کاغذی شیروں اور کرکٹ کھیلنے والے آمریت کی پیدوار ہیں، رہنما پاکستان پیپلز پارٹی

)لیگ اور پی ٹی آئی کو آئندہ انتخابات میں عوام مسترد کر دیں گے ۔ آئندہ الیکشن میں پیپلز پارٹی کا سورج طلوع اور دیگر پارٹیوں کا غروب ہونے والا ہے،کراچی میں بدامنی کی ذمہ دار ایم کیو ایم ہے ۔ آج کے جلسے نے کراچی سے خوف کے بت کو توڑ دیا ہے، لیاقت آباد ٹنکی گرائونڈ میں جلسہ عام اب آئندہ کراچی والے شہید بی بی کے بیٹے اور ان کی جماعت کو ووٹ دیں گے، شیری رحمان، رضا ربانی، مراد علی شاہ، قائم علی شاہ، نثار کھوڑو ودیگر کا خطاب

اتوار اپریل 22:20

راچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 اپریل2018ء) پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنمائوں نے کہا ہے کہ کاغذی شیروں اور کرکٹ کھیلنے والے آمریت کی پیدوار ہیں ۔(ن)لیگ اور پی ٹی آئی کو آئندہ انتخابات میں عوام مسترد کر دیں گے ۔ آئندہ الیکشن میں پیپلز پارٹی کا سورج طلوع اور دیگر پارٹیوں کا غروب ہونے والا ہے ۔ کراچی میں بدامنی کی ذمہ دار ایم کیو ایم ہے ۔

آج کے جلسے نے کراچی سے خوف کے بت کو توڑ دیا ہے ۔ اب آئندہ کراچی والے شہید بی بی کے بیٹے اور ان کی جماعت کو ووٹ دیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار پیپلز پارٹی کے رہنماں رضا ربانی ، شیری رحمان ، وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ ، سابق وزیر اعلی سندھ قائم علی شاہ ، نثار احمد کھوڑو ، وقار مہدی ، سعید غنی ، جاوید ناگوری ، شاہدہ رحمانی اور ظفر صدیقی نے اتوار کو پیپلز پارٹی کے تحت ٹنکی گرانڈ ایف سی ایریا لیاقت آباد میں عوامی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

(جاری ہے)

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ لیاقت آبادمیں تاریخی جلسے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ پیپلز پارٹی کے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں ۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو سے بے نظیر بھٹو شہید تک کراچی پیپلز پارٹی کا شہر رہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ایک دور میں پی ایس ایف اور پیپلز پارٹی کے کارکنان کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر کراچی کی گلیوں میں مارا گیا ۔

ہم نے کندھوں پر لاشیں اٹھائیں ۔ مگر کراچی کی روشنیوں کو خراب نہیں ہونے دیا ۔ انہوں نے کہا کہ آج پھر تاریخ دہرانے کی سازش کی جا رہی ہے ۔ مگر اب پیپلز پارٹی کسی کے لیے میدان کھلا نہیں چھوڑے گی ۔ (ن) لیگ نے عوام دشمن اور مزدور کش بجٹ پیش کیا ہے ۔ یہ سرمایہ کاروں کا بجٹ ہے ۔ کوئی دعوی کرتا ہے کہ میں تبدیلی لا رہا ہوں ۔ کون سی تبدیلی لا رہے ہو ۔

کیا بلے کی تبدیلی لا رہے ہو ۔ یا بولنگ تبدیل کر رہے ہو ۔ غریبوں کی قسمت تبدیلی جیسے نعروں سے نہیں بدلتی ۔ غریب کو خوش حال کرنے کے لیے پہلے عملی خدمت کرنا پڑتی ہے ۔ موجودہ حکومت سرمایہ داروں کی حکومت ہے ۔ انہوں نے کبھی سندھ والوں کا بھلا نہیں سوچا ۔ انہوں نے کہا کہ تبدیلی پیپلز پارٹی لائے گی اور یہ تبدیلی کراچی سے خیبر اور کوئٹہ تک ہو گی ۔

یہ بات روز عیاں کی طرح روشن ہے کہ آنے والے انتخابات میں پیپلز پارٹی کا سورج طلوع اور باقی سب کا غروب ہو نے والا ہے ۔ وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہاکہ آج کے جلسے کے لیے ٹنکی گرانڈ چھوٹا پڑ گیا ہے ۔ جتنی بڑی تعداد میں عوام آئی ہے ، ہمیں اس سے کئی گنا بڑے گرانڈ کی ضرورت ہے ۔ ٹنکی گرانڈ پی ایس کے جلسے کے لیے بھی ناکافی ہے ۔ میں اور چیئرمین صاحب اسی شہر میں پیدا ہوئے ۔

بلاول کراچی کا ہے اور آج کے جلسے کے بعد یہ ثابت ہو چکا کہ کراچی بلاول بھٹو کا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ قرار داد پاکستان سب سے پہلے سندھ اسمبلی نے منظور کی ۔ سندھ پاکستان بنانے والا صوبہ ہے ۔ ہندوستان سے ہجرت کرکے سندھ آنے والوں کو سندھ کے شہروں نے قبول کیا اور بھائی چارگی سے تمام قومیتیں یکجا تھیں ۔ مگر ضیا الحق کے دور میں اس صوبے کو نظر لگ گئی ۔

جنرل ضیا نے بھٹو کو پھانسی دی اور سندھ نے اس کا ساتھ نہیں دیا اور 80 کی دہائی سے اب تک کراچی کا امن تہہ و بالا کیا گیا ، جس کی بنیاد جنرل ضیا نے رکھی ۔ انہوں نے کہاکہ کچھ لوگ کراچی والوں کو پیپلز پارٹی کے ساتھ دیکھ خوش نہیں ہیں ۔ انہوں نے عوام سے سوال کیا کہ کیا ہم بلدیہ فیکٹری میں مزدوروں کو زندہ جلانے والوں کو معاف کر دیں ۔ انہوں نے کہا کہ کسی بے گناہ شخص کا خون بہائے بغیر پیپلز پارٹی نے کراچی میں امن قائم کیا ۔

ڈسٹرکٹ سینٹرل میں میرے چاچا سمیت ہزاروں لوگوں کو شہید کیا گیا ۔ اب وہ لوگ پیپلز پارٹی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت دیکھ کر خوف زدہ ہو گئے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی اب کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائے گی اور نہ امن دشمنوں سے ایسا کوئی معاہدہ کرے گی ، جو کراچی کے عوام کے مفاد کے خلاف ہو ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں امن کے باعث بوہریوں اور آغاخانیوں کے روحانی پیشوا کراچی میں آئے ۔

ہم نے کراچی میں پی ایس ایل کرکے دکھایا ۔ ہم نے فیصلہ کر لیا کہ ہم کراچی کی رونقوں کو مکمل بحال کریں گے ۔ آپ کو ہمارا ساتھ دینا ہو گا ۔ 2018 میں آپ اس شہر سے پیپلز پارٹی کو کامیابی دلائیں گے ۔ سید مراد علی شاہ نے جلسے میں اعلان کیا کہ آئندہ انتخابات میں کراچی والے پیپلز پارٹی کو ووٹ دیں ۔ ہم ان سے وعدہ کرتے ہیں کہ پیپلز پارٹی امن دشمنوں سے اب کوئی سودے بازی نہیں کرے گی ۔

انہوں نے کہا کہ ہر الیکشن سے پہلے کراچی کے نئے وارث نمودار ہوتے ہیں۔ ہم ان کی باتوں پر یقین نہ کریں ۔ عمران خان تم بلا پکڑ کرکٹ کھیلو ۔ سیاست کرنا تمہارا کام نہیں ۔ تم صرف کرکٹ کھیل سکتے ہو ، سیاست صرف بھٹو خاندان کا کام ہے ۔ وفاقی حکومت نے نام نہاد بجٹ دیا ہے ۔ 25 ارب کا پیکیج صرف زبانی دعوی ہے۔ ایک اسکیم بھی کراچی کے لیے وفاقی حکومت نے نہیں دی ۔

نواز شریف تم چار سال وزیراعظم رہے لیکن ایک رات بھی کراچی میں قیام نہیں کیا ۔ تمہارا چھوٹا بھائی کراچی آتا ہے ۔ نیویارک بنانے کا دعوی کرتا ہے ۔ تمہارا کراچی سے کوئی لگا نہیں ہے ۔ بلاول بھٹو کراچی سے الیکشن لڑیں ہم اس سے بڑا جلسہ کریں گے ۔ پیپلز پارٹی کی رہنما اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شیری رحمن نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری فرزند کراچی ہیں۔

آج کراچی پیپلز پارٹی کی رونقوں سے چمک اٹھا ہے ۔ یہ جلسہ محبتوں کا پیغام لایا ہے ۔ لیاقت آباد کا نام بھٹو نے دیا ۔ آمریتوں نے کراچی کو اپنا میدان بنایا ۔ کئی تنظیموں نے نام بدل کر کراچی میں دہشت گردی پھیلائی اور نفرت عام کی ۔ آج وفاقی حکومت نے کراچی سے بجلی اور پانی چھین لیا ہے ۔ وفاقی حکومت نے آج تک سندھ کو بجلی کی پیداوار کے لائسنس نہیں دیئے ہیں ۔

اشتہارات کے ذریعہ حکومت چلانے والے اسلام آباد میں بیٹھے ہیں ۔ وہ ملک اور کراچی کو کچھ نہیں کہہ سکتے ۔ ہم حقیقی ترقی پر یقین رکھتے ہیں ۔ کراچی بھٹو کا ہے ۔ (ن) لیگ کی لٹیری اور اشتہاری حکومت ہے ۔ (ن) لیگ کی حکومت اپنی شاہ خرچیاں پوری کرنے کے لیے اگلے ہفتے عوام پر پٹرول بم گرائے گی ۔ آج ایوان صدر کا یومیہ خرچہ 90 لاکھ ہے ۔ زرداری صاحب کے دور میں یہ خرچہ 6 لاکھ تھا ، وہ چائے کا بل بھی خود دیتے تھے ۔

ہم حکومت کے خلاف بھرپور احتجاج کریں گے ۔ پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے صدر سعید غنی نے کہا کہ آج کے جلسہ کراچی میں بدامنی امنی پھیلانے والوں کے لیے پیغام ہے ۔ آج کراچی سے خوف کا بت ختم ہو گیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ لیاقت آباد کے جلسے کے بعد مخالفین بلوں میں گھس گئے ہیں ۔ پیپلز پارٹی کے خلاف شہر میں بینرز لگوائے ۔ میں ان سے کہتا ہوں کہ اب بینروں سے کام نہیں چلے گا ۔

پیپلز پارٹی دوبارہ ہر جگہ تعاقب کرے گی ۔ سابق وزیر اعلی سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا کہ لیاقت آباد کا جلسہ ان لوگوں کے لیے پیغام ہے ، جو اپنے آپ کو خان کہتے ہیں اور کراچی سے الیکشن لڑنے کا دعوی کرتے ہیں ۔ کراچی سے کراچی والے ہی الیکشن لڑیں گے ۔ میں کراچی کو سلام کرتا ہوں ۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے کراچی میں امن قائم کیا اور عوام کو تحفظ دیا ۔

اب گولیاں بند ہو گئی ہیں اور صرف پیپلز پارٹی کے جھنڈے بلند ہو رہے ہیں ۔ 40 سال سے کراچی میں جاری قتل عام بند کرنے کا سہرا پیپلز پارٹی کے سر ہے ۔ ہم شہدا کے وارثوں کے امین ہیں اور پیپلز پارٹی ہی اقتدار میں آکر کراچی کے دکھوں کا مداوا کرے گی ۔ اغوا برائے تاوان اور دوسرے جرائم کا اب کراچی سے خاتمہ ہو گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا یہ عزم ہے کہ کراچی سے بچے کچے دہشت گردوں کا خاتمہ کریں گے اور امن کو مستحکم کریں گے ۔

ہم آرمی چیف ، ڈی جی رینجرز ، پولیس کو سلام پیش کرتے ہیں ۔ موجودہ حکومت کاغذی شیروں جیسے دعوے کر رہی ہے ۔ عوام کو دیا کچھ نہیں لیکن خوش حالی کے دعوے آسمانوں کو چھو رہے ہیں ۔ میں نے کراچی آپریشن کے لیے جب وفاق سے وسائل مانگے تو 12 ارب روپے دینے کا وعدہ کیا گیا ۔ جب دینے کا وقت آیا تو سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہاکہ ہمارے پاس 12 ارب تو نہیں ہے 6 ارب لے لیں ۔

پھر اس سے بھی مکر گئے اور ڈھائی ارب روپے پر آ گئے ۔ جب تک وہ وزیرا عظم رہے ، انہوں نے کراچی کو ایک ڈھیلا بھی نہیں دیا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ میاں صاحب اور پٹھان صاحب آئندہ انتخابات میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے انہوں نے عمران خان کو متنبہ کیا کہ خبردار الیکشن کے لیے کراچی کا رخ نہیں کرنا ۔ پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ لیاقت آباد میں پیپلز پارٹی کے جیالوں کے لیے جگہ کم پڑ گئی ہے ۔

کراچی کو نوگو ایریا بنانے کی کوشش کرنے اوردنیا میں کراچی کو بدنام کرنے والوں کے لیے آج آنکھیں کھولنے کا مقام ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کراچی کے استحصال کا ازالہ کرے گی ۔ کراچی والوں کو دھوکہ دینے والوں کا احتساب اور کراچی کو ترقی کی راہ پر گامزن کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ میئر کراچی خود کو دنیا کا نمبر ون میئر قرار دیتے ہیں ۔

لیکن آج تک شہر کے لیے کوئی اہم کام انجام نہیں دیا۔ کوئی روتا ہے تو رونے دو کہ مجھے کیوں نکالا ۔ میں کہتا ہوں کہ تو جھوٹا ہے ۔ اس لیے تجھے لوگوں نے نکالا ۔ انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کے ریفرنڈم کا چمچہ بننے والا آج پیپلز پارٹی کو چیلنج کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ غیر جمہوری قوتوں کا ساتھ دینے والوں کو عوام مسترد کر دے گی ۔ انہوں نے جلسے کے شرکا سے یہ عہد لیا کہ وہ بلاول بھٹو زرداری کو وزیر اعظم بنانے کے لیے الیکشن میں پیپلز پارٹی کو ووٹ دیں ۔

پیپلز پارٹی سندھ کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات وقار مہدی نے کہا کہ لیاقت آباد میں کامیاب جلسہ منعقد کرنے پر پی پی کراچی ڈویژن کو مبارکباد دیتا ہوں ۔ ہمارا رشتہ عوام سے قائم ہے ۔ ہم نے جمہوریت اور عوام کی خدمت کے لیے جدوجہد کی ہے ۔ جمہوریت اور عوام دشمنوں نے ہمیشہ عوام کے خلاف سازشیں کیں ۔ آمر ضیا نے (ن) لیگ اور ایم کیو ایم کو بنایا ۔ (ن) لیگ نے ملک کو اور ایم کیو ایم نے کراچی کو تباہ کیا ۔

پیپلزپارٹی اس شہر میں مکمل امن قائم کرے گی ۔ ایم کیو ایم کے میئر کو اختیارات کا نہیں مال کا مسئلہ ہے ۔ کیونکہ پیپلز پارٹی نے ایم کیو ایم کی طرف سے لندن بھیجے جانے والے بریف کیس بند کر دیئے ہیں ۔ پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے جنرل سیکرٹری جاوید ناگوری نے کہا کہ ذوالفقار اور بے نظیر بھٹو کے دور میں کراچی میں ریکارڈ ترقیاتی کام کرائے ۔

اب کراچی کو خوف سے نجات دلانے کا وقت آ گیا ہے ۔ پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما این ڈی خان نے کہا کہ میں بھٹو کا ہم سفر ہوں ۔ گزرے تھے ہم یہاں سے آج ہم دوبارہ وہیں آ گئے ۔ ملک کا آئندہ وزیر اعظم بلاول بھٹو زرداری ہو گا ۔ راشد ربانی نے اپنے خطاب میں کہاکہ انتخابات میں پیپلزپارٹی کامیاب ہوگی کراچی سے قومی اورصوبائی اسمبلی کی نشستیں پیپلزپارٹی حاصل کرے گی انہوں نے کہاکہ بلاول بھٹو کی قیادت میں پیپلزپارٹی نے جس تحریک کا آغازکیا ہے ملک بھرکے عوام نے اس پرلبیک کہاہے۔

پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کی سیکرٹری اطلاعات شہلا رضا نے کہا کہ ہمیں ڈاکٹر عبدالقدیر ، حکیم سعید ، رئیس امروہی اور مفکروں کا چاہئے ۔ کراچی پڑھے لکھوں کا شہر ہے ۔ پیپلز پارٹی شعبہ خواتین کراچی کی صدر شاہدہ رحمانی نے کہا کہ آج کے جلسے میں صرف ضلع وسطی کی عوام شریک ہوئی ہے ۔ کراچی کے نام پر سیاست کرنے والے سن لیں اب ان کا باب بند ہو چکا ہے ۔ پیپلزپارٹی ضلع وسطی کے صدر ظفر صدیقی نے کہا کہ کراچی امن اور سب کا شہر ہے ۔ کراچی کی ترقی پیپلز پارٹی کے دور میں ہوئی ہے ۔ دہشت گردی سے منتخب ہونے والوں نے کبھی شہر کی خدمت نہیں کی ۔ شہدا کے خون کے صدقے کی بدولت ہم نے آج ہم نے ضلع وسطی جلسہ کیا ہے ۔