جذبہ حب الوطنی کوعملی طور پر ثابت کرنے کی ضرورت ہے، عمل کے میدان میں قدم رکھنے کے بعد کوئی دشمن ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتا، ڈاکٹر اجمل خان

نوجوانوں نے دہشت گردی کو شکت دینے ے لئے کراچی تا کشمور اتحاد کی ایک زنجیر بنائی ہے جسے دشمن کبھی نہ توڑ سکے گا، ڈاکٹر احمد قادری

پیر اپریل 17:30

کراچی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2018ء) جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد اجمل خان نے کہا ہے کہ ہمیں اپنے جذبہ حب الوطنی کو عملی طور پر ثابت کرنے کی ضرورت ہے، عمل کے میدان میں قدم رکھنے کے بعد کوئی دشمن ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتا، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے ملک سے غربت کے خاتمے کے لئے اپنا کردار ادا کریں، میں عمل اور سوچ میں تبدیلی دیکھ رہا ہوں، اس طاقت کو مثبت سمت میں لے جانے کے لئے علمی اور نظریاتی جنگ لڑنی ہو گی، اپنے آپ کو علمی اور معاشرتی طور پر مضبوط کرنے کی ضرورت ہے جو ایک ترقی یافتہ معاشرے کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرسکتی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ کراچی کے کلیہ معارف اسلامیہ اور کلیہ فنون وسماجی علوم کے اشتراک سے کلیہ فنون وسماجی علوم کی سماعت گاہ میں منعقدہ کانفرنس بعنوان: ’’پیغام پاکستان اور ہمارا نوجوان‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

ڈاکٹر اجمل خان نے مزید کہا کہ نوجوان نسل کسی بھی قوم کا حقیقی سرمایہ ہوتی ہے، جس قوم کے نوجوان بیدار و باشعور ہوں، اس کا مستقبل محفوظ اور تابناک ہوتا ہے، نوجوانوں کا فعال کردار ہی قومی ترقی کا ضامن ہے، تعمیر پاکستان کے لیے نوجوانوں کو قلم اور کتاب سے رشتہ استوار کرنا ہوگا، علمی صلاحیتوں کو فروغ دیتے ہوئے غفلت اور لاپروائی کے رویے کو ترک کرنا ہوگا۔

رئیس کلیہ فنون وسماجی علوم جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر محمد احمد قادری نے کہا کہ ہمارا یہ قومی فریضہ ہے کہ ہم نفرت وعصبیت کے خاتمے کے لئے پاکستان کے پیغام کو گھر گھر پہنچائیں، نظریہ پاکستان سے ہمیں عملی طور پر جڑنا ہوگا تاکہ دہشت گردی اور جنون کی فضاء سے ہم باہر آجائیں۔ اس موقع پر ڈاکٹر محمد احمد قادری نے پیغام پاکستان فورم کے قیام کا اعلان بھی کیا اور کہا کہ اس طرح کے پیغام پاکستان پروگرامز ملک کی تمام جامعات میں کئے جائیں گئے تاکہ نوجوانوں کی مدد سے ایک تعلیمی اور نظریاتی انقلاب لایا جا سکے جس میں صرف پاکستان اور پاکستان ہی ہمارا محور ہو۔

ڈائریکٹر اسلامک ایجوکیشنل اینڈ کلچرل ریسرچ سینٹر ہیوسٹن امریکہ کی صدف اکبانی نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ پاکستانی قوم ایک زندہ قوم ہیں اور سب ایک پرچم تلے جمع ہیں۔ ہماری مسلح افواج ملک کی حفاظت کررہی ہے اور ہر قسم کے خطرات سے نبردآزما ہونے کے لئے ہمہ وقت تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ عصر حاضر میں علامہ اقبال کے پیغام کو نوجوا ن نسل تک احسن طریقے سے پہنچانے کی اشد ضرورت ہے، کلام اقبال ہی کے ذریعے ملک و قوم کی تعمیر ہو سکتی ہے۔

مفتی احمد افنان نے کہا کہ میثاق مدینہ اسلامی کی پہلی قرارداد تھی اور قرارداد مقاصد پاکستان کی قرارداد ہے، میراکلمہ میرا عقیدہ ہے، ذات پات کے نعروں کو رسول اکرمﷺ نے ناپسندیدہ قراردیا،لہذا ہمارا نعرہ بھی ایک ہونا چاہئے یعنی پاکستان زندہ باد ۔۔پاکستان کو اندرونی اور بیرونی دونوں خطروں کا سامنا ہے ،بیرونی خطرے کو تو ہم نے کافی حد تک ختم کر دیا ہے جبکہ اندرونی خطرات کے خلاف بھی مشترکہ جدوجہد ضروری ہے۔

ڈاکٹر سعید احمد سعیدی نے کہا کہ ہمیں اپنے اندر اعتماد پیدا کرنے کی ضرورت ہے، اسلام سلامتی کا مذہب ہے، ہر شخص اپنے حصے کا کام کرے تو پاکستان ترقی کرے گا۔ پروفیسر ڈاکٹر سلطان شاہ نے قائد اعظم کی زندگی کے مختلف پہلوئوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ قائد اعظم پاکستان کے ہر شعبہ زندگی میں اسلامی نظریے کے مطابق اصول وقوانین نافذ کرنا چاہتے تھے، اگر علامہ اقبال اور قائد اعظم محمد علی جناح کے افکار کو سمجھیں تو قوم کو پتہ چلے گا کہ پاکستان کیسے بنا ۔

میری دعا ہے کہ پاکستانیت کا پیغام ملک کے کونے کونے میں گونجتا رہے۔ جامعہ کراچی کے شعبہ عمرانیات کی ڈاکٹر ثوبیہ شہزاد نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل ہمارانوجوا ن ہے اور تعمیر پاکستان ہی ہماری منزل ہے، اس منزل تک رسائی بزرگوں کے نقش قدم کی پیروی سے ممکن ہے۔