جلسہ لاہور کا ،ْمجمع پشاور کا اور ایجنڈا کسی اور کا تھا ،ْیہ عمران خان کی اصولی سیاست کی منہ بولتی تصویر ہے ،ْ

نوازشریف ججوں نے خواجہ آصف کو بھاری دل سے نااہل کیا ،ْبھارت اور چین آپس میں دوستی کر رہے ہیں افسوس ہم نے ماضی سے کچھ نہیں سیکھا ،ْہمارے ایجنڈے کو 10، 20 سال مل جائیں تو پاکستان کی تصویر بدل سکتی ہے ،ْسابق وزیر اعظم ووٹ کو عزت دو کے نعرے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے سردھڑ کی بازی لگانے کو تیار ہوں ،ْ حالات سے گھبرانے یا ڈرنے والا نہیں ،ْ تھوڑی بہت عزت والا بھی ذلت کی زندگی نہیں گزار سکتا ،ْاب وقت وہ نہیں رہا جو ہوا کرتا تھا ،ْجو لہر چلی ہے وہ منزل تک پہنچے گی ،ْمسلم لیگ (ن)پہلے کی طرح متحد اور مضبوط ہے ،ْ عوامی نمائندے انتخابی مہم تیز کر یں ،ْ آئندہ انتخابات حکومت کی پانچ سالہ کارکردگی پر لڑیں گے ،ْاپنے منہ میاں مٹھو بننے کاشوق نہیں ،ْ حالات سب کے سامنے ہیں، 2013 اور 2018 کے پاکستان کے حالات میں بڑا فرق ہے ،ْنیا پاکستان حق اور سچ بولنے سے بنتا ہے ،ْگالیوں سے نہیں بنتا ،ْآصف زرداری اور پرویزمشرف دہشت گردی کے خلاف کھڑے نہیں ہوئے ،ْیہ لوگ ڈرتے تھے ،ْ تھر میں بچے بھوک سے مررہے ہیں، کراچی میں کوڑے کے ڈھیر لگے ہیں ،ْ زرداری صاحب آپ بھی احتساب سے نہیں بچ سکتے ،ْاس شخص کوچیئرمین سینیٹ بنایاگیا جس کو اس کے ہمسائے بھی نہیں جانتے،ہمارے اگلے 70 سال پچھلے جیسے نہیں ہونے چاہئیں ،ْسابق وزیر اعظم محمد نوازشریف کی میڈیا سے بات چیت ،ْ کارکنوں اور رہنمائوں سے خطاب

پیر اپریل 18:04

جلسہ لاہور کا ،ْمجمع پشاور کا اور ایجنڈا کسی اور کا تھا ،ْیہ عمران خان ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2018ء) سابق وزیراعظم نواز شریف نے پاکستان تحریک انصاف کے لاہور میں ہونے والے جلسہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاہے کہ جلسہ لاہور کا ،ْمجمع پشاور کا اور ایجنڈا کسی اور کا تھا ،ْیہ عمران خان کی اصولی سیاست کی منہ بولتی تصویر ہے ،ْججوں نے خواجہ آصف کو بھاری دل سے نااہل کیا ،ْہمارے ایجنڈے کو 10، 20 سال مل جائیں تو پاکستان کی تصویر بدل سکتی ہے ،ْبھارت اور چین آپس میں دوستی کر رہے ہیں، افسوس ہم نے ماضی سے کچھ نہیں سیکھا ،ْووٹ کو عزت دو کے نعرے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سردھڑ کی بازی لگانے کو تیار ہوں ،ْ حالات سے گھبرانے یا ڈرنے والا نہیں ،ْ تھوڑی بہت عزت والا بھی ذلت کی زندگی نہیں گزار سکتا ،ْاب وقت وہ نہیں رہا جو ہوا کرتا تھا ،ْجو لہر چلی ہے وہ منزل تک پہنچے گی ،ْمسلم لیگ (ن)پہلے کی طرح متحد اور مضبوط ہے ،ْ عوامی نمائندے انتخابی مہم تیز کر یں ،ْ آئندہ انتخابات حکومت کی پانچ سالہ کارکردگی پر لڑیں گے ،ْاپنے منہ میاں مٹھو بننے کاشوق نہیں ،ْ حالات سب کے سامنے ہیں، 2013 اور 2018 کے پاکستان کے حالات میں بڑا فرق ہے ،ْنیا پاکستان حق اور سچ بولنے سے بنتا ہے ،ْگالیوں سے نہیں بنتا ،ْآصف زرداری اور پرویز مشرف دہشت گردی کے خلاف کھڑے نہیں ہوئے ،ْیہ لوگ دہشتگردوں سے ڈرتے تھے ،ْ تھر میں بچے بھوک سے مررہے ہیں، کراچی میں کوڑے کے ڈھیر لگے ہیں ،ْ زرداری صاحب آپ بھی احتساب سے نہیں بچ سکتے ،ْاس شخص کوچیئرمین سینیٹ بنایاگیا جس کو اس کے ہمسائے بھی نہیں جانتے،ہمارے اگلے 70 سال پچھلے جیسے نہیں ہونے چاہئیں۔

(جاری ہے)

پیر کو احتساب عدالت میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں میاں نوازشریف نے پاکستان تحریک انصاف کے لاہور میں ہونے والے جلسہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جلسہ لاہورکا، مجمع پشاور کا، ایجنڈا کسی اور کا تھا، یہ ہے عمران خان کی اصولی سیاست اور اس کی منہ بولتی تصویر، ہم ہولو نعرے پچھلے کئی سالوں سے سن رہے ہیں تاہم جب واسطہ پڑا تو پتا چلا، جو کچھ خیبرپختونخوا میں کیا دنیا کو پتا لگ گیا، اس کے مقابلے میں جو مرکز اور پنجاب میں ہوا کوئی مقابلہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج پنجاب دیکھیں، پھر سندھ،، کے پی کے اور بلوچستان دیکھیں، لاہور دیکھیں اور دیگر شہر دیکھیں، دور دور تک کوئی مقابلہ اور موازانہ نظر نہیں آتا، فرق صاف ظاہر ہے، (ن) لیگ جب بھی آئی ہمیشہ ترقی کے ایجنڈے پر عمل کیا، آج ملک میں انفرا اسٹرکچر بن رہا ہے، اسلام آباد میں نیا ائیرپورٹ دیکھ کر دل خوش ہوتا ہے ،ْمیں اس کا افتتاح نہیں کرسکا، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تاہم اس میں ہماری خدمات ہیں، ملک کی ترقی اور خوشحالی ہے۔

سابق وزیراعظم نے کہاکہ ہمارے ایجنڈے کو دس بیس سال مل جائیں تو ملک کی تصویر بدل سکتی ہے، ایک نیا پاکستان بن جاتا تاہم یہاں کام کرنے کون دیتا ہے ،ْ ٹانگیں کھینچنے والے کھینچتے رہے ،ْکبھی کوئی صدر، کبھی فوجی ڈکٹیٹر۔۔نوازشریف نے کہا کہ یہ مصنوعی فیصلہ ہورہا ہے، اس پر عملدرآمد ممکن ہی نہیں ،ْ جو اس طرح کے فیصلے دے رہے ہیں وہ پچھتائیں گے کیونکہ یہ پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے، 70 سالوں میں یہی کچھ ملک میں دیکھا، کسی ہمسایہ ملک میں اس طرح کے مناظر نہیں دیکھے، بنگلا دیش میں بھی یہ مناظر نظر نہیں آتے ،ْ ہماری کہانی بہت دکھی افسوسناک ہے، دعا ہے اللہ ہمارا مستقبل اچھا کرے۔

مفتاح اسماعیل کے بجٹ پیش کیے جانے سے متعلق سوال پر (ن) لیگ کے قائد نے کہا کہ میں کیا کہہ سکتا ہوں۔قبل ازیں احتساب عدالت میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے نوازشریف نے کہا کہ مجھے اقامے پر ناہل کیا گیا اور ججوں نے خواجہ آصف کو بھاری دل سے نااہل کیا ،ْمجھے خوشی ہے میرے دل پر کوئی بوجھ نہیں۔ایک سوال کے جواب میں نوازشریف نے کہا کہ بھارت اور چین آپس میں دوستی کر رہے ہیں، افسوس ہم نے ماضی سے کچھ نہیں سیکھا۔

احتساب عدالت میں پیشی کے بعد سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کی زیر صدارت مسلم لیگ (ن) کے عوامی نمائندوں کا اجلاس ہوا جس میں شہبازشریف، ،ْ سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز اور اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے صاحبزادے حمزہ شہباز نے شرکت کی۔اس موقع پر سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہاکہ حالات سے گھبرانے یا ڈرنے والا نہیں ہوں، مسلم لیگ (ن) پہلے کی طرح متحد اور مضبوط ہے، آئندہ انتخابات حکومت کی پانچ سالہ کارکردگی پر لڑیں گے لہذا عوامی نمائندے انتخابی مہم کو تیز کر دیں۔

نواز شریف نے کہا کہ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ پورے ملک میں مقبولیت حاصل کر چکا ہے اور مسلم لیگ (ن) کو جلسوں میں زبردست پذیرائی مل رہی ہے اور آئندہ انتخابات میں عوامی عدالت سے بھی سرخرو ہوں گے انہوںنے کہاکہ رمضان سے قبل 10 شہروں میں بڑے جلسوں کا پلان ترتیب دیا ہے تاہم رمضان المبارک کے بعد بھرپور مہم شروع کرینگے ۔انہوںنے کہاکہ کراچی میں امن و امان کا کریڈٹ بھی مسلم لیگ (ن) کو جاتا ہے ،ْ سی پیک منصوبہ عوام کے لیے ہماری حکومت کا تحفہ ہے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں اپنے منہ میاں مٹھو بننے کاشوق نہیں لیکن حالات سب کے سامنے ہیں، 2013 اور 2018 کے پاکستان کے حالات میں بڑا فرق ہے، انہوںنے کہاکہ آصف زرداری اور پرویز مشرف دہشت گردی کے خلاف کھڑے نہیں ہوئے، یہ لوگ دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہونے سے ڈرتے تھے جبکہ سندھ حکومت نے کراچی والوں سے ووٹ لیا لیکن کچھ نہیں کیا بلکہ جو کیا ہم نے کیا، کراچی میں امن قائم کرنا سندھ حکومت کا فرض تھا لیکن انہوں نے ایسا نہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ کے فیصلے سے پہلے ہم نے کراچی میں امن کا فیصلہ کیا، ہم نے فیصلہ کیا کہ کراچی کو چوری، بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ سے پاک کرنا ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ کیا سرخاب کے پر ہمیں ہی لگے ہیں ہم آئیں گے اور ملک کے حالات بہتر کریں گے، صرف عمران خان نہیں سندھ والے بھی بتائیں انہوں نے وہاں کیا کیا، تھر میں بچے بھوک سے مررہے ہیں، کراچی میں کوڑے کے ڈھیر لگے ہیں، زرداری صاحب آپ بھی احتساب سے نہیں بچ سکتے، عوام کی خدمت کی اسی لیے مجھے نا اہل کردیا گیا، ہفتے میں 5،5 پیشیاں بھگت رہاہوں، خدمت کا صلہ مل رہاہے۔

انہوں نے کہا کہ سینیٹ میں بکے ہوئے اور خریدے گئے لوگ پہنچ گئے ہیں، اس شخص کوچیئرمین سینیٹ بنایاگیا جس کو اس کے ہمسائے بھی نہیں جانتے، جو کچھ سینیٹ میں ہوا، اب قومی اسمبلی میں کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، یہ جو لوٹے کھڑے ہورہے ہیں انہیں انتخابات میں عبرت کا نشان بنادیں گے۔سابق وزیر اعظم نے واضح کیا کہ ووٹ کو عزت دو کے نعرے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سردھڑ کی بازی لگانے کو تیار ہوں اور فیصلہ کرلیا ان ہتھکنڈوں کے سامنے نہیں جھکوں گا۔

(ن) لیگ کے قائد نے عمران خان کا نام لیے بغیر کہا کہ آپ قوم کو دھوکا دے رہے ہیں، آپ کہہ رہے تھے نیاپاکستان بنائیں گے، کیا نیا پاکستان جھوٹ اور منافقت سے بنتا ہے، سندھ والوں سے کہتا ہوں کہ پنجاب کے ساتھ موازنہ کرلیں۔ نوازشریف نے کہا کہ زرداری صاحب آپ پر بھی ملک کو اندھیرے میں دھکیلنے کا الزام ہے۔اس موقع پر نوازشریف نے کارکنوں اور رہنمائوں سے کہاکہ اگر آپ میرا ساتھ دوگے تو لازماً یہ جنگ جیتیں گے، اگر ہم پیچھے ہٹے تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کریگی ،ْ 70 سالہ تاریخ کو نیا رخ دینے کا وقت آگیا ہے، ہمارے اگلے 70 سال پچھلے جیسے نہیں ہونے چاہئیں۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ بہت پر امید ہوں، عوام دل و جان کے ساتھ ساتھ دیں گے ،ْہمیں اب پچھے نہیں ہٹنا چاہیے، عوام آگے بڑھنے کیلئے تیار ہیں، اب وقت وہ نہیں رہا جو ہوا کرتا تھا اب جو لہر چلی ہے وہ منزل تک پہنچے گی۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ یقینا مشکلات میں ہوں ،ْاب فیصلے کا وقت آگیا ہے، تھوڑی بہت عزت والا بھی ذلت کی زندگی نہیں گزار سکتا ،ْاب اس سے زیادہ کیا ہوگا ،ْ ممکن ہے ایسا کوئی فیصلہ سنادیں اور مجھے سزا سنادیں، لیکن میں گھبراتا نہیں۔

نواز شریف نے کہا کہ قوم کو دھوکا دیا جارہا ہے ،ْنیا پاکستان حق اور سچ بولنے سے بنتا ہے ،ْگالیوں سے نہیں بنتا۔انہوں نے بتایا کہ ان کے خلاف رائے ونڈ کی سڑک چوڑی کرنے کا مقدمہ تیار کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہاکہ امریکی صدر کلنٹن نے ایٹمی دھماکے نہ کرنے کیلئے 5 ارب ڈالر دینے کی پیشکش کی تھی جو انہوں نے مسترد کی تھی۔۔نوازشریف نے کہا کہ اگر وہ خود غرض یا لالچی ہوتے تو پیسے لے لیتے اور دھماکے نہ کرتے ،ْوہ کسی سے مدد یا خیرات نہیں لے سکتے تھے۔