جلسہ لاہور دا ، مجمع پشور دا تے ایجنڈا کسی ہور دا ،

یہ عمران خان کی اصولی سیاست کی منہ بولتی تصویر ہے، نوازشریف

پیر اپریل 13:53

جلسہ لاہور دا ، مجمع پشور دا تے ایجنڈا کسی ہور دا ،
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2018ء) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد سابق وزیراعظم میاں نوازشریف نے کہا ہے کہ مصنوعی فیصلہ ہورہا ہے اس پر عملدرآمد ممکن ہی نہیں ،جو اس طرح کے فیصلے دے رہے ہیں وہ پچھتائیں گے،افسوس ہم نے ماضی سے کچھ نہیں سیکھا،ہمارے ایجنڈے کو دس بیس سال مل جائیں تو ملک کی تصویر بدل سکتی ہے،ٹانگیں کھینچنے والے کھینچتے رہے، کبھی کوئی صدر، کبھی فوجی ڈکٹیٹر توکبھی دوسرے ٹانگیں کھینچ رہے ہیں، جلسہ لاہور دا ، مجمع پشور دا تے ایجنڈا کسی ہور دا ، انہوں نے کہاکہ یہ عمران خان کی اصولی سیاست کی منہ بولتی تصویر ہے، اسلام آباد میں نیا ائیرپورٹ دیکھ کر دل خوش ہوتا ہے، میں اس کا افتتاح نہیں کرسکا، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔

وہ پیر کو پیشی سے قبل اور بعد میں احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے ۔

(جاری ہے)

نوازشریف نے کہا کہ یہ ہے عمران خان کی اصولی سیاست اور اس کی منہ بولتی تصویر، ہم ہولو نعرے پچھلے کئی سالوں سے سن رہے ہیں لیکن جب واسطہ پڑا تو پتا چلا، جو کچھ خیبرپختونخوا میں کیا دنیا کو پتا لگ گیا، اس کے مقابلے میں جو مرکز اور پنجاب میں ہوا کوئی مقابلہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج پنجاب دیکھیں، پھر سندھ،، کے پی کے اور بلوچستان دیکھیں، لاہور دیکھیں اور دیگر شہر دیکھیں، دور دور تک کوئی مقابلہ اور موازانہ نظر نہیں آتا، فرق صاف ظاہر ہے،(ن)لیگ جب بھی آئی ہمیشہ ترقی کے ایجنڈے پر عمل کیا، آج ملک میں انفرا اسٹرکچر بن رہا ہے، اسلام آباد میں نیا ائیرپورٹ دیکھ کر دل خوش ہوتا ہے، میں اس کا افتتاح نہیں کرسکا، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن اس میں ہماری خدمات ہیں، ملک کی ترقی اور خوشحالی ہے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے ایجنڈے کو دس بیس سال مل جائیں تو ملک کی تصویر بدل سکتی ہے، ایک نیا پاکستان بن جاتا لیکن یہاں کام کرنے کون دیتا ہے، ٹانگیں کھینچنے والے کھینچتے رہے، کبھی کوئی صدر، کبھی فوجی ڈکٹیٹر، کبھی دوسرے ٹانگیں کھینچ رہے ہیں۔۔نوازشریف نے کہا کہ یہ مصنوعی فیصلہ ہورہا ہے، اس پر عملدرآمد ممکن ہی نہیں، جو اس طرح کے فیصلے دے رہے ہیں وہ پچھتائیں گے کیونکہ یہ پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے، 70 سالوں میں یہی کچھ ملک میں دیکھا، کسی ہمسایہ ملک میں اس طرح کے مناظر نہیں دیکھے، بنگلا دیش میں بھی یہ مناظر نظر نہیں آتے، ہماری کہانی بہت دکھی افسوسناک ہے، دعا ہے اللہ ہمارا مستقبل اچھا کرے۔

مفتاح اسماعیل کے بجٹ پیش کیے جانے سے متعلق سوال پر(ن)لیگ کے قائد نے کہا کہ میں کیا کہہ سکتا ہوں جبکہ نوازشریف نے پنجابی زبان کا فقرہ استعمال کرتے ہوئے کہاکہ جلسہ لاہور دا ، مجمع پشور دا تے ایجنڈا کسی ہور دا ، انہوں نے کہاکہ یہ عمران خان کی اصولی سیاست کی منہ بولتی تصویر ہے ۔قبل ازیں احتساب عدالت میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے نوازشریف نے کہا کہ مجھے اقامے پر ناہل کیا گیا اور ججوں نے خواجہ آصف کو بھاری دل سینااہل کیا، مجھے خوشی ہے میرے دل پر کوئی بوجھ نہیں۔سابق وزیراعظم نے تحریک انصاف کے لاہور جلسے پر بات کرنے سے معذرت کرلی۔ایک سوال کے جواب میں نوازشریف کا کہنا تھا کہ بھارت اور چین آپس میں دوستی کر رہے ہیں، افسوس ہم نے ماضی سے کچھ نہیں سیکھا۔