شامی فوج کا امریکی حمایتی کرد فورسز سے لڑائی کے بعد متعدد دیہات پر دوبارہ قبضہ

شامی فوج نے پہلی مرتبہ دریائے فرات کے مغرب میںجنگجو ئوںکے خلاف لڑائی پر توجہ مرکوز رکھی ،رپورٹ

پیر اپریل 12:24

ْدمشق (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2018ء) شامی فوج نے عراق کی سرحد کے نزدیک دریائے فرات کے مشرق میں واقع متعدد دیہات پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے اور وہاں سے امریکا کی حمایت یافتہ شامی جمہوری فورسز ( ایس ڈی ایف ) کو پسپا کر دیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق کرد ملیشیا کے زیر قیادت عرب اور کرد جنگجوؤں پر مشتمل شامی جمہوری فورسز نے گذشتہ سال امریکا کی فضائی مدد سے صوبے دیر الزور میں دریائے فرات کے مشرق میں واقع بہت سے علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا اور داعش کے جنگجوؤں کو شکست فاش سے دوچار کیا تھا۔

شامی فوج نے ماضی میں شامی جمہوری فورسز سے براہ راست محاذ آرائی سے گریز کیا ہے اور اس نے دریائے فرات کے مغرب میں واقع علاقوں میں مختلف باغی جنگجو گروپوں کے خلاف لڑائی پر توجہ مرکوز رکھی ہے۔

(جاری ہے)

یہ پہلا موقع ہے کہ اس نے دمشق کے نواح میں واقع علاقے مشرقی الغوطہ میں باغی گروپوں کو سرنگوں کرنے کے بعد اب مشرقی صوبوں کی جانب بھی پیش قدمی شروع کردی ہے اور وہ کرد فورسز کے زیر قبضہ علاقوں کو حکومت کی عمل داری میں لارہی ہے۔

ایس ڈی ایف کے کسی عہدے دار نے فوری طور پر شامی فوج کی اس پیش قدمی پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔قبل ازیں ایس ڈی ایف نے اتوار کی صبح یہ اطلاع دی تھی کہ ان کی شامی فوج کے ساتھ دریائے فرات کے نزدیک واقع گاؤں جنین میں شدید لڑائی ہورہی ہے۔اس نے شامی حکام پر اس علاقے میں داعش کے بچے کھچے جنگجوؤں کے خلاف فیصلہ کن لڑائی کے لیے تیاریوں کو تہس نہس کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔

متعلقہ عنوان :