ختم نبوت کے لیے دس حکومتیں قربان کر سکتا ہوں ،یہ ہمارے ایمان کا تقاضہ ہے ،ختم نبوت پر جسے یقین نہیں وہ مسلمان نہیں

وزیر اعظم آزاد کشمیرراجہ محمد فاروق حیدر خان کا ختم نبوت کانفرنس سے خطاب

اتوار اپریل 21:20

باغ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 اپریل2018ء) وزیر اعظم آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیرراجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ ختم نبوت کے لیے دس حکومتیں قربان کر سکتا ہوں ،یہ ہمارے ایمان کا تقاضہ ہے ،ختم نبوت پر جسے یقین نہیں وہ مسلمان نہیں ، قرار داد ختم نبوت جب پیش ہوئی تو اس وقت بھی لوگوں نے اعتراضات اٹھائے تھے اور قرارداد پیش ہونے والے دن اسمبلی میں نہیں آئے ، اسی قرار داد کے بعد سردار عبد القیوم خان کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی گئی اور انہیں گرفتار کر لیا گیا اور سپیکر اور ایم ایل اے کو غائب کر دیا گیا ،مجھ پر قرار داد ختم نبوت کو قانونی شکل دینے میں دبائو نہیں تھا بلکہ میرا یہ مذہبی فریضہ تھا جو میں نے پورا کیا ، اس وقت بھی جب ہم اسے قانونی شکل دے رہے تھے تو ذہن میں یہی بات تھی کہ قیامت کے روز جب ہم اپنے نبی حضرت محمد ﷺ کے حضور پیش ہونگے تو وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ہماری سفارش کرتے ہوئے کہیں گے کہ اے اللہ یہ ہمارے سپاہی ہیں انہیں معاف کر دیں ،،پاکستان کی مضبوطی اور استحکام کے لیے سیاسی مفادات کو بالائے طاق رکھنا ہوگا ، سی پیک کی بدولت پاکستان خطے میں مرکزی اہمیت حاصل کر لے گا ،،پاکستان نے ہر جگہ مظلوم کی حمایت میں بات کی ،،پاکستان کشمیریوں کے دلوں میں بستا ہے‘ اہل پاکستان ہوش کے ناخن لیں ،،پاکستان مضبوط ہوگا تو ہندوستان کا مسلمان محفوظ ہوگا، پاکستان کے خراب حالات کا فائدہ اٹھا کر ہندوستان کشمیر میں قتل عام کررہا ہے اس وقت بھی پاکستان کیخلاف سازشیں جاری ہیں ،علماء کرام یکجہتی ، اتحاد و اتفاق کیلئے متحدد ہو کر اپنا کردار ادا کریں۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ختم نبوت کا نفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔کانفرنس کی صدارت کرنل ریٹائرڈ عبد القیوم خان نے کیا جبکہ جلسہ سے وزیر جنگلات سردار میر اکبر خان ،وزیر تعمیرات چوہدری محمد عزیز ، ممبر قانون ساز اسمبلی عبد الرشید ترابی ، عبد الرشید چغتائی ، عبد الوحید قاسمی ودیگر نے بھی خطاب کیا ۔۔وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ پاکستان کے علاوہ ہماری آواز کو دنیا بھر میں کسی نے نہیں اٹھا یا‘ آٹھ سال کی بچی کی عزت بھی مقبوضہ کشمیر میں محفوظ نہیں ،کشمیریوں کے اوپر جو مظالم کیے جارہے ہیں ان کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی علماء کرائم مذہبی رواداری قائم رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں ۔

مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر ہم سب ایک ہیں اور ایک رہینگے ۔۔مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کی قربانیاں نئی تاریخ رقم کررہی ہیں یہ ہم سے تقاضا کرتی ہیں کہ سیاسی تفریق کو مٹائیں اور ایک ہو کر ان کی آواز اٹھائیں ۔