئے وارث پیدا ہوجاتے ہیں، 2013 کا الیکشن ہارنے کے بعد عمران خان کراچی سے غائب ہوگئے اور اب الیکشن قریب آتے ہی وہ یہاں کے دورے کرنے لگے ہیں، عمران خان کو کہا ہے کہ سیاست ان کا کام نہیں وہ کرکٹ کھیلیں، عوام کی خدمت کرنا صرف بھٹو خاندان کا کام ہے۔

مسلم لیگ(ن) کے صدر اور پنجاب کے وزیر اعلی میاں شہباز شریف کے دورہ کراچی پر ردعمل دیتے ہوئے وزیراعلی سندھ نے کہا کہ شریف برادران نے کراچی کا خون چوسا ہے، نوازشریف چار سال وزیراعظم رہے کیا ایک رات بھی کراچی میں گزاری نوازشریف کا چھوٹا بھائی کراچی کو کبھی نیویارک بنانے کا کہتا ہے تو کبھی کچھ لیکن ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ آپ کا دل کراچی والوں کے ساتھ نہیں دھڑکتا بلکہ عوام کے دلوں میں پیپلز پارٹی رہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی شہر میرے لیے بہت اہم ہے ،اس شہر میں میری پیدائش ہوئی ،مجھے اس شہر نے اچھی تعلیم دی اور میرے قائد چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی اسی شہر میں پیداہوئے ۔انہوں نے کہا کہ اس شہر سے ہماری محبت ، ہماری سچائی اور ہماری اونر شپ ان سب سے کہیں زیادہ ہے جنہوں نے اس شہر کو یرغمال بنا کر لوٹا۔ وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ80کی دہائی سے لے کر کراچی اور پورے ملک کے ساتھ ظلم ہوتارہا۔

ضیا الحق نے کراچی کے امن کو بڑا نقصان پہنچایا لیکن ہم نے کراچی کے امن کو دوبارہ بحال کیا اور بغیر خون بہائے شہر میں امن لائے۔ انہوں نے کہا کہ اس شہر میں ہمارا خون شامل ہے ۔ سانحہ بلدیہ میں ملوث افراد کو معاف نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت سے آئے لوگ کسی بھی شہر میں رہے وہ سندھی ہیں۔ ہمارے بڑے بوڑھے بھی سعودی سے آئے مگر انہوں نے خود کو سندھی کھلوایا۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن سے پہلے یہاں نئے وارث پیدا ہوگئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ عمران خان بلا لے کر کرکٹ کھلیے ، عوام کی خدمت کرنا ان کے بس کی بات نہیں۔ مراد علی شاہ نے بجٹ کے حوالے سے کہا کہ وفاق نے کراچی کے لیے کوئی پیکیج نہیں دیا ،،کراچی کو نام نہاد بجٹ دیا گیا اوربجٹ میں کراچی کو صرف 5 ارب روپے دیئے گئے جو کہ کراچی کا صرف دو مہینے کاخرچ ہے حالانکہ سندھ پاکستان کو چلانے والا صوبہ ہے۔

وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے نواز شریف کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ نواز شریف 4 سال تک وزیر اعظم رہے مگر ایک رات بھی انہوں نے کراچی میں گزارنا گنوارا نہیں سمجھا ۔ انہوں نے کہا کہ سیاست کرنا صرف بھٹو خاندا ن کا کام ہے ۔ پاکستان پی پی پی ضلع وسطی میں بھی کامیابی حاصل کرے گی۔ ۔ وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ ہم نے کہا تھا کہ پی ایس ایل کا فائل کراچی میں کرائیں اور کرایا۔

کراچی بلاول اور بلاول کراچی کا ہے ۔وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ کراچی شہر تاریخی طورپر پرامن ،سیاح و ثقافت، تعلیم اور خوشحالی کا مرکز تھا۔اس شہر کا دامن ہمیشہ وسیع رہا جو جہاں سے بھی آیا اس شہر نے اس کو اپنی آغوش میں جگہ دی۔اس شہر کی قسمت تب اجڑی جب یہاں کے عوام نے دھوکے میں آکر ایک ایسی پارٹی کا انتخاب کیا جس نے قوم پرستی کے نام پر یہاں کے عوام کو یرغمال بنایا، مائوں کی گودیں اجاڑیں اور ان کے سہاگ چھینے، بچوں کو یتیم بنایا اور ان سے ان کی تعلیم کازیور، ان کے والدین کا سایہ چھین کر ان کے ہاتھ میں بندوق تھما دی اور اس کے ذہن میں نفرت کا ایسا بیج بویا کہ چھوٹی عمر میں ہی بچوں کو نفرت کی راہ پر گامزن کردیا۔

تعلیم،، کاروباری سرگرمیاں ، ثقافتی اجالے سب کے سب تباہ ہوگئے۔ وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ کراچی کے عوام پر ایسے ایسے مظالم ڈھائے گئے جن کو سن کر شاید ہٹلر اور چنگیزی سوچ رکھنے والے بھی شرما جائیں۔انہوں نے کہا کہ عورتوں کی چھاتیاں کاٹی گئیں، مخالفین کو پکڑ پکڑ کر ان کے جسم میں ڈرل مشین سے سوراخ کئے گئے، لوگوں کو قتل کرکے ان کی لاشیں بند بوریوں میں سڑکوں پر پھینکی گئیں اور وکیلوں کو ان کے چمیبر میں جلایا گیا، مزدوروں کو ان کی فیکٹریوں کے اندر آگ لگا کر زندہ جلا دیا گیا۔

ا نتہائی گھنائونی سیاست شروع کی گئی ،کسی کو کچھ پتہ نہیں تھا کہ اس کی زندگی کب اس سے چھینی جائے گی ہر طرف چند ٹارگٹ کلر ، بھتہ خور، بسیں اور پٹرول پمپ جلانے والوں نے یہاں کے عوام کو غیر محفوظ کردیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ہم نیاپنے شہر کراچی کے عوام کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ ہم نہ صرف اس شہر کی رونقیں بحال کریں گے بلکہ یہاں کی درسگاہوں کو ، یہاں کے چوراہوں کو ،یہاں کے ثقافتی کوچوں کو اور کاروباری مراکز کو دہشتگردوں ، قانون شکنوں ، بھتہ خوروں اور ٹارگٹ کلروں سے آزاد کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ نے جس بردباری سے شہر میں ٹارگیٹڈ آپریشن شروع کیا اس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی یہ ایسا آپریشن تھا کہ کسی معصوم کو ہاتھ بھی نہیں لگایا گیا اور نہ ہی کسی خاتون کی بے حرمتی کی گئی لیکن دہشتگرد وں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر چن چن کر کیفر کردار تک پہنچایاگیا۔انہوں نے کہا کہ آج یہ شہر اور اس شہر کے عوام ، اس شہر کی رونقیں ، اس شہر کے تعلیمی ادارے اور کاروبار کی ترقی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ ہم نے دہشتگردی سے اس شہر کو پاک کرنے کے بعد اس شہر کی تعمیر نو شروع کی ، آج اس شہر کی اہم شاہراہیں عالمی معیار کے مطابق دوبارہ تعمیر کی گئی ہیں۔ اس شہر میں انڈر پاسس، فلائی اوورز،نالے اور نکاسی کا نظام اور پانی کا نظام دوبارہ تعمیر کیاجارہاہے اور اگلے مہینے کی آخر تک بڑے بڑے اہم کام مکمل ہوجائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے بچوں کے واحد انٹرٹینمنٹ والی جگہ چڑیا گھر کو از سرِ نوتعمیر کررہے ہیں تاکہ یہاں کے بچے یا فیملیز وہاں جاکر لطف اندوز ہو سکیں۔

انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ کراچی کے عوام باشعور ہیں، تعلیم یافتہ ہیں اور اچھے طریقے سے سمجھتے ہیں کہ کون ان کے ساتھ ہے اور مشکل کے وقت میں کون ان کاساتھ دے گا اور سب سے بڑی بات اس شہر کو اونر شپ کس نے دی ہے، یہ صرف پاکستان پیپلزپارٹی ہے جس نے کراچی کے عوام کو نہ صرف یرغمالیوں سے نجات دلائی بلکہ مائوں اور بہنوں کے آنسوں بھی پہنچیں ۔انہوں نے کہا کہ آج ہم اپنی قیادت کے ساتھ آپ کے یہاں یہ بتانے آئے ہیں کہ نقالوں سے ہوشیار رہیں اور ہماریہاتھ مضبوط کریں تاکہ ہم اس شہر کو کوئی پیرس، کوئی نیویارک، کوئی سوئٹزرلینڈ نہیں بلکہ اس کی اصل شناخت روشنیوں کا شہر ، تعلیم کا گہوارہ ، ثقافت کا کوچہ اور امن کا گہوارہ بنا سکیں۔