عمران خان کا ایک پاکستان بنانےکیلئے11 نکاتی پارٹی منشورکا اعلان

تعلیم وصحت، انصاف، احتساب اورپولیس کا نظام، قرض اتارنا، سرمایہ کاری وروزگار،سیاحت کوفروغ، زرعی وماحولیاتی شعبےکوترقی دینگے،وفاق کومضبوط اورجنوبی پنجاب کوانتظامی بنیادوں پرصوبہ کا درجہ دیںگے،فاٹا کوکےپی میں ضم کریںگے،50لاکھ سستےگھربنائیں گے۔عوامی جلسے سےخطاب

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ اتوار اپریل 23:48

عمران خان کا ایک پاکستان بنانےکیلئے11 نکاتی پارٹی منشورکا اعلان
لاہور(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔29 اپریل 2018ء) : پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے دو پاکستان نہیں ایک پاکستان بنانے کیلئے11نکاتی پارٹی منشورکا اعلان کردیا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم وصحت کا نظام، قرض اتارنا، احتساب، سرمایہ کاری، روزگار، ٹیکنیکل ایجوکیشن، سیاحت کو فروغ اور زرعی شعبے کوترقی دیں گے، وفاق کومضبوط کریں گے،جنوبی پنجاب کو انتظامی بنیادوں پر صوبہ کا درجہ دیں گے، فاٹا کوکے پی میں ضم کریں گے، بلدیاتی نظام لیکرآئیں گے، شعبہ ماحولیات کوترقی دیں گے،50لاکھ سستے گھر بنائیں گے۔

انہوں نے آج گریٹراقبال پارک مینار پاکستان میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح کا آ ج منظم جلسہ کیا ہے میں اپنی پوری ٹیم کومبارکباد دیتا ہوں۔میرے دل سے آپ کیلئے دعائیں نکلتی ہیں۔

(جاری ہے)

خون کے آخری قطرے تک میں عوام کیلئے لڑوں گا۔ میں نے نعرے نہیں لگوانے آج اپنے ملک کیلئے پروگرام دینا ہے۔سب اپنے آپ سے سوال کریں کہ ملک کیوں بنا تھا؟ لیکن جس طرح کا پاکستان بنا اس طرح کا پاکستان قائداعظم اور علامہ اقبال نہیں چاہتے تھے۔

پاکستان میں سب کے یکساں حقوق تھے۔اقلیتوں کے بھی حقوق تھے۔نبی پاک ﷺ نے بھی قانون بنایا تھا کہ مدینہ میں مسلمان اور عیسائی برابر کے شہری تھے۔سب اپنے دین کے تحت آزاد تھے۔مدینہ کی ریاست میں نبی پاک ﷺ نے ریاست کی بنیاد انصاف پررکھی تھی۔آپ ﷺ نے فرمایا کہ میری بیٹی فاطمہ کوبھی وہی چوری کی سز املے گی توباقی کوملتی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ مسلمانوں وہ قومیں تباہ ہوگئیں جہاں بڑے کیلئے ایک اور غریب کیلئے دوسرا قانون ہو۔

مدینہ کی ریاست میں میرٹ تھا۔میرٹ پرخالدبن ولید کومسلمانوں کا سپہ سالار بنایا۔مدینہ کی ریاست دنیا کی تاریخ کی پہلی فلاحی ریاست بنی تھی۔ایسی ریاست جس نے یتمیوں ، بزرگوں اور غریبوں کی ذمہ داری اپنے سر پرلی۔۔عمران خان نے کہاکہ دنیا کے عظیم لیڈر نے علم کیلئے بڑا کام کیا۔کہ علم سیکھنا فرض ہے۔علم کیلئے چین بھی جانا پڑے جاؤ۔ جنگ بد ر کے قیدیوں سے پیسے نہیں لیے بلکہ ان سے مسلمانوں کیلئے تعلیم دلوائی۔

وہ صادق اور امین تھے ۔اپنے کردار سے مسلمانوں کوبڑا انسان بنا دیا۔وہ مسلمانوں 7سوسال تک مسلمانوں کے حکمران رہے۔لیکن بعد میں جیسے ہی بادشاہت آگئی جہاں امیر اور غریب دونوں کے الگ الگ انصاف کا نظام تھا۔ بغداد میں آخری عباسی خلیفہ ہلاکوخان کے پیروں میں گرگیا کہ میری جان بچا دو۔ہلاکو خان نے خلیفہ کو کہا کہ تمہارے تہہ خانے سونے اور ہیروں سے بھرے پڑے ہیں۔

اگر یہی پیسا تم اپنی قوم اور فوج پرلگاتے توآپ میرے سامنے گرے نہ ہوتے۔ہلاکوخان نے اس کوسوناکھلا کھلا کرماردیافوجیوں کوکہا کہ ان کا پیٹ ونے سے بھر دو۔ انہوں نے کہا کہ قائداعظم کی ہندوستان میں عزت کی جاتی تھی۔۔قائداعظم نے آزادی کیلئے 40سال تک جدوجہد کی۔۔قائداعظم ایسے لیڈر جوٹی بی کے مریض تھے لیکن کسی کوبتایا نہیں۔۔قائداعظم کے مخالف بھی انہیں صادق او رامین کہتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ کہاں قائداعظم اور کہاں آج کے حکمران ہیں؟ عمران خان نے کہا کہ جب پاکستان کے سربراہ کے ساتھ امریکا کے ایئرپورٹ پرایسا سلوک ہوتا ہے؟ اور ایک وزیراعظم سے امریکی صدر کے سامنے پرچی کے علاوہ بات ہی نہیں ہوتی ۔توسوچیں عام پاکستانیوں کاکیا حال ہوتا ہوگا؟انہوں نے کہا کہ میری ماں فخر سے کہتی تھیں کہ ہم غلام تھے تم خوش قسمت ہوجوپاکستان میں ہو۔

ایسا پاکستان جودنیا میں تیزی سے ترقی کررہا تھا ۔میں کرکٹ کھیلتا تھا توپاکستان میں آتا تولگتا کہ امیر ملک میں آگیا ہوں۔انہوں نے کہاکہ 60سال کی تاریخ میں 6ہزار ارب قرض تھا۔2008ء تک 6ہزار ارب اور 2013ء میں 13ہزار ارب ہوگیا پانچ سالوں میں دوگنا ہوگیا۔2018ء تک 27ہزار ارب تک قرض پہنچ گیا ہے۔ہم تباہی کی طرف جارہے ہیں۔ہمارے پاس قرض واپس کرنے کیلئے پیسے ہی نہیں ہیں۔

ہم قرضوں کی قسطیں اتارنے کیلئے قرض لے رہے ہیں۔یہ قرض عوام کودینا ہوگا۔۔مہنگائی ہوگی، چیزوں اور پیٹرول اور ڈیزل پرٹیکس لگے ۔۔مہنگائی بڑھ جائے گی۔انہوں نے کہاکہ میں 11نکات لیکر آیا ہوں۔۔عمران خان نے کہاکہ نائجیریا کے بعد پاکستان ایسا ملک ہے جہاں سب سے زیادہ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کے آغاز سے متعلق بتایا کہ میں کرکٹ کھیلتا تھا مجھے سیاست کا کوئی شوق نہیں تھا۔

میں چار بہنوں کا اکیلا بھائی اور اپنی ماں کالاڈلا تھا۔ میری ماں کوکینسر ہوگیا۔تب مجھے پتا چلا کہ پورے ملک میں کینسر کا کوئی ہسپتال نہیں تھا۔شوکت خانم جیسا ہسپتال ہوتا توعلاج ہوسکتا تھا۔میری بات کووہ سمجھے گا جوبھی اپنے گھر والوں کوبیرون ملک علاج کروانے گئے ہوں گے۔میں اپنی والدہ کوانگلینڈ لیکر گیا۔مجھے توسب لوگ جانتے بھی تھے۔

انہوں نے کہا کہ میں اپنی والدہ کوپاکستان واپس لیکر آیا ان کی کینسر پھیل چکی تھی۔تکلیف بھی تھی۔انہوں نے کہا کہ 1984ء کی سردیاں تھیں ۔میں ایک ڈاکٹر کے پاس انتظار کررہا تھا ۔اتنے میں ایک بوڑھا آدمی آیا اس کے ہاتھ میں پرچی تھی وہ کہتا میں نے ساری دوائیاں لے لیں۔وہ کہتا کتنے کی ہے؟ جب وہ آدمی مڑتا ہے اور میں اس کی شکل دیکھتا ہوں؟ تومجھے اس کی شکل میں تکلیف نظر آتی ہے۔

وہ بوڑھا آدمی اپنے بھائی کے علاج کیلئے آیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اس دن فیصلہ کیا کہ ہسپتال بناؤں گا کہ کسی کوعلاج کیلئے مزدوری نہ کرنی پڑے۔یہ 1985ء کی بات ہے جب میری والدہ فوت ہوگئیں۔تب میں نے کینسر ہسپتال بنانے کا ارادہ کیا۔میں جن کے پاس بھی ہسپتال بنانے کی تجویز لیکر جاؤں سب کہیں بن ہی نہیں سکتا۔20میں 19ڈاکٹرز نے کہا کہ نہیں بن سکتا۔

ایک ڈاکٹر نے کہا کہ بن سکتا ہے لیکن علاج مفت نہیں ہوسکتا۔انہوں نے کہاکہ میں نے غریبوں میں کھلے دل والے اور پیسے والوں میں کنجوس بھی دیکھے۔انہوں نے کہا کہ زمان پارک میں پیسے اکٹھے کرنے کے بعد جب تھکا ہوا گھر آیا تو باہر ایک پرانی سی ٹویٹا گاڑی کھڑی تھی مجھے کہتے تھے پیسے دینے ہیں۔ میں نے سوچا یہ کتنے پیسے دیں گے؟ میں پرانی سی ٹویٹا میں بیٹھا ،راستے میں گاڑی بھی خراب ہوگئی دھکا بھی لگایا۔

خیر ہم مسجد میں پہنچ گئے؟ کہاں ہیں پیسے؟ لاؤڈ اسپیکر میں ایک آدمی کہتا کہ عمران خان آگیا ہے جس نے پیسے دینے ہیں دے دو،،عمران خان آگئے ہیں؟ میں ابھی ان کوپکڑ نے والا ہی تھا کہ پانچ منٹ میں مسجد بھر گئی۔میں جب ان لوگوں کودیکھا غریب لوگ ،بوڑھی عورتیں، کوئی دوہزار،پانچ ہزار چندا لیکر کھڑا ،کہتے ہم نے آپ کوپیسے دینے ہیں۔مجھے شرم آئی۔

میں کہاکہ میں خود ہسپتال بنالوں گا،لیکن وہ کہتے تھے نہیں ہم اس میں شرکت کرنا چاہتے تھے۔۔عمران خان نے کہا کہ اس دن میں نے سیاست میں آنے کافیصلہ کیا کہ یہ ہیں دو پاکستان۔۔ایک طرف میری طرح کا آدمی جواپنی والدہ کوعلاج کیلئے باہر لے جاسکتا ہے ۔دوسری طرف یہ غریب ہیں۔انہوں نے ایک طرف غریب لوگ جبکہ دوسری طرف شریف فیملی جوعلاج کیلئے باہرجاتے ہیں۔

سیاستدان چھوٹی سی بیماری کیلئے باہر علاج کیلئے جاتے ہیں۔کہاں وہ فلاحی ریاست ،جہاں روزگار،،تعلیم،،ہسپتال بنائے جاتے ۔لیکن یہ چھوٹاسا مافیا ،جن کے بچے باہراور محلات بھی ہیں۔یہ لوگ پاکستان کووہاں لیکر جارہے ہیں جہاں سالمیت کوخطرہ ہے۔انہوں نے کہاکہ نعیم الحق میرا پرانا ساتھی ہے۔انہوں نے اپنے پرانے ساتھی احسن رشید کی بات کی جوفوت ہوگیا ہے۔

سلونی بخاری بھی آج ہمارے ساتھ نہیں ہے۔سلونی بخاری نے میرے ہرمشکل وقت میں میرا ساتھ دیا۔مجھے کہتی کہ دعا کریں اللہ مجھے نئے پاکستان دیکھنے کیلئے زندہ رکھے عمران خان نے کہا کہ پہلے الیکشن میں ہم ہار گئے ،ہمیں ایک سیٹ ملی۔۔شاہ محمود قریشی سے کہا تم پڑھے لکھے ہو؟ شاہ جی میری طرف بڑے غور سے دیکھا۔شاہ جی توتہذیب والے آدمی ہیں۔شیخ رشید نے مجھے ٹی وی پرکہا کہ آپ کی توتانگہ پارٹی ہے۔

لیکن آج وہی پارٹی ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے۔انہوں نے کہا کہ پہلا نکتہ تعلیم ہے۔ 8لاکھ بچے انگلش سکولوں میں پڑھتے ہیں۔25لاکھ مدرسوں میں اور سوا تین کروڑبچے سرکاری سکولوں میں پڑھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پنجاب کا آدھا بجٹ لاہور پرخرچ ہوتا ہے۔یعنی پختونخواہ سے ساڑھے تین فیصد زیادہ بجٹ خرچ کیا جاتا ہے۔کتنی یونیورسٹیاں انٹرنیشنل لیول کی ہیں۔

کتنے ہسپتال ، کتنے بچیوں کیلئے سکول بنائے؟ ساڑھے تین سو ارب لاہور کا سالانہ بجٹ ہے۔میں نے شوکت خانم ہسپتال ساڑھے چار ارب میں بنایا۔۔پرویز خٹک کو شاباش دیتا ہوں۔ہری پور میں اسٹیٹ آف دی آرٹ یونیورسٹی بنارہے ہیں۔۔جرمنی اور جاپان تباہی کے بعد صرف دس سالوں میں آگے چلے گئے۔کیونکہ انہوں نے انسانوں پرسرمایہ کاری کی تھی۔اس لیے ہم تعلیم پرخرچ کریں گے،ایک نصاب لیکر آئیں گے۔

انہوں نے کہاکہ دوسرا نکتہ ہسپتال بناؤں گا،لوگوں کی صحت کا خیال رکھنا ہے۔۔عمران خان نے کہا کہ امریکہ میں دنیا بھر کے ہسپتالوں کاکاکردگی جانچنے کا ٹیسٹ ہوتا ہے۔جوائنٹ کمیشن نے شوکت خانم کوورلڈ کلاس ہسپتال کا سرٹیفکیٹ ملا ہے۔مجھے خوشی ہے کہ یہاں غریبوں کاہسپتا ل ہوتا ہے۔ہسپتال کاسٹاف امیروں غریبوں کایکساں سلوک کرتا ہے۔میں خود شوکت خارنم ہسپتال میں علاج کرواتو ہوں۔

ہسپتال کا شوکت خانم کومبارکباد پیش کرتا ہوں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان میں ایسے ہسپتال بناؤں گا جہاں غریبوں کامفت علاج ہوگا۔تیسرا نکتہ یہ ہے کہ میں دعویٰ کرتا ہوں کہ عوام سے پیسا اکٹھا کرکے ملک کاقرض اتاروں گا۔کیونکہ جب قوم کوکسی پراعتماد ہوجائے تویہ کھلے دل سے پیسے دیتے ہیں۔ٹیکس سسٹم ٹھیک کروں گا،،ایف بی آر کوٹھیک کروں گا۔احتساب کا نظام مضبوط بنائیں گے۔

نیب کومزید مضبوط کریں گے۔عدلیہ کومزید مضبوط بنائیں گے۔پانچویں چیز سرمایہ کاری بڑھائیں گے۔ہم سرمایہ کاری بڑھائیں گے۔روزگار دیں گے،ٹیکنیکل ایجوکیشن،اسکل ایجوکیشن،ٹورازم کے شعبے بنائیں گے۔ہمارے شمالی علاقہ جات سوئیٹزلینڈ سے بھی خوبصورت ہیں،اسی طرح گھر دیں گے۔50 لاکھ سستے گھر بنائیں گے،زراعت کوترقی دیں گے۔کسانوں کیلئے یونیورسٹیاں بنائیں گے، ٹیوب ویل لگائیں گے۔ وفاق کومضبوط کریں گے،صوبوں کوحقوق دیں گے۔ جنوبی پنجاب صوبہ کوحکومت میں آتے ہی انتظامی بنیادوں صوبہ کادرجہ دیں گے۔ فاٹا کوخیبرپختونخواہ میں ضم کردیں گے۔ گیارہواں نکتہ پولیس کے نظام میں اصلاحات لانا ہے۔