کاشتکار کپاس کی فصل کو رس چوسنے والے کیڑوں کے حملہ سے محفوظ رکھیں‘محکمہ زراعت پنجاب

پیر اپریل 15:04

لاہور۔30 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2018ء) کپاس کے کاشتکار کپاس کی فی ایکڑ بہتر پیداوار کے حصول کیلئے فصل کو رس چوسنے والے کیڑوں کے حملہ سے محفوظ رکھیں۔محکمہ زراعت پنجاب کے ترجمان کے مطابق تھرپس کا حملہ کپاس کی فصل اگنے کے ساتھ ہی شروع ہو جاتاہے، اس کی مادہ نرم پتوں اور شاخوں پر گروہ کی شکل میں انڈے دیتی ہے۔ تھرپس کے بالغ اور بچے دونوں پتوں کو رگڑ کر رس چوستے ہیں جس سے پتوں کی نچلی سطح چاندی کی طرح سفید چمکدار ہو جاتی ہے۔

کپاس کے چھوٹے پودوں کے پتے رس چوسنے کی وجہ سے چُڑ مُڑ ہو جاتے ہیں اور پیالہ نما شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ تھرپس کے تدارک کیلئے کسّی، کھرپہ، کسولہ یا ہل کی مدد سے گوڈی کریں تاکہ زیر زمین انڈوں سے بچے نکل کر تلف ہو جائیں۔ فصل کی ہلکی آبپاشی کریں اور تھرپس کے حملہ سے متاثرہ پودوں کی چھدرائی کر کے فالتو پودے نکال دیں۔

(جاری ہے)

مائٹس (جوئیں) کے بچے اور بالغ دونوں فصل کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

جسامت چھوٹی ہونے کی وجہ سے ابتدائی حملہ کے وقت کاشتکار کو ان کی موجودگی کا پتہ نہیں چلتا اور شدید حملہ کی وجہ سے فصل تباہ ہو جاتی ہے۔ حملہ شدہ پتے بہت چھوٹے رہ جاتے ہیں، اوپر کو مڑ جاتے ہیں اور سخت ہو کر بھربھرے ہو جاتے ہیں۔مائٹس کے تدارک کیلئے فصل پر خصوصی توجہ دیں اور متاثرہ پتے اور پودے توڑ کر زمین میں دبا دیں۔ سفید مکھی کاٹن لیف کرل وائرس نامی بیماری کے پھیلانے کا سبب بنتی ہے۔

سفید مکھی اور اس کے بچے دونوں رس چوس کر کپاس کی فصل کو نقصان پہنچاتے ہیں جس سے پودے کمزور ہو جاتے ہیں اورغنچوں، پھولوں اور پتوں کی نشوونما رک جاتی ہے۔ سفید مکھی رس چوسنے کے دوران اپنے جسم سے ایک میٹھا لیسدار مادہ خارج کرتی ہے جس سے پتوں پر سیاہ پھپھوندی اگ آتی ہے، پتے سیاہ پڑ جاتے ہیں ، ضیائی تالیف کا عمل متاثر ہوتا ہے، پودے اپنی خوراک تیار نہیں کر سکتے اور کمزور ہو جاتے ہیں۔ سفید مکھی کے تدارک کیلئے کھیت کو جڑی بوٹیوں سے پاک رکھیں، فصل کی باقاعدگی سے پیسٹ سکائوٹنگ کریں اور متاثرہ پودے چھدرائی کے وقت احتیاط سے تلف کر دیں۔ ضرر رساں کیڑوں کا حملہ نقصان کی معاشی حد سے زیادہ ہو جائے تو زرعی ماہرین کے مشورہ سے مناسب زہروں کا سپرے کریں۔

متعلقہ عنوان :