نیب خیبر پختونخوا نے سنٹرل جیل سے جعلی اسناد کے ذریعہ سزا مکمل ہونے سے قبل قیدیوں کی رہا ئی کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی

24 نومبر 2016ء کو 16 قیدیوں کو جعلی اسناد اور معافی ناموں کے ذریعہ رہا کر دیا گیا تھا وزیراعلیٰ نے یکم مارچ 2017ء کو سپرٹنڈنٹ خالد عباس سمیت 7 افسران اور ایک وارڈر کو معطل کر کے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے گریڈ 20 کے آفیسر فرخ سیر کو انکوائری آفیسر مقرر کر کے انکوائری کے احکامات جاری کئے تھے

پیر اپریل 17:34

ہری پور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2018ء) نیب خیبر پختونخوا نے سنٹرل جیل ہری پور سے 16 قیدیوں کو جعلی اسناد اور معافی ناموں کے ذریعہ سزا مکمل ہونے سے قبل رہا کئے جانے کے قیدیوں کے کیس کا نوٹس لیتے ہوئے (آج) بدھ کو محکمانہ انکوائری رپورٹ طلب کر لی ہے۔ ذرائع کے مطابق 24 نومبر 2016ء کی ایک رپورٹ میں نشاندہی کی گئی تھی کہ 16 قیدیوں کو جعلی اسناد اور معافی ناموں کے ذریعہ رہا کیا گیا جس پر 28 نومبر 2016ء کو اس وقت کے سپرٹنڈنٹ جیل ہری پور خالد عباس نے سو موٹو نوٹس لیکر اعلیٰ حکام کو آگاہ کیا اور 5 دسمبر 2016ء کو معاملہ جانچ پڑتال کیلئے سپرٹنڈنٹ صاحبزادہ شاہ جہاں کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی قائم کر دی جس میں اس وقت کے سپرٹنڈنٹ داسو جیل کوہستان زاہد خان بھی شامل تھے۔

کمیٹی نے سنٹرل جیل ہری پور کا کئی بار دورہ کیا اور جیل کے 2013ء سے 2016ء تک کے چار سالہ ریکار ڈ کی جانچ پڑتال کی جس کے دوران انکشاف ہوا کہ 16 قیدیوں کو جعلی اسناد اور معافی ناموں کے ذریعہ رہا کیا گیا ہے جن میں انتہائی مہارت کا مظاہرہ کیا گیا۔

(جاری ہے)

رپورٹ آئی جی جیل خانہ جات اور صوبائی حکومت کو پیش کر دی گئی جس کے بعد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے یکم مارچ 2017ء کو سپرٹنڈنٹ خالد عباس سمیت 7 افسران اور ایک وارڈر کو معطل کر کے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے گریڈ 20 کے آفیسر فرخ سیر کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے انکوائری کے احکامات جاری کئے۔

ذرائع کے مطابق معطل ہونے والے افسران اور اہلکار کے براہ راست مبینہ طور پر ملوث ہونے اور انکوائری افسر کی ملوث افسران اور اہلکار کے خلاف کارروائی کی سفارش کے باوجود بھی صرف ڈپٹی سپرٹنڈنٹ زمان خان بابر کو جبری ریٹائر کر کے دیگر میں بعض کو وارننگ اور بعض کو بغیر کارروائی کے چھوڑ دیا گیا اور ان کے خلاف کوئی باقاعدہ کارروائی نہیں کی گئی حالانکہ وہ محکمانہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی میں ملوث تھے اور نہ ہی جعلی اسناد اور معافی ناموں کے ذریعہ رہا ہونے والے قیدیوں کو واپس لانے کیلئے کوئی خاص منصوبہ بندی کی گئی، کاغذات کی خانہ پری کیلئے ڈی پی اوز کو خطوط لکھ دیئے گئے۔

ذرائع کے مطابق صرف ایک قیدی کو واپس سنٹرل جیل ہری پور لایا گیا جو اپنی سزا مکمل کر کے رہا ہو گیا ہے، دیگر 15 قیدی تاحال قانون کی گرفت سے باہر ہیں جن سے اس کیس کے حوالہ سے تفتیش کرنا قانون اور اس کیس کا تقاضا ہے۔ ذرائع کے مطابق نیب خیبر پختونخوا نے مذکورہ کیس کا نوٹس لیکر (آج) بدھ کو محکمانہ انکوائری رپورٹ طلب کر لی ہے جس میں اس کیس کے مزید پہلو سامنے آنے کا امکان ہے۔

متعلقہ عنوان :