پاکستان میں ترقی کا راستہ کسی نے دکھایا تو وہ ذوالفقار علی بھٹو نے دکھایا ،کراچی میں لاشوں کی سیاست کا وقت ختم ہوگیا ہے ، سینئرصوبائی وزیر سندھ

نمبر ون میئر کہلانے والوں نے شاہراہ فیصل کو سگنل فری کوری ڈور تک نہیں بنا سکے، مشرف کے ریفرنڈم کی حمایت کرنے والوں کو قوم معاف نہیں کرے گی، نثار کھوڑو

اتوار اپریل 21:20

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 اپریل2018ء) پیپلزپارٹی سندھ کے صدر اور سینئر صوبائی وزیر نثار کھوڑو نے کہا ہے کہ پاکستان میں ترقی کا راستہ کسی نے دکھایا تو وہ ذوالفقار علی بھٹو نے دکھایا کراچی میں لاشوں کی سیاست کا وقت ختم ہوگیا ہے ،نمبر ون میئر کہلانے والوں نے شاہراہ فیصل کو سگنل فری کوری ڈور تک نہیں بنا سکے مشرف کے ریفرنڈم کی حمایت کرنے والوں کو قوم معاف نہیں کرے گی۔

وہ اتوار کو لیاقت آباد ٹنکی گرائونڈ میں پیپلزپارٹی کے تحت جلسہ عام سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ معزرت کرتا ہوں آج جلسہ گاہ میں کرسیاں کم پڑ گئیں پنکھا ہاتھ میں لیکر احتجاج کرنے والوں کو بھی قوم نے مسترد کردیا اس قوم کی امید صرف بلاول بھٹو ہیں انہوں نے کہا کہ مجھے کیوں نکالا کا رونا رونے والے سن لیں آپکو آپکے کرتوت اور عوام نے نکالا ہے سینیٹر میاں رضا ربانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ کراچی میں پیپلزپارٹی کے کارکنان کو چن چن کر مارا گیا مگر ہم نے اسکے باوجود شہر کی رونقوں کو برباد ہونے سے بچایا۔

(جاری ہے)

آج بھٹو سے لیکر بھٹو تک وہی صورتحال ایک بار پھر پیدا ہورہی ہے موجود حکومت نے جو بجٹ دیا ہے وہ عوام دشمن اور مزدور دشمن ہے بجٹ موٹے پیٹ رکھنے والے سرمایہ داروں کا بجٹ ہے۔ یہ کارپوریٹ بجٹ ہے پیپلزپارٹی اس عوام دشمن بجٹ کو مسترد کرتی ہے انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی عوام کے لئے جدوجہد کرتی رہیگی رضا ربانی نے کہا کہ کوئی کہتا ہے کہ میں تبدیلی لارہا ہوں کیا آپ بلے اور بال سے تبدیلی لاونگے انقلاب برپا اس وقت ہوتا ہے جب عوام کی حالت بدلتی ہے کراچی کے عوام نے بہت تکالیف برداشت کرلیں سابق وزیراعلی سندھ سید قائم علی شاہ نے جلسے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وہ کراچی سے الیکشن لڑینگے وہ بھول جائیں ماضی میں یہاں گولیاں چلتی تھی لوگ ہم سے امن مانگتے تھے وہ گولیاں بند ہوگئیں اب پیپلزپارٹی کے جھنڈے یہاں لہرا رہے ہیں۔

ٹارگٹ کلنگ،، بھتہ خوری، اغوا کی وارداتیں ہوتی تھی وہ ختم ہوگئیں دہشتگردی کو ہم نے ختم کیا باقی جو تھوڑے بہت جرائم ہیں وہ بھی ختم کرینگے۔ ہم رینجرز پولیس اور اس وقت اور موجودہ آرمی چیف کو بھی سلام پیش کرتے ہیں ایک شخص کہتا ہے کہ اس نے کراچی میں امن قائم کیا اس پر قائم علی شاہ نے جنگل میں بندر کی مثال سنائی۔ انہوں نے اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کا نام لئے بغیر تنقید کی اور کہا کہ امن وامان کے قیام کے لئے وعدوں کے باوجود فنڈز فراہم نہیں کئے۔

جلسے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ مقامی انتظامیہ کو اس گرانڈ سے دس گنا بڑا گرانڈ میں جلسہ کرنا چاہئیے تھا انہوں نے کہا کہ میں بھی کراچی میں پیدا ہوا ہوں بلاول بھٹو زرداری کی پیدائش بھی کراچی کی ہے اسلام اس صوبے میں آیا پاکستان کی قرارداد سب سے پہلے اس صوبے کی اسمبلی نے منظور کی۔ سندھ میں جو آتا ہے یہ صوبہ اسے آغوش میں لے لیتا ہے میرے آبا اجداد بھی عرب سے آئے اور پھر یہیں کے ہوکر رہ گئے یہاں ہندوستان سے لوگ آئے بڑی خوشی سے لوگ یہاں رہ رہے تھے پھر اس صوبے کو نظر لگ گئی ڈکٹیٹر ضیا نے منتخب وزیراعظم کو پھانسی دی اور کراچی سمیت پورے ملک کے امن کو خراب کیا۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ کیا ہم بلدیہ فیکٹری میں مزدوروں کو جلا کر راکھ کرنے والوں کے ساتھ بیٹھتے ہم نے بے گناہوں کے خون کا حساب لینے کا فیصلہ کیا اور کراچی میں آپریشن شروع ہوا۔ میرے چچا کو یہاں شہید کیا گیا کیا ہم یہ برداشت کرسکتے تھے -اب عوام نے دیکھ لیا کہ پیپلزپارٹی عوام کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کریگی انہوں کے کہا کہ ہم نے یہاں مثالی امن قائم کیا اکیس سال بعد برہانی کمیونیٹی کے سربراہ یہاں آئے پیپلزپارٹی نے کراچی میں دو ضمنی الیکش جیتے دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن میں عوام یہاں سے پیپلزپارٹی کو کامیابی دلائینگے۔

انہوں نے کہا کہ ہر الیکش سے پہلے کچھ وارث آتے ہیں اب شہر کے نئے وارث آگئے ہیں عمران خان شہر کے زیادہ چکر لگا رہے ہیں آپ کرکٹ کھیلو آپکا کام سیاست نہیں سیاست اور خدمت صرف پیپلزپارٹی کرتی ہے۔ ن لیگ والوں نے سندھ والوں کا خون چوسا ہے کہا کہ سمندر کا پانی میٹھا کرنے کا منصوبہ پرائیوٹ سیکٹر سے لگائینگے افسوس ہے۔ سینیٹر شیری رحمان نے کہا نکل وفاقی حکومت نے کراچی کو نظر انداز کیا اب بھٹو کا نواسہ آگیا ہے اس شہر کی شناخت کو بحال کرینگے روشنیاں لوٹ آئینگے ایوان صدر میں یومیہ نوے کروڑ روپے کے اخراجات ہورہے ہیں وہ کس پر خرچ ہورہے ہیں بتایا جائے یہ عوام کے ساتھ ظلم ہے انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا جھوٹا وعدہ کیا عوام آج بھی لوڈشیڈنگ کا عزاب جھیل رہے ہیں شیری رحمان نے نعرے بھی لگوائے انہوں نے کہا اب یہاں بجا تیر چلے گا۔

پیپلزپارٹی کی رکن قومی اسمبلی اور خواتین ونگ کراچی کی صدر شاہدہ رحمانی کا کہنا تھا کہ یہاں لسانیت کے نام پر لوگوں کو تقسیم کیا گیا اب یہ دور ختم ہوگیا۔ کراچی:: پیپلزپارٹی کے رہنما راشد ربانی نے کہا کہ لیاقت آباد سمیت شہر سے خوف اور دہشت کا خاتمہ ہوگیا ہے شہر کو اندھیرے میں دھکیلنے والوں کو عوام نے مسترد کردیا ہے بلاول بھٹو زرداری شہر کو اندھیروں سے نکالیں گے الیکشن میں اتنے تیر چلائیں کہ دشمن کے سینے پر چلیں شہر کو لوٹنے والوں کا آج حساب پورا ہوچکا ہے۔

لیاقت آباد والوں کو تعلیم ، صحت مبارک ہو۔ پیپلزپارٹی ضلع وسطی کے صدر ظفر صدیقی نے کہا کہ چوالیس سال بعد پیپلزپارٹی کا کوئی لیڈر یہاں جلسہ کررہا ہے لیاقت آباد اردو بولنے والوں کا علاقہ ہے یہاں کے حکمرانوں نے علاقہ مکینوں کو یونی ورسٹی، کالج اسپتال اور صحت کی کوئی سہولت نہیں دی۔ پیپلزپارٹی اردو بولنے والوں کے علاقے میں بھی بلا رنگ و نسل کام کریگی انہوں نے کہا کہ ہمارے کئی کارکنان کو پیپلزپارٹی کے لئے کام کرنے پر شہید کیا گیا ہم اردو بولنے والوں کا اپنی پارٹی میں خیر مقدم کرتے ہیں۔