نیب کا مئی میں نون لیگی وزراءکے خلاف منی لانڈرنگ، آمدن سے زائد اثاثے اور بد عنوانی کے الزامات کی تحقیقات شروع کرنے کا فیصلہ

Mian Nadeem میاں محمد ندیم پیر اپریل 13:13

نیب کا مئی میں نون لیگی وزراءکے خلاف منی لانڈرنگ، آمدن سے زائد اثاثے ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔30 اپریل۔2018ء) قومی احتساب بیورو (نیب) کے حکام مئی میں مسلم لیگ (ن) کے وفاقی وزراءکے خلاف منی لانڈرنگ، آمدن سے زائد اثاثے اور بد عنوانی کے الزامات کی تحقیقات شروع کریں گے۔نیب کے معتبر ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے بیشتر راہنماﺅں کے خلاف درج شکاتیں مئی میں فعال کردی جائیں گی جس کے بعد نیب تحقیقات آغاز کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرے گا۔

اگر ان کے خلاف کرپشن کے ثبوت مل گئے تو گرفتاری عمل میں لائی جا سکتی ہے ورنہ شکایات کو رد کردیا جا ئے گا۔اس حوالے سے انہوں نے بتایا گیا ہے کہ نیب کی تحقیقات کاسامنا کرنے والوں میں مسلم لیگ (ن) کے راہنما اور وفاقی وزرائ سائرہ افضل، اکرم درانی، رضا حسین پیزادہ، خواجہ سعد رفیق،، وزیراعظم کے سیکرٹری فواد حسین فواد، سابق وزیراعظم نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) صفدر اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی شامل ہیں۔

(جاری ہے)

نیب میں کسی کے خلاف تحقیقات کا آغاز اس وقت شروع ہوتا ہے جب درخواست جمع کرانے کے بعد اس کی تصدیق ہوتی ہے اور ابتدائی انکوائری کے بعد ہی تحقیقاتی شعبے کو کیس فراہم کیا جاتا ہے، جس کے بعد ہی بھرپور تحقیقات شروع ہو تی ہیں اور پھر ریفرنس تیار کیا جاتا ہے۔نیب حکام کے مطابق راولپنڈی نیب نے فواد حسین فواد کے خلاف کرپشن سے متعلق دوسرا کیس بھی تیار کرلیا ہے جس میں ان پر راولپنڈی میں میگا مال کی تعمیرات کا الزام ہے۔

واضح رہے کہ مذکورہ اراضی کی قیمت 12 ارب روپے بتائی جاتی ہے جبکہ کثیرالمنزلہ عمارت کی تعمیرات اپنے آخری مراحل میں ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ ایک 21 گریڈ کا افسر اتنی مہنگی تعمیرات کیسے کرواسکتا ہے، اس حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ راولپنڈی کے وسط میں قائم 10 منزلہ عمارت کی ملکیت فواد حسین فواد اور ان کے بھائی کے پاس ہے اور انہوں نے اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے مبینہ طور پر جے ایس بینک سے بلڈنگ کی تعمیر کے لیے رقم حاصل کی۔

شکایت کنندہ کے مطابق فواد حسین فواد اور ان کے بھائی نے راولپنڈی حیدر روڈ پر رہائشی پلاٹ کے بدلے میں صدر میں جی پی او کے پاس کمرشل پلاٹ حاصل کیا۔اس حوالے سے نیب نے مزید بتایا کہ وفاقی وزیر صحت سائرہ افضل تارڑ نے بعض دوا ساز کمپنیوں کو رجسٹریشن کرنے اور ادویات کی قیمت میں اضافے کرنے پر ‘خصوصی رعایت’ فراہم کی۔وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ ریاض حسین پیزادہ پر الزام ہے کہ انہوں نے سپورٹس ڈویژن اینڈ پاکستان اسپورٹس بورڈ کے امور میں متعدد دفعہ بے ضابطگیاں کیں۔

دوسری جانب اکرم درانی پر بطور وزیر اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھانے اور پلاٹس کی غیرقانونی الاٹمنٹ کا الزام ہے، شکایت کے مطابق اکرم درانی نے ڈی ایچ اے فاونڈیشن کے سیکٹر 1 سے 12 اور 1 سے 16 میں اپنے منظور نظر دوستوں اور رشتے داروں کے لیے پلاٹوں کی الاٹمنٹ میں مبینہ کردار ادا کیا جس سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان ہوا۔ذرائع نے مزید بتایا کہ نیب نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو ((ایف بی آر)) سے پی سی بی چیئرمین نجم سیٹھی کے کھاتوں سے متعلق تفصیلات طلب کرلیں۔

واضح ہے کہ نجم سیٹھی کے خلاف 2010 میں اثاثے ظاہر نہ کرنے کا کیس دائر ہے، جو منی لانڈرنگ میں آتا ہے۔سابق ٹیسٹ کرکٹر سرفراز نواز نے نجم سیٹھی پر منی لانڈرنگ، ناجائز ذرائع سے آمدنی کے حصول اور بیرون ملک میں اربوں روپے کی مالیت کے اثاثوں کی ملکیت رکھنے کا الزام لگا تھا۔