سپریم کورٹ نے 37پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز کے تقرر کے طریقے کار پر ازخود نوٹس لے لیا‘ چیف سیکرٹری پنجاب کو تقرر کے طریقے کار پر رپورٹ کرنے کا حکم

اتوار اپریل 22:10

لاہور۔29 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 اپریل2018ء) سپریم کورٹ نے پنجاب میں 37 پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں وائس چانسلر ز کے تقرر کے طریقہ کار پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکرٹری پنجاب کو تقرر کے طریقہ کار پر رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا،،چیف جسٹس آف پاکستان مسٹرجسٹس میاں ثاقب نثار نے ہفتہ وار تعطیل کے باوجود اتوار کے روز بھی سپریم کورٹ رجسٹری میں درخواستوں پر سماعت کی۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ بتایا جائے کہ پنجاب بھر کی یونیورسٹیوں میں یکساں پالیسی کیوں نہیں اپنائی جارہی۔ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے نشاندہی کی کہ پسماندہ علاقوں میں قائم یونیورسٹیوں میں جانے کو کوئی تیار نہیں ہوتا جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ خود سے یہ رائے کیسے قائم کرلی جاتی ہے کہ پسماندہ علاقوں میں کوئی جانے کو تیار نہیں ہے‘ دوسری جانب چیف جسٹس آف پاکستان نے نیشنل کالج آف آرٹس کے پرنسپل مرتضٰی جعفری کی میرٹ کے برعکس تقرری کا ازخود نوٹس لے لیا۔

(جاری ہے)

دوران سماعت کالج کے پروفیسر راو دلشاد نے بتایا کہ مرتضٰی جعفری کو عہدے کی معیاد مکمل ہونے کے باوجود توسیع دے دی گئی اور اب قانون میں تبدیلی کے زریعے عمر کی حد بڑھائی جا رہی ہے۔۔چیف جسٹس پاکستان نے نیشنل کالج آف آرٹس کے پرنسپل کو ملازمت میں توسیع دینے پر تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔