کراچی کو مستقل قومی مصیبت کے ہر دھڑے سے آزاد کرائیں گے،ایک الطاف سے جان چھوٹی تو اب عمران خان کی شکل میں دوسرا کراچی سے الیکشن لڑنا چاہتا ہے، بلاول بھٹو

الطاف اور عمران ایک دوسرے کا عکس ہیں ،ایک ہڑتال کرتا ہے تو دوسرا دھرنے دیتا ہے پہلے لندن سے کراچی چلتا تھا اور اب بنی گالہ سے اسے چلانے کے خواب دیکھے جارہے ہیں ،کرپشن پر نکالے گئے لوگ عمران خان کیساتھ بیٹھتے ہیں وہ کیسے نیا پاکستان بنائے گا کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں پیپلزپارٹی کے جلسہ عام سے خطاب

اتوار اپریل 23:50

کراچی کو مستقل قومی مصیبت کے ہر دھڑے سے آزاد کرائیں گے،ایک الطاف سے ..
�راچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 اپریل2018ء) چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی نے کراچی کو ابھی لندن والے سے آزاد کرایا ہے اب مستقل قومی مصیبت کے ہردھڑسے آزاد کروائے گی،ایک الطاف سے جان چھوٹی تو اب عمران خان کی شکل میں دوسرا الطاف کراچی سے الیکشن لڑنا چاہتا ہے ،دونوں نفرت کی سیاست کرتے ہیں ، الطاف اور عمران ایک دوسرے کا عکس ہیں ،ایک ہڑتال کرتا ہے تو دوسرا دھرنے دیتا ہے ، ایک تقریر کرتا ہے تو دوسرا یوٹرن لیتا ہے ،پہلے لندن سے کراچی چلتا تھا اور اب بنی گالہ سے اسے چلانے کے خواب دیکھے جارہے ہیں ،عمران خان کی صورت میں ایک اور بانی ایم کیو ایم نہیں چاہتے، کرپشن پر نکالے گئے لوگ عمران خان کیساتھ بیٹھتے ہیں وہ کیسے نیا پاکستان بنائے گا ،کیا عمران خان کراچی کی عوام کو بے وقوف سمجھتے ہیں۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی کے علاقے لیاقت آباد کے ٹنکی گراؤنڈ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، سینیٹ میں اپوزیشن لیڈرسینیٹر شیری رحمان، پاکستان پیپلزپارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو، سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی ، سابق وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ ودیگر قائدین نے خطاب کیا ، بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ عمران خان ایک پاکستان کا نیا نعرہ لیکر آئے ہیں ، میں پوچھتا ہوں کہ نیاپاکستان بنا نہیں سکیں ایک پاکستان کیسے بنائیں گے انہوں نے کہا کہ عمران خان کے خود دوپاکستان ہیں ایک میں ان کے مخالفین ہیں دوسرے میں ان کے حواری ہیں جہانگیر ترین کرپٹ ترین ہے لیکن ان کے پاس ہے اس لیے وہ شفاف ترین ہے لیکن ان کا جو مخالف ہے وہ بدترین ہے خان صاحب یہ دوہرا معیار کیوں ہے ، عمران خان کرپشن کے خلاف نعرہ لگاتے ہے لیکن ان کے اردگرد کرپٹ ترین لوگ جمع ہیں وہ کس منہ سے وہ کرپشن کے خلاف بات کرتے ہیں بلاول زرداری نے کہا کہ پہلے کراچی کو لندن سے کنٹرول کیا جاتا تھا اب بنی گالہ سے کنٹرول کرنے کا خواب دیکھا جارہا ہے لیکن ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے ، بلاول بھٹو نے کہا کہ میاں نوازشریف نے کراچی کی عوام سے بڑے وعدے کیے ہیں مگر تکمیل کہیں اور کرتے ہیں ن لیگ نے مسائل حل کرنے کی بات کی مگر مسائل کیا حل ہوتے کراچی کی عوام سے بجلی بھی چھین لی انہوں نے کہا کہ وفاق کراچی میں ابتک گرین لائن منصوبہ مکمل نہیں کرسکا کراچی کو نیویارک بنانے والے گوالمنڈی کا گٹرتو پہلے صاف کروالیں انہوں نے کہا کہ نوازشریف ووٹ کی عزت کی بات کرتے ہے میں کہتا ہوں میاں صاحب ووٹ کی عزت کے نام پر آپ کو عزت نہیں مل سکتی آپ کوعزت تب ملتی جب آپ پارلیمان ، آئین اور عوام کے ووٹ کی عزت کرتے ، بلاول بھٹو زرداری نے دوران خطاب متحدہ قومی موومنٹ کو مستقل قومی مصیبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم کی سیاست کراچی کے کچرے پر ٹکی ہوئی ہے جس دن کراچی سے کچرا صاف ہوا اس دن اس کا صفایا بھی ہوجائے گا انہوں نے کہا کہ جو اپنے لیڈر کے نہیں ہوسکے وہ عوام کے کیا ہوں گے جو ایک ساتھ نہیں بیٹھ سکتے ہیں وہ کیا کراچی کے مسائل حل کریں گے ہم نے کراچی کو ایم کیو ایم لندن سے نجات دلائی اورپاکستان پیپلزپارٹی ہی عوام کو مستقل قومی مصیبت سے نجات دلائیں گی انہوں نے کہا کہ لوگ بانی ایم کیو ایم کو بھلا برا کہتے ہیں لیکن ہم بانی ایم کیو ایم کو نہیں ہم اس سسٹم کو برا کہتے ہیں جس نے بانی ایم کیو ایم کو پیدا کیا ۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کے مینڈیٹ پر بندوق کے زور پر قبضہ کیا گیا پیپلزپارٹی کا راستہ روکنے کے لیے نسل پرستی کے بیج بوئے گئے ہمارے کارکنان کو شہید کیا گیا لیکن دیکھ لو ہم فنا نہیں ہوئے آج بھٹو کی تیسری نسل عوام کے سامنے کھڑی ہے انہوں نے کہا اب عوام کو فیصلہ کرنا ہوگا وہ کیا چاہتے ہے ہم پرفیکٹ نہیں ہیں لیکن ہم میں ٹارگٹ کلر نہیں ہیں ،ہم لسانیت کے خلاف کھڑے رہے ہیں ہم نے ووٹ چھن جانے کے باوجود کراچی کے مسائل حل کئے ہیں اگر آپ ووٹ دیں گے تو پھر کراچی کی ترقی میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈال سکے گا،پھر ایم کیو ایم کراچی کی ترقی نہیں روک سکے گی ،مستقل قومی مصیبت گٹرلائنوں میں بوری ڈال کر گٹر لائنیں بند کردیتی ہے ،یہ خاکروبوں کو کام نہیں کرنے دیتی ،یہ کراچی کے مسائل کا حل نہیں چاہتے ۔

انہیں معلوم ہے اگر کراچی کے مسائل حل ہوگئے تو پھر ان کا صفایا ہوجائے گا۔انہوں نے کہا کہ میئر کراچی اختیارات کا رونا روتے ہیں مگر فاروق ستار نے الزام لگایا ہے کہ میئر کراچی نے 5ارب کا حساب دینا ہے مگر حساب نہیں دے رہے بلکہ منہ چھپاتے پھررہے ہیں میں کہتا ہوں فاروق ستار صاحب انہوں نے پانچ ارب کا نہیں بلکہ کئی ارب کا حساب دینا ہے جو سندھ حکومت نے ان کو دئے ہیں مگر جب بھی ہم حساب مانگتے ہیں یہ اختیارات کا رونا روتے ہیں ،بلاول بھٹو زرداری نے میئر کراچی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ جیل میں تھے تو میں نے آپ کیلئے آواز اٹھائی مگر آپ نے کراچی کی عوام کے مسائل حل نہیں کئے آپ بتائیں کراچی کی سڑکیں کیوں ٹوٹی ہوئی ہیں گٹروں کا پانی کیوں بہہ رہا ہے پانی کا بحران کیوں ہے ،آپ کہتے ہیں اختیارات نہیں لیکن عوام کو کہتے ہیں ووٹ ایم کیو ایم کو دو مگر گالیاں پیپلزپارٹی کو دو،میں کہتا ہوں جوووٹ لیتا ہے وہ کام کرکے دیتا ہے ،آپ کام ہی نہیں کرتے تو اختیارات ہیں ان سے آپ نے کیا کیا ہے ،انہوں نے کہا کہ کراچی میں امن پیپلزپارٹی نے قائم کیا ہے اور آپریشن کے کپتان وزیر اعلیٰ سندھ تھے مگر اب جبکہ امن قائم ہوچکاہے تو ہر کوئی فتح کا جھنڈالہرانے آجاتا ہے ،کراچی کے وہ مسائل جو شہری انتظامیہ کی ذمہ داری تھے وہ بھی پیپلزپارٹی حل کررہی ہے ۔

سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضاربانی نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ کراچی بھٹو شہید سے بی بی شہید تک پیپلزپارٹی کا شہر رہا ہے ہم نے لاشیں اٹھائی ہیں مگر شہر کی رونقیں ختم نہیں ہونے دیں ،پیپلزپارٹی آج طلوع ہورہی ہے اور باقی سب غروب ہورہے ہیں ،انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے عوام دشمن اور مزدور کش کاروپریٹ بجٹ پیش کیا ہے جس کا فائدہ صنعتکاروں کو ہوگا اور اس سے غریب کا چولہا ٹھنڈا ہوجائے گا۔#