بھارت کا مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کو دبانے کیلئے بلیک کیٹ کمانڈوز تعینات کرنے کا فیصلہ

پیر اپریل 16:47

نئی دلی۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2018ء) بھارتی حکومت نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں تحریک آزادی کو دبانے کی غرض سے فوج اور پیرا ملٹری فورسز کی مدد کے لیے نیشنل سکیورٹی گارڈ کے بلیک کیٹ کمانڈوز تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق این ایس جی کے کمانڈوز تعینات کرنے کا فیصلہ علاقے میں بھارت مخالف احتجاجی مظاہروں میں تیزی آنے کے بعد کیا گیا ہے۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایک این ایس جی کی چھوٹی ٹیم میں عام طورپر پانچ کمانڈوزاور ایک بم ناکارہ بنانے والا ماہر ہوتا ہے جس کی سربراہی ایک نان کمیشنڈ افسر کرتا ہے۔ بھارتی وزارت داخلہ کے ایک افسر نے نئی دہلی میں صحافیوں کو بتایا کہ ہم کشمیر میں این ایس جی تعینات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہا این ایس جی کمانڈوز کو عسکریت پسندوں اور یرغمال بنانے جیسی صورتحال سے نمٹنے کی تربیت دی گئی ہے۔

مقبوضہ کشمیر کے ڈائریکٹر جنرل پولیس ایس پی وید نے بھی حال ہی میں کہا تھا کہ وہ اس تجویز پر کام کررہے ہیں اور امید ہے کہ وہ اس میں کامیاب ہوجائیں گے۔ جموں وکشمیر میں پہلی دفعہ این ایس جی کمانڈوز کوتعینات نہیں کیا جارہا بلکہ ماضی میں بھی وادی کشمیر میںایلیٹ فورس کو تعینات کیا جاچکا ہے اور وہ معصوم شہریوں کے قتل میں ملوث رہے ہیں۔ کمانڈوز جدید ہیکلر اینڈ کوچ ایم پی ۔5 سب مشین گن، سنائپر رائفلز، راڈار اور سی فور دھماکہ خیز مواد سے لیس ہوتے ہیں ۔