پاک‘ چین اقتصادی راہداری سے چین کا 5 ہفتے کا تجارتی سفر سمٹ کر ایک ہفتے کاہو جائے گا

چین کو اپنی ٹیکنالوجی اور تجربات کو پاکستان میں استعمال کرنا چا ہیے،عرفان یوسف

پیر اپریل 17:34

لاہور۔30 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2018ء) پاک چین اقتصادی راہداری سے چین کا 5 ہفتے کا تجارتی سفر سمٹ کر ایک ہفتہ کاہو جائے گا، چین کو اپنی ٹیکنالوجی اور تجربات کو پاکستان میں استعمال کرنا چا ہیے ، گوادر پورٹ اور اقتصادی راہداری کی بدولت چین کی معیشت کو 22 بلین ڈالر کا فائدہ ہوگاکیونکہ ان کو راہداری سے تجارتی فاصلہ کافی کم پڑے گاو دونوں ممالک کے درمیان ویزہ پراسیس نہایت سادہ اور آسان ہونا چاہئے۔

ان خیالات کا اظہار فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ریجنل چیئرمین چوہدری عرفان یوسف نے چین کے شہر فوشان میں انڈسٹریل سٹی کے دورہ کے موقع پر چینی کمپنیوں کے سربرہان سے ملاقات کے موقع پر کیا۔ ایف پی سی سی آئی وفد نے چین کی مختلف شعبوں کے مینوفیکچرنگ یونٹوں کا بھی دورہ کیا، چینی کاروباری برادری کی طرف سے بزنس ٹو بزنس اورکانفرنس کا بھی اہتمام کیا گیا۔

(جاری ہے)

عرفان یوسف نے چینی کمپنیوں کے سربراہان سے ملاقات کے موقع پر امپورٹ سے متعلق پاکستانی کاروباری برادری کی شکایات پر بھی بحث اور اس کے حل کیلئے تجاویز پیش کیں۔انہوں نے مزید کہا کہ دو نوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت کے فروغ کیلئے وفود کا تبادلہ ضروری ہے، پاکستان میں 9 نئے سپیشل اکنامک زون بننے جا رہے ہیں جو 10 سال کیلئے انکم ٹیکس فری ہوں گے اور پلانٹ اور مشینری بھی ڈیوٹی فری ہو گئی۔

انہوں نے کہا کہ چین کو اپنی ٹیکنالوجی اور تجربات کو پاکستان میں استعمال کرنا چا ہیے اور مزید سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔انہوںنے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات بہت اچھے ہیں اور کافی عرصے سے ایک دوسرے کے ساتھ تجارت کرتے آرہے ہیں ،دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے اور قریب آنے کی ضرورت ہے اور تجارتی حجم کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ون بیلٹ ون روڈ منصوبے میں پاکستان کا کردار نہایت اہم ہے، دونوں ممالک اقتصادی ترقی چاہتے ہیں۔