صہیونی ریاست نے چار فلسطینی شخصیا ت کے اقامے حتمی طورپر منسوخ کردیئے

پیر اپریل 18:22

مقبوضہ بیت المقدس (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2018ء) صہیونی ریاست نے مقبوضہ بیت المقدس سے تعلق رکھنے والی چار سرکردہ سیاسی شخصیات کے اقامے حتمی طورپر منسوخ کردیے ہیں جس کے بعدوہ القدس کی شہریت کے حق سے محروم ہوگئے ہیں۔انسانی حقوق ذرائع کے مطابق قابض صہیونی حکام نے بیت المقدس سے تعلق رکھنے والے تین منتخب ارکان اسمبلی اور ایک سابق وزیر پر ریاست کے خلاف ’بغاوت‘ کا الزام عائد کیا ہے اور اس الزام کے تحت ان کے القدس کے اقامے حتمی طورپر منسوخ کردیئے گئے ہیں۔

فلسطینی قانوندان فادی القواسمی نے کہا کہ اسرائیلی وزیر داخلہ اریہ درعی نے فلسطینی پارلیمنٹ کے القدس سے منتخب رکن محمد ابو طیر، احمد عطون، محمد طوطح اور سابق وزیر برائے القدس خالد ابو عرفہ کو اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کی ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لینے پر بغاوت کا ملزم قرار دیا ہے۔

(جاری ہے)

اسی الزام کے تحت ان چاروں کے القدس کے اقامے منسوخ کرتے ہوئے ان کی القدس کی شہریت حتمی طورپر سلب کرلی ہے۔

یاد رہے چاروں فلسطینی شخصیات کو اسرائیل نے چند سال قبل اس وقت بیت المقدس سے بے دخل کردیا تھا جب وہ حماس کے پارلیمانی بلاک ’اصلاح وتبدیلی‘ کی ٹکٹ پر فلسطینی پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ وہ غرب اردن میں عارضی طورپر قیام پذیر ہیں اور انہوں نے اپنی بے دخلی کے خلاف اسرائیلی عدالت میں اپیل کی تھی۔ گزشتہ برس عدالت نے ان کے حق میں فیصلہ دیا مگر اسرائیلی پراسیکیوٹر جنرل نے وہ فیصلہ یہ کہہ کر معطل کرادیا کہ اس حوالے سے پارلیمنٹ میں قانون سازی کی جا رہی ہے۔