بے نظیر بھٹو ہسپتال میں مریضوں کو پرچی کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا

ایک ہفتے تک صورت حال بہتر ہو جائے گی، ایم ایس ڈاکٹر ارشد صابر

پیر اپریل 12:29

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2018ء) بے نظیر بھٹو ہسپتال میں علاج معالجے کے لئے آنے والے مردوخواتین مریضوں کو پرچی کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ا ے پی پی کی جانب سے کئے گئے سروے میں یہ صورت حال سامنے آئی کہ مردوں کے لئے ہسپتال کے صدر دروازے کے سامنے جبکہ عورتوں کے لئے او پی ڈی کائونٹر پر کمپیوٹرائزڈ پرچی جاری کرنے کا انتظام کیا گیا ہے دونوں جگہ چھ چھ قطاریں بنی تھیں اور ہر قطار میں 10 سے 15 مریض موجود تھے اسی طرح ہستپال کی لیبارٹری سے اپنی ٹیسٹ رپورٹس وصول کرنے کے لئے سینکڑوں لوگوں پر مبنی 7 لائنیں دیکھنے میں آئیں اور لوگوںکو رپورٹس وصول کرنے میں گھنٹوں انتظار کے کرب سے گزرنا پڑ تا ہے۔

لائن میں لگے ایک مریض عارف نے بتایا کہ اسے قطار میں کھڑے 45 منٹ ہوگئے ہیں مگر ابھی تک باری نہیں آئی اس نے ہسپتال کے پرچی کے نظام کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ایک ڈاکٹر نے بھی کہا کہ پہلے ہر شعبہ کی پرچی کا الگ نظام تھا مگر نئے نظام سے مریضوں کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے ہسپتال کے ایم ایس سے جب اے پی پی کے نمائندے نے رجوع کیا تو ایم ایس ڈاکٹر ارشد صابر نے پہلے تو اس صورت حال کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تاہم جب ان سے موقع کا معائنہ کرنے کی درخواست کی گئی تو انہوں نے تسلیم کیا کہ واقعی مسئلہ ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ہمیں پرچی کے نظام کو سنٹرلائز کر نے کا حکم ا وپر سے آیا ہے پورے پنجاب کے ہسپتالوں کی مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ مانیٹرنگ کے باوجود اتنے اہم اور بڑے ہسپتال کا یہ حال کیسے ہو گیا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ہم نے نئے کمپیوٹر سرور کے لئے ٹینڈر آج کھولنے ہیں ایک ہفتے تک صورت حال بہتر ہو جائے گی۔ اے پی پی کے سروے میں یہ بات خاص طور پر محسوس کی گئی کہ خلق خدا کوہسپتال انتظامیہ کے طرز عمل سے شدید اذیت اور کوفت کا سامناہے۔