عدالتوں کا مکمل احترام کرتے ہیں اور ان کے فیصلوں پر ہمیشہ عملدرآمد کیا ، میٹرک پاس اساتذہ جدید ترین نصاب نہیں پڑھا سکتے اس لیے انہیں ریٹائرڈ کیا

وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان کا ڈسٹرکٹ بار ایسو سی ایشن باغ کی نومنتخب باڈی کی تقریب حلف برداری سے خطاب

اتوار اپریل 21:20

باغ ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 اپریل2018ء) وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے عدالتوں کا مکمل احترام کرتے ہیں اور ان کے فیصلوں پر ہمیشہ عملدرآمد کیا ، میٹرک پاس اساتذہ جدید ترین نصاب نہیں پڑھا سکتے اس لیے انہیں ریٹائرڈ کیا اب اس حوالے سے جو قانونی پیچیدگیاں ہیں جن کے باعث حکم امتناعی آیا انہیں دور کرینگے،ماضی میں بڑے بڑے لوگ برسراقتدار رہے مگر ان میں سے کسی نے بھی اہم ترین ریاستی مسائل کے حل کی جانب پیش رفت نہیں کی‘ میں نے اس لیے ان پر آواز اٹھائی کیونکہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس سے کشمیریوں اور پاکستان کے درمیان رشتہ مزید مظبوط اور حقیقی بنیادوں پر استوار ہوگا عام آدمی کی انصاف تک رسائی کے لیے حکومت تمام ترضروری اقدامات اور مزید وسائل فراہم کرنے کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریگی ،عدالتی اصلاحات چیف جسٹس نے کرنی ہیں ہم بھرپور تعاون کا یقین دلاتے ہیں ۔

(جاری ہے)

ہم نے ہائیکورٹ میں ججز کی آسامیوں میں اضافہ کیا،شریعہ اپیلٹ بینج ،ضلعی سطح پر فیملی کورٹس کا قیام عمل میں لایا، محمد نواز شریف سابق وزیراعظم کی خصوصی دلچسپی پر وزیراعظم پاکستان ،وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے شکر گزار ہیں جنہوں نے آئندہ مالی سال کے لیے آزادکشمیر کیلئے تاریخ سازساڑھے 25 ارب روپے ترقیاتی بجٹ مختص کیا ،وکلاء معاشرے کا اہم طبقہ اور نظام عدل میں بنیادی اہمیت کے حامل ہیں‘ قانون سازی میں ان کے ساتھ مشاورت یقینی بنائی جائیگی ۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے ڈسٹرکٹ بار ایسو سی ایشن باغ کی نومنتخب باڈی کی تقریب حلف برداری سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر اسمبلی کو اختیارات کی واپسی سے محرومیوں کا خاتمہ ہوگا ،ہم ریاست کو خودکفالت کی منزل کی جانب لیجانا چاہتے ہیں اپنی آمدنی میں اضافہ کررہے ہیں ،سیاحت کے فروغ سے روزگار میں اضافہ ہو گا۔۔مسلم لیگ ن کی حکومت نے آزادکشمیر کی تعمیرو ترقی کے لیے ریکارڈ ترقیاتی فنڈز فراہم کیے اس سال پورے پاکستان میں سے ترقیاتی اخراجات میں آزادکشمیر پہلے نمبر پر رہا جس پر ہمارے ترقیاتی بجٹ میں اضافہ کیا گیا ،شاندار کارکردگری پر وزراء ،بیورکریسی سرکاری ملازمین کو مبارکبادپیش کرتا ہوں‘ آزادکشمیر کے لوگ پاکستانیوں سے بڑھ کر پاکستانی ہیں۔

وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ اس وقت ہندوستان پر پانچ فیصد برہمن سامراج کی حکومت ہے ایک عام ہندوستانی خواہ وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو سے ہمیں کوئی اختلاف نہیں نہ ہی اس سے ہمارا کوئی جھگڑا ہے ہم تصادم نہیں چاہتے مگر جب ہماری چھوٹی بچیوں کے ساتھ زیادتیاں کی جائین اور جینا اجیرن کیا جائے تو پھر اس کے خلاف جدوجہد کرنی چاہیے‘ مقبوضہ کشمیر کے اندر جو کچھ ہو رہا ہے ان حالات میں تمام مکاتب فکرکی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنا بھرپور کردار ادا کریں اور انسانی حقوق کی ان خلاف ورزیوں کو دنیا بھر کے سامنے بے نقاب کریں۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت اور عدلیہ میں تصادم کسی صورت نہیں ہونا چاہیے یہ ادارے ریاست کے ادارے ہیں اور عدالتی احکامات پر عملدرآمد ایگزیکٹو نے ہی کرنا ہوتا ہے ان دونوں کے درمیان آئین میں دیے گئے طریقہ کار کے مطابق معاملات کو چلانا ہوتاہے تصادم یا پھر ملی بھگت دونوں ہی نقصان دہ ہیں۔ راجہ فاروق حیدر خان نے کہا کہ آزادکشمیر کے آئین میں ترامیم ضرور ہونگی ،معاملے پر دلچپسی لینے پر وزیراعظم پاکستان کے شکرگزار ہیں کچھ لوگوں کا کردار اس معاملے میں انتہائی بھیانک رہا ہے تاریخ یہ فیصلہ کریگی کہ کو ن کہا ں کھڑا تھا ہندوستان آزادکشمیر کے اندر نظریاتی تخریب کاری کرنے کی کوشش کررہا ہے لیکن وہ برے طریقے سے ناکام ہوگا اور ہوا ہے‘ آزادکشمیر کے حکومت پاکستان سے متعلقہ معاملات پر پیش رفت اس لیے بھی ضروری ہے کہ مخالفین کو پروپیگنڈے کے لیے کوئی موقع نہ مل سکے‘ وہ وقت گزر گیا چند ایک لوگ اپنے آپ کو ہر جگہ کیش کرواتے تھے‘ ماضی میں بڑے بڑے لوگ برسراقتدار رہے مگر ان میں سے کسی نے بھی دیرینہ مسائل کے حل کی جانب پیش رفت نہیں کی۔