سیکورٹی فورسز نے جانفشانی سے کام کرتے ہوئے بلوچستان میں امن و امان قائم کیا، کچھ لوگ ہزارہ برادری کے افراد کو ورغلا کر انہیں استعمال کرنا چاہتے ہیں، صوبائی وزیرداخلہ میرسرفراز بگٹی کی صحافیوں سے بات چیت

اتوار اپریل 22:20

کوئٹہ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 اپریل2018ء) وزیرداخلہ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے جانفشانی سے کام کرتے ہوئے بلوچستان میں امن و امان قائم کیا ہے، کچھ لوگ ہزارہ برادری کے افراد کو ورغلا کر انہیں استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بات انہوں نے اتوار کی رات کوئٹہ پریس کلب کے سامنے ہزارہ قوم کے افراد کی جانب سے لگائے گئے احتجاجی کیمپ میں مظاہرین سے مذاکرات کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔

اس موقع پر ڈی آئی جی کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ ،ڈپٹی کمشنر کوئٹہ فرخ عتیق ، اسسٹنٹ کمشنر کوئٹہ سٹی بتول اسدی بھی انکے ہمراہ موجود تھیں۔۔وزیرداخلہ سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلو چستان سے 100کلو میٹر دور ایک ایسا بارڈر واقع ہے جہاں سے دہشت گرد پاکستان میں کارروائیا ں کر رہے ہیں اورانہیں مختلف ریاستوںکی سرپرستی حاصل ہے، دہشت گرد ہمارے معصوم لوگوں کو قتل کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ احتجاج ہزارہ برادری کے افراد کی ٹارگٹ کلنگ کے لئے ہورہا ہے انکی خواتین اور مردوں سے زیادہ یہاں وہ لوگ موجود ہیں جو آج سوات میں جلسے کر رہے ہیں اورانکابیانیہ کیا ہے وہ آئین کی بات کرتے ہیں آئین میں واضح لکھا ہے کہ ریاست مخالف سرگرمیاں نہیں کرسکتے لیکن میرے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے دوست جو اپنے آپ کو سیاسی ورکر کہتے ہیں وہ خود انکے ساتھ ہیں جوکہ غلط بات ہے ہم اسکی مذمت کرتے ہیں ہم ہزارہ برادری کی بہنوںکے ساتھ مذاکرات کرنے آئے تھے اور آئندہ بھی کرینگے ہماری کوشش ہے کہ بلوچستان میں جو امن و امان بحال ہوا ہے، ہم اسے برقرار رکھیں ٹارگٹ کلنگ ہمارا مقامی مسئلہ ہے، ہم اسے اپنے طور پر حل کریں گے اسے پی ٹی ایم کے ساتھ کیوں جوڑا جارہا ہے ۔

سرفراز بگٹی نے کہا کہ وہ پی ٹی ایم کے ایجنڈے پر تبصرہ نہیں کریں گے کہ انکا کیاایجنڈا ہے، وزیرستان کی ایجنسی کا مسئلہ ہزارہ برادری سے کیوں جوڑا جارہا ہے ،اس سے کون منسلک کر رہا ہے اور پاکستان مخالف بیانیے کا پرچار کیوں کیا جارہا ہے اس پر مجھے تشویش ہے ۔انہوں نے کہا کہ جب بھی ہزارہ برادری پر دکھ سکھ آیا ہم انکے ساتھ کھڑے تھے اب وہ دور نہیں ہے کہ جب وہ لاشیں رکھ کر احتجاج کر رہے ہوتے تھے اورانکے ساتھ کوئی نہیں ہوتا تھا ۔

ایک سوال کے جواب میں وزیرداخلہ نے کہا کہ احتجاج کرنے والوں کا مطالبہ ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ آئیں اوران سے مذاکرات کریں، میں اس معاملے میں کچھ نہیں کہہ سکتا ۔ایک اورسوا ل کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم نے دہشت گردوں اور ٹارگٹ کلرز کا تعاقب کرکے انہیں گرفتار کیا ہے، گزشتہ روز بھی ایک ٹارگٹ کلر پکڑا ہے جتنے بھی بڑے واقعات ہوئے ان میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا گیا ہے