سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اپنی تاریخ کے سب سے بڑے مشترکہ منصوبے پر کام شروع کردیا

سپرسپیڈ کارگو منصوبہ، دبئی سے سعودیہ 45 منٹ میں سامان منتقل، 10 ارب ڈالر کی لاگت سے منصوبے پر کام جلد شروع ہونے کا امکان ہے،عالمی بندرگاہ کمپنی

پیر اپریل 16:38

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اپنی تاریخ کے سب سے بڑے مشترکہ منصوبے ..
دبئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2018ء) دبئی بین الاقوامی بندرگاہ کمپنی نے بتایا ہے کہ اس نے ورجن ہائیپر لوپ ون کمپنی کے تعاون سے دنیا کا تیز ترین کارگو ٹرین سسٹم تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کی تیاری کے بعد دبئی سے سعودی عرب تک 45 منٹ میں مسافروں اور سامان کو پہنچایا جاسکے گا۔میڈیارپورٹس کے مطابق کمپنی کے عہدیداروں کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے کم سے کم 10 ارب ڈالر کی ضرورت ہے اور اس پر سرمایہ کاری کے لیے متحدہ عرب امارات،، سعودی عرب اور بھارت کے شامل ہونے کے امکانات ہیں۔

دبئی بین الاقوامی بندرگاہ کونسل کے چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹر سلطان احمد بن سلیم کا کہنا تھا کہ ہائپرلوپ ون کمپنی کے ساتھ ایک باضابطہ تقریب میں سپر سپیڈ ٹرین منصوبے پر اتفاق کیا گیا۔

(جاری ہے)

اس معاہدے کو برطانوی ارب پتہ رچرڈ پرانسن کا تعاون حاصل ہے جو ہائیپر لوپ کے سب سے بڑے سرمایہ کار قرار دیے جاتے ہیں۔۔دبئی میں ہونے والی اس تقریب میں متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیراعظم اور حاکم دبئی الشیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے بھی شرکت کی۔

دونوں کمپنیوں نے ہائپر لوپ کے نام کو ’بین الاقوامی بندرگاہ کارگو سپیڈ‘ کا نام دینے سے اتفاق بھی کیا۔ سلیم کا کہنا تھا کہ ہم ٹرانسپورٹ کی دنیا میں ایک نیا انقلاب لانا چاہتے ہیں۔ سامان کی ترسیل کی تیز ترین کارگو سروس کی تکمیل کے بعد سعودی عرب سے دبئی کے درمیان سامان کی تریل 14 گھنتے سے کم ہو کر پونے گھنٹے یا ایک گھنٹے تک آجائے گی۔

خیال رہے کہ بین الاقوامی دبئی کمپنی کے 40 ممالک میں 78 اسٹیشن ہیں۔ یہ کمپنی سالانہ 80 مال بردار بحری جہازوں سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔درایں اثناء ورجن ہائپرلوپ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو روپ لویڈ کا کہنا تھا کہ ابتدائی طورپر تجرباتی کارگو ٹرین سروس 10 سے 15 کلو میٹر تک چلائی جائے گی۔ اس کے بعد منصوبے کو مکمل کرنے کے لیے کام آگے بڑھایا جائے گا۔لویڈ کا کہنا تھا کہ فی الحال یہ منصوبہ بھارت اور مشرق وسطیٰ کے درمیان ہے مگر اسے امریکا اور کینیڈا تک توسیع دی جاسکتی ہے۔ لویڈ کا کہنا تھا کہ سنہ مجھے یقین ہے کہ رواں سال کے آخر تک ہمارے پاس حکومت کی فنڈ سے تین منصوبے شروع کرنے کے لیے تیار ہوں گے۔ ان میں سے دو سنہ 2019ء اور ایک 2020ء میں شروع کیا جائیگا۔