چیف جسٹس آف پاکستان نے پاکستان کڈنی لیور انسٹیٹیوٹ میں بھاری تنخواہوں اور مراعات سے متعلق ازخود نوٹس لے لیا ،ْ چیف جسٹس نے انفارمیشن کمشنر پنجاب کے خالی عہدے پر تقرری کرنے کا بھی حکم دے دیا

اتوار اپریل 22:10

لاہور۔29 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 اپریل2018ء) چیف جسٹس آف پاکستان نے پاکستان کڈنی لیور انسٹیٹیوٹ میں بھاری تنخواہوں اور مراعات سے متعلق ازخود نوٹس لے لیا، چیف جسٹس نے انفارمیشن کمشنر پنجاب کے خالی عہدے پر تقرری کرنے کا بھی حکم دے دیا۔

(جاری ہے)

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے شہریوں کی درخواست پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے پاکستان کڈنی اینڈلیور ٹرانسپلانٹ انسٹیٹیوٹ کے بجٹ،، بھرتی کیے گئے ڈاکٹرز اور عملے کی تفصیلات پیش کرنے کا حکم دے دیا،عدالت نے پی کے ایل آئی اے میں ڈاکٹر اور دیگر ملازمین کے سروس اسٹرکچر کی تفصیلات بھی طلب کر لیں، چیف جسٹس نے چیف سیکرٹری پنجاب کو ہدایت کی ہے کہ پی کے ایل آئی کی طلب کی جانے والی تفصیلات شام تک چیف جسٹس کی رہائش گاہ پر فراہم کی جائیں، چیف جسٹس نے کہا کہ ان کے نوٹس میں آیا ہے کہ لیور ٹرانسپلانٹ ہسپتال میں پندرہ پندرہ لاکھ روپے پر ڈاکٹروں کو بھرتی کیا گیا ہے، چیف جسٹس نے چیف سیکرٹری سے استفسار کیا کہ پی کے آئی ایل کا سربراہ کون ہے، چیف سیکرٹری نے بتایا کہ ڈاکٹر سعید اختر پی کے ایل آئی کے سربراہ ہیں وہ عمرے کی ادائیگی پر گئے ہیں، پی کے ایل آئی ٹرسٹ ہسپتال ہے،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ سنا ہے ڈاکٹر سعید کی اہلیہ بھی وہاں تعینات کی گئی ہیں، عدالت نے کہا کہ پی کے آئی ایل سے متعلق تمام تر تفصیلات فوری پیش کی جائیں، عدالت نے چیف انفارمیشن کمشنر پنجاب کی ایک برس سے خالی سیٹ پر عدم تقرری کا نوٹس لے لیا، چیف جسٹس نے شہری کی درخواست پرازخود نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکرٹری پنجاب کو چیف انفارمیشن کمشن کی میرٹ پر تقرری کی ہدایت کر دی۔