سپریم کورٹ نے الیکشن ایکٹ کی دفعہ 202 کالعدم قرار دینے کی نظرثانی درخواست مسترد کردی

پیر اپریل 13:59

سپریم کورٹ نے الیکشن ایکٹ کی دفعہ 202 کالعدم قرار دینے کی نظرثانی درخواست ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2018ء) سپریم کورٹ آف پاکستان نے الیکشن ایکٹ کی دفعہ 202 کالعدم قرار دینے کی نظرثانی درخواست مسترد کردی۔گزشتہ روز چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں پاکستان ملت پارٹی کے سیکرٹری جنرل شیخ مشتاق علی کی الیکشن ایکٹ کی دفعہ 202 کالعدم قرار دینے سے متعلق نظرثانی کی درخواست پر سماعت کی۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ الیکشن ایکٹ کا سیکشن 202 آئین کی روح کے خلاف ہے، ایک دفعہ میں ہر سیاسی جماعت کو دو لاکھ روپے فیس جمع کروانے کا پابند کیا گیا ہے، نئے ایکٹ میں سیاسی جماعتوں کو 2000ممبران کے شناختی کارڈ جمع کروانے کا بھی پابند کیا گیا ہے۔درخواست گزار کی جانب سے قانونی نکتہ اٹھایا کہ آئین کے آرٹیکل 17کی دفعہ 2کے تحت پاکستان کے ہر شہری کو سیاسی جماعت بنانے کا حق حاصل ہے۔ اس لیے دو لاکھ روپے فیس اور دو ہزار ارکان کی فہرست فراہم کرنے کی شرائط کو ختم کیا جائے ۔فریقین کے دلائل سننے کے بعد چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے درخواست مسترد کردی۔