اسرائیلی فوج کی وحشیانہ کارروئیوںمیں پرامن مظاہرین کی ہلاکتیں جنگی جرائم ہیں، مراکشی کمیٹی

صہیونی فوج کی انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پر عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی ناقابل قبول ہے، فلسطینی مظاہرین کے قتل عام کی تحقیقات کی جائیں ، کمیٹی کا مطالبہ

پیر اپریل 18:22

رباط (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2018ء) افریقی عرب ملک مراکش میں اسرائیلی بائیکاٹ کیلئے سرگرم ’مراکشی کمیٹی برائے نصرت مسائل امہ‘ کی طرف سے جاری بیان میں فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی وحشیانہ کارروائیوں میں پرامن مظاہرین کی ہلاکتوں کو جنگی جرم قرار دیا ہے۔ کمیٹی نے غزہ میں نہتے مظاہرین کے قتل عام کی جامع تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے تشدد میں ملوث صہیونی عناصر کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کا حکم دیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ غزہ کی پٹی میں حق واپسی کیلئے احتجاج کرنے والے فلسطینیوں کیخلاف قابض صہیونی فوج کا وحشیانہ تشدد انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے زمرے میں آتا ہے اور اس پرعالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی ناقابل قبول ہے۔

(جاری ہے)

مراکشی کمیٹی نے کہا کہ غزہ کی مشرقی سرحد پر جمع ہونے والے فلسطینی مظاہرین اور ان کی تحریک عالمی برادری اور اسرائیل کے لیے ایک واضح پیغام ہے۔

اس تحریک کے دوران اسرائیلی فوج نہتے فلسطینیوں کے خلاف طاقت کا استعمال کرکے جنگی جرائم کی مرتکب ہو رہی ہے۔ اس پر عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی بھی قابل مذمت ہے۔کمیٹی نے مراکشی حکومت پر بھی زور دیا ہے کہ وہ فلسطینی مظاہرین کا قتل عام روکنے کیلئے مسلمان اور عرب ممالک کے ذریعے اسرائیل پر دباؤ ڈالے۔