ہیضہ موسمی مرض، حفظان صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی سے پھیلتا ہے، ماہرین طب

پیر اپریل 13:10

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2018ء) ماہرین طب نے کہا ہے کہ ہیضہ ایک موسمی مرض ہے جو موسم گرما میں حفظان صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی کرنے سے وبا کی صورت میں پھیلتا ہے اور سکول جانے والے بچے اس مرض میں زیادہ مبتلاء ہوتے ہیں جس کی وجہ بازار کی چٹ پٹی چیزیں جیسے چاٹ ، آلو چنے ، گول گپے اور مختلف رنگوں والی آئس کریموں وغیرہ کا استعمال ہے اس لیے والدین اپنے بچوں کو ایسی اشیاء کے استعمال سے منع کریں۔

اسلام آباد میڈیکل کالج کے ماہرین طب نے بتایا کہ اس مرض کا اصل سبب ایک جرثومہ ہے جسے ’’وبر یو کالری‘‘ یا ’’وبر یو کوما‘‘ کہتے ہیں جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس کی شکل انگریزی کے ’’کوما‘‘ سے ملتی جلتی ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے اسباب میں آب و ہوا کی خرابی، تنگ و تاریک جگہ پر رہائش، گندگی، میلا کچیلا رہنا، حفظان صحت کے اصولوں سے انحراف اور خوراک کا مناسب طور پر ہضم نہ ہونا ہے۔

(جاری ہے)

انہوںنے بتایا کہ ہیضے کی علامات میںپیٹ میں شدید درد ہونا،قے اور دست آنا شامل ہیں۔ انہوںنے بتایاکہ بروقت علاج شروع نہ کیے جانے سے یہ علامات شدت اختیار کر لیتی ہیں، دست اور قے بہت زیادہ آنے لگتے ہیں، ہاتھوں ، پیروں میں تشنج اور کھچاوٹ ہوتی ہے اور مریض کے لیے چلنا پھرنا مشکل ہو جاتا ہے، جسم سے ضروری پانی کے اخراج کے بعد مریض سستی اور کمزوری محسوس کرتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے مرض کی علامات میں کمی واقع ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ انہوںنے مشورہ دیا کہ ابتدائی علامات ظاہر ہوتے ہی فوراً مستند ڈاکٹر سے رجوع اورشدید مرض کی صورت میں ہسپتال سے رجوع کر نا چاہیے، پانی کی کمی کی صورت او آر ایس کا استعمال کرنا چاہیے۔

متعلقہ عنوان :