الیکشن ایکٹ میں دو لاکھ روپے کی فیس اور دو ہزار ارکان کی فہرست فراہم کرنے کی شرائط کو کالعدم قرار دینے کیلئے نظرثانی کی درخواست مسترد

پیر اپریل 15:40

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2018ء) چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی فل بنچ نے الیکشن ایکٹ میں دو لاکھ روپے کی فیس اور دو ہزار ارکان کی فہرست فراہم کرنے کی شرائط کو کالعدم قرار دینے کیلئے نظرثانی کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کے وکیل کے مطابق الیکشن ایکٹ کے سیکشن 202 میں ترمیم کرکے سیاسی جماعت کو دو لاکھ روپے فیس جمع کرانے کا پابند کیا گیا ہے۔

درخواست گزار نے یہ اعتراض اٹھایا کہ ایکٹ میں ترمیم سے سیاسی جماعتوں کو دو ہزار ارکان کے شناختی کارڈ جمع کرانے کا بھی پابند کیا گیا ہے۔ درخواست گزار کے وکیل نے قانونی نکتہ اٹھایا کہ آئین کے آرٹیکل سترہ دو کے تحت پاکستان کے ہر شہری کو سیاسی جماعت بنانے کا حق حاصل ہے اس لیے دو لاکھ روپے فیس اور دو ہزار ارکان کی فہرست فراہم کرنے کی شرائط کو ختم کیا جائے ۔