کپاس کی بی ٹی اقسام کی کاشت سے گزشتہ سال پاکستان میں ڈیڑھ کروڑ کے قریب اور پنجاب میں ایک کروڑ 10 لاکھ گانٹھوں کے حصول نے نیا ریکارڈ قائم کردیا

پیر اپریل 12:34

فیصل آباد۔30 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2018ء) کپاس کے زر عی سائنسدانوں کی تیار کردہ زیادہ پیداواری صلاحیت کی حامل بی ٹی اقسام ایم این ایچ 886اور ایف وی ایچ 142 وغیرہ کی کاشت سے گزشتہ سال پاکستان میں ڈیڑھ کروڑ کے قریب اور پنجاب میں ایک کروڑ10 لاکھ گانٹھوں کے حصول نے نیا ریکارڈ قائم کردیا نیز کپاس کو ملکی اہم فصلوں میں اہم مقام حاصل ہے کیونکہ یہ ملکی ٹیکسٹائل کی صنعت کے فروغ اور غیر ملکی زرمبادلہ کمانے میں اہم کردار ادا کررہی ہے لہٰذا کاشتکار کپاس کی بروقت کاشت کاعمل یقینی بنائیں تاکہ منظورشدہ اقسام کی کاشت سے شاندار پیداوار کاحصول یقینی ہو سکے۔

زرعی ماہرین نے بتایاکہ پاکستان کی آمدنی کا 22فیصد حصہ زراعت پر منحصر ہے جس کے باعث زراعت اب ایک صنعت کا درجہ حاصل کرچکی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایا کہ فی ایکڑ پیداواری اخراجات میں کمی کے لیے کاشتکار کپاس کی مشینی کاشت کو فروغ دیںکیونکہ ملک میں اس وقت ترقی پسند کاشتکار کپاس کی فصل ما سوائے چنائی کے باقی تمام مراحل مشینی کاشت سے کررہے ہیں۔

انہوں نے کاشتکاروں کو سفارش کی کہ وہ زمین کی تیاری کے وقت لیزر لینڈ لیولر استعمال کریں اورڈرل کی بجائے چوڑی پٹڑیوںپر کپاس کاشت کریں تاکہ سفارش کردہ 25ہزار فی ایکڑ پودوں کا حصول یقینی بنایا جاسکے۔ انہوں نے بتایا کہ پٹڑیوںپرکاشت سے پانی کی 30فیصد سے زیادہ بچت ہوتی ہے اور کھادوں ، جڑی بوٹیوں کی تلفی اور نقصان رساں کیڑوں کے تدارک کے لیے زرعی ادویات کے استعمال میں بھی آسانی ہوتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کپاس کی بوائی کے وقت بیج کو کیڑے مار اور پھپھوند کش زہر وں سے آلود ہ کرلیں تاکہ فصل ابتدائی مرحلہ میں نقصان رساں کیڑوں اور بیماریوں کے حملہ سے محفوظ ہوسکے۔انہوں نے کہاکہ کاشتکار اپنے اضلاع کی مٹی اور پانی کے تجزیہ کی لیبارٹریوں سے زمینوں کے تجزیہ کی روشنی میں متوازن اور متناسب کھادوں کے استعمال سے فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کریں۔

انہوںنے کہاکہ نائٹروجن ، فاسفورس اور پوٹاش کھادوں کے ساتھ زنک اور بوران کی کمی کی صورت میں ان اجزائے صغیرہ کا استعمال بھی کیا جائے تاکہ پودوں کی بڑھوتری اور پھل لگنے کے عمل میں اضافہ ہوسکے۔انہوںنے کہاکہ کاشتکار گندم کے خالی کردہ کھیتوں میں ناڑ کوآگ لگانے کی بجائے زمین میں روٹا ویٹ کریں تاکہ ہماری زمینوں میں نامیاتی مادہ کی مقدار میں اضافہ اور ماحولیاتی آلودگی میں بھی کمی لائی جاسکے۔