وفاقی کابینہ میں توسیع پر حکمران جماعت میں پھوٹ

Mian Nadeem میاں محمد ندیم پیر اپریل 16:18

وفاقی کابینہ میں توسیع پر حکمران جماعت میں پھوٹ
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔30 اپریل۔2018ء) وفاقی کابینہ میں5 وفاقی وزرا اورایک وزیرمملکت سمیت 6 وزراءکی شمولیت کونہ صرف حزب اختلاف کی جماعتوں کی طرف سے سخت تنقید کا نشانہ بنایاگیا بلکہ اس سے پاکستان مسلم لیگ (ن )کی صفوں میں بھی اختلافات پیدا ہوئے ہیں۔حکومتی مدت پوری ہونے سے محض ایک ماہ قبل کابینہ میں اچانک توسیع بظاہرحیران کن ہے جبکہ حزب اختلاف کی بڑی جماعتیں اس اقدام کومیرٹ کے برخلاف منظورنظرافرادکونوازکے مترادف قراردیتے ہوئے کڑی تنقید کی جبکہ مسلم لیگ کے ارکان پارلیمنٹ بھی اس بات سے ناخوش ہیں کہ نئے شامل کئے گئے وزراءمیں صرف ایک وزیرالیکشن جیتنے کی اہلیت رکھتاہے جبکہ ایک غیررکن پارلیمنٹ کوانتہائی اہم وزارت کاقلمدان دیاگیا۔

(جاری ہے)

مسلم لیگ (ن) کے ایک رکن نے نام نہ ظاہرکرنے کی شرط پربتایاکہ وسطی پنجاب سے پارٹی ارکان موجودہ وزیرمملکت راناافضل خان کی گزشتہ سال دسمبرمیں کابینہ میں ہی شمولیت سے ہی انہیں وفاقی وزیربنانے کی حمایت کررہے تھے چنانچہ اس موقع پرمتنازعہ فیصلہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنوردلشادنے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ مفاح اسماعیل وزیرخزانہ بنانایہ ظاہرکرتاہے کہ وزیراعظم کوپوری پارلیمنٹ سے اس کے لیے کوئی موزوں امیدوارنہیں ملا۔

وزیراعظم نے پوری پارلیمنٹ خصوصاًنون لیگ کے200سے زائدارکان قومی اسمبلی وسینیٹرزکی توہین کی ہے۔جب آپ کے پاس پہلے سے ایک منتخب وزیرمملکت خزانہ موجودہے توپھرایک غیررکن پارلیمنٹ کووزیربنانے کاکیاجوازہے؟۔کنور دلشاد نے کہاکہ آرٹیکل91کااطلاق انتہائی غیرمعمولی حالات میںہوتاہے جسکے تحت کسی بھی ایسے شخص کو جسکامتبادل دستیاب نہ ہووزیربنایاجاسکتاہے جورکن پارلیمنٹ نہ ہو۔

انہوں نے کہاکہ اس غیرسنجیدگی سے مجھے شبہ ہے کہ کیاحکومت واقعی 14مئی کوقومی اسمبلی سے بجٹ منظورکرنے کی پوزیشن ہے۔واضح رہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے جمعہ کو مفتاح اسماعیل،،ماروی میمن،،مریم اورنگزیب،انوشہ رحمن اورطارق فضل چوہدری کووفاقی وزیرجبکہ لیلیٰ خان کووزیرمملکت مقررکرتے ہوئے کابینہ بھی توسیع کی تھی۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :