پہلے الیکشن میں ہم ہار گئے ،ہمیں ایک سیٹ ملی،عمران خان

شاہ محمود قریشی کوشمولیت کا کہا توشاہ جی نےغور سے دیکھا،کیا پاگل ہے؟ شاہ جی توتہذیب والے آدمی ہیں،شیخ رشید نے مجھے ٹی وی پرکہاآپ کی توتانگہ پارٹی ہے۔گریٹراقبال پارک میں عوامی جلسہ سے خطاب

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ اتوار اپریل 23:00

پہلے الیکشن میں ہم ہار گئے ،ہمیں ایک سیٹ ملی،عمران خان
لاہور(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔29 اپریل 2018ء) : چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ پہلے الیکشن میں ہم ہار گئے ،ہمیں ایک سیٹ ملی،،شاہ محمود قریشی کوشمولیت کا کہا توشاہ جی نے غور سے دیکھا،کیا پاگل ہے؟ شاہ جی توتہذیب والے آدمی ہیں،شیخ رشید نے مجھے ٹی وی پرکہاآپ کی توتانگہ پارٹی ہے۔انہوں نے آج گریٹراقبال پارک میں عوامی جلسہ سے خطاب کے دوران پارٹی کے ابتدائی واقعات بیان کردیے۔

انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کے آغاز سے متعلق بتایا کہ میں کرکٹ کھیلتا تھا مجھے سیاست کا کوئی شوق نہیں تھا۔میں چار بہنوں کا اکیلا بھائی اور اپنی ماں کالاڈلا تھا۔ میری ماں کوکینسر ہوگیا۔تب مجھے پتا چلا کہ پورے ملک میں کینسر کا کوئی ہسپتال نہیں تھا۔شوکت خانم جیسا ہسپتال ہوتا توعلاج ہوسکتا تھا۔

(جاری ہے)

میری بات کووہ سمجھے گا جوبھی اپنے گھر والوں کوبیرون ملک علاج کروانے گئے ہوں گے۔

میں اپنی والدہ کوانگلینڈ لیکر گیا۔مجھے توسب لوگ جانتے بھی تھے۔انہوں نے کہا کہ میں اپنی والدہ کوپاکستان واپس لیکر آیا ان کی کینسر پھیل چکی تھی۔تکلیف بھی تھی۔انہوں نے کہا کہ 1984ء کی سردیاں تھیں ۔میں ایک ڈاکٹر کے پاس انتظار کررہا تھا ۔اتنے میں ایک بوڑھا آدمی آیا اس کے ہاتھ میں پرچی تھی وہ کہتا میں نے ساری دوائیاں لے لیں۔وہ کہتا کتنے کی ہے؟ جب وہ آدمی مڑتا ہے اور میں اس کی شکل دیکھتا ہوں؟ تومجھے اس کی شکل میں تکلیف نظر آتی ہے۔

وہ بوڑھا آدمی اپنے بھائی کے علاج کیلئے آیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اس دن فیصلہ کیا کہ ہسپتال بناؤں گا کہ کسی کوعلاج کیلئے مزدوری نہ کرنی پڑے۔یہ 1985ء کی بات ہے جب میری والدہ فوت ہوگئیں۔تب میں نے کینسر ہسپتال بنانے کا ارادہ کیا۔میں جن کے پاس بھی ہسپتال بنانے کی تجویز لیکر جاؤں سب کہیں بن ہی نہیں سکتا۔20میں 19ڈاکٹرز نے کہا کہ نہیں بن سکتا۔

ایک ڈاکٹر نے کہا کہ بن سکتا ہے لیکن علاج مفت نہیں ہوسکتا۔انہوں نے کہاکہ میں نے غریبوں میں کھلے دل والے اور پیسے والوں میں کنجوس بھی دیکھے۔انہوں نے کہا کہ زمان پارک میں پیسے اکٹھے کرنے کے بعد جب تھکا ہوا گھر آیا تو باہر ایک پرانی سی ٹویٹا گاڑی کھڑی تھی مجھے کہتے تھے پیسے دینے ہیں۔ میں نے سوچا یہ کتنے پیسے دیں گے؟ میں پرانی سی ٹویٹا میں بیٹھا ،راستے میں گاڑی بھی خراب ہوگئی دھکا بھی لگایا۔

خیر ہم مسجد میں پہنچ گئے؟ کہاں ہیں پیسے؟ لاؤڈ اسپیکر میں ایک آدمی کہتا کہ عمران خان آگیا ہے جس نے پیسے دینے ہیں دے دو،،عمران خان آگئے ہیں؟ میں ابھی ان کوپکڑ نے والا ہی تھا کہ پانچ منٹ میں مسجد بھر گئی۔میں جب ان لوگوں کودیکھا غریب لوگ ،بوڑھی عورتیں، کوئی دوہزار،پانچ ہزار چندا لیکر کھڑا ،کہتے ہم نے آپ کوپیسے دینے ہیں۔مجھے شرم آئی۔

میں کہاکہ میں خود ہسپتال بنالوں گا،لیکن وہ کہتے تھے نہیں ہم اس میں شرکت کرنا چاہتے تھے۔۔عمران خان نے کہا کہ اس دن میں نے سیاست میں آنے کافیصلہ کیا کہ یہ ہیں دو پاکستان۔۔ایک طرف میری طرح کا آدمی جواپنی والدہ کوعلاج کیلئے باہر لے جاسکتا ہے ۔دوسری طرف یہ غریب ہیں۔انہوں نے ایک طرف غریب لوگ جبکہ دوسری طرف شریف فیملی جوعلاج کیلئے باہرجاتے ہیں۔

سیاستدان چھوٹی سی بیماری کیلئے باہر علاج کیلئے جاتے ہیں۔کہاں وہ فلاحی ریاست ،جہاں روزگار،،تعلیم،،ہسپتال بنائے جاتے ۔لیکن یہ چھوٹاسا مافیا ،جن کے بچے باہراور محلات بھی ہیں۔یہ لوگ پاکستان کووہاں لیکر جارہے ہیں جہاں سالمیت کوخطرہ ہے۔انہوں نے کہاکہ نعیم الحق میرا پرانا ساتھی ہے۔انہوں نے اپنے پرانے ساتھی احسن رشید کی بات کی جوفوت ہوگیا ہے۔

سلونی بخاری بھی آج ہمارے ساتھ نہیں ہے۔سلونی بخاری نے میرے ہرمشکل وقت میں میرا ساتھ دیا۔مجھے کہتی کہ دعا کریں اللہ مجھے نئے پاکستان دیکھنے کیلئے زندہ رکھے عمران خان نے کہا کہ پہلے الیکشن میں ہم ہار گئے ،ہمیں ایک سیٹ ملی۔۔شاہ محمود قریشی سے کہا تم پڑھے لکھے ہو؟ شاہ جی میری طرف بڑے غور سے دیکھا۔شاہ جی توتہذیب والے آدمی ہیں۔شیخ رشید نے مجھے ٹی وی پرکہا کہ آپ کی توتانگہ پارٹی ہے۔لیکن آج وہی پارٹی ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے۔