منشیات کی لعنت لاکھوں ہنستے بستے گھروں کو ویران کر رہی ہے ، منشیات کے خلاف آگاہی مہم کو تعلیمی اداروں اور کمیونٹی کے اندر شروع کیا جائے، سیکرٹری سماجی بہبود سید سکندرشاہ

اتوار اپریل 22:20

کوئٹہ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 اپریل2018ء) سیکریٹری سماجی بہبود و انسانی حقوق سید سکندر شاہ نے کہا ہے کہ بہترین عمل انسانیت کی خدمت ہے اور اسلام کا بنیادی تصور اور فلسفہ اسی نظریے پر محیط ہے‘ اللہ تعالیٰ نے کائنات میں عظیم ترین تخلیق انسان کو قرار دیا ہے اور معاشرے کے وہ افراد جو مفلوک حال ، مجبور ، معذور اور کسی بھی معاشرے ظلم و جبر کا شکار ہوتے ہیں ایسے افراد کی اخلاقی معاشرتی مالی مدد ایک عظیم جہاد ہے۔

یہ بات انہوں نے ادارہ برائے علاج و بحالی مریضان منشیات کے دورے کے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کی ۔ اس سے قبل ادارے کے ایڈمنسٹریٹر جاوید بلوچ نے سیکریٹری سماجی بہبود کے ادارے کے متعلق اور مسائل کے حوالے سے جامع بریفنگ دی ۔ اس موقع پر محکمہ کے دیگر افسران ڈپٹی ڈائریکٹر سماجی بہبو د اکرم کاکڑ ، ڈپٹی ڈائریکٹر کوئٹہ ڈویژن نازش نصیر ، آفیسر سماجی بہبود مایانہ شار ، منیجر کمپلیکس شیر احمد و دیگر اہلکار موجود تھے ۔

(جاری ہے)

سیکریٹری سماجی بہبود سید سکندر شاہ نے کہا کہ منشیات کی لعنت جس رفتار کے ساتھ بڑھ رہی ہے اور یہ زہر قاتل جس طرح لاکھوں ہنستے بستے گھروں کو ویران کررہا ہے یقینایہ پورے معاشرے کیلئے المیہ سے کم نہیں لیکن اس زہرکو معاشرے سے ختم کرنے کے لے صرف حکومت کو ذمہ دار نہیں ٹھرایا جاسکتا ہے بلکہ معاشرے کے تمام مکتبہ فکر کے دانشور ، علماء ، اساتذہ ، والدین ، سیاست دان اور معاشرتی تنظیمیں اس زہر قاتل کو انسانیت کا قاتل سمجھ کر اس کے خاتمے کے کمر بستہ نہیں ہونگے تو پھر یہ بلا ہمارے نوجوانوں کو اسی طرح ہڑپ کرتا جائیگا ۔

سیکریٹری سماجی بہبو د نے اس امر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ منشیات کا پھیلاؤ اور اس کا رخ ہمارے تعلیمی اداروں کی طر ف جس تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے یہ ایک گہری سوچی سمجھی سازش ہے سنجید گی کے ساتھ لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا ۔ انہوں نے اس موقع پر خصوصی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ منشیات کے خلاف آگاہی مہم کو تعلیمی اداروں اور کمیونٹی کے اندر شروع کیا جائے تاکہ طالب علم ، نوجوانوں ، والدین اور اساتذہ کو اس زہر قاتل کے تباہ کا ریوں اور منفی اثرات کے بارے میں آگاہی ہو اور آگاہی مہم کو تسلسل کے ساتھ چلانے کی ضرورت ہے سیکریٹری سماجی بہبو د نے کہا کہ جس معاشرے کو منشیات کے تاریک سایے اپنے لپیٹ میں لیتے ہیں وہ معاشرہ بد امنی ، بے سکونی ، قتل و غارت اور شدید نوعیت کے معاشرتی مسائل کا شکار ہو تا ہے جس کی وجہ سے عدم تحفظ کا احساس بڑھتا ہے ۔

انہوںنے محکمہ سماجی بہبود کے ادارہ برائے علاج و بحالی مریضان منشیات کو ایک ماڈل ادارہ قرار دیا ہے جبکہ اس کے علاج و معالجہ اوربحالی کے اقدامات نیز ادارے میں نظم و ضبط ، صفائی اور مریضوں کی بہترین تربیت اور فنی تربیت کے اقدامات کو بہترین قرار دیا اور اپنے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ۔